اسلام کی آفاقی وعالمگیر تعلیمات
شریعت اسلامیہ ایک آفاقی شریعت ہے, اسمیں ان سارے حالات سے نپٹنے کے لئے ہدایات وارشادات موجود ہیں, جو بنی نوع انسان پر طاری ہوتے ہیں, یا ہوسکتے ہیں,جہاں معروف اور عام حالات میں نصوص شریعت کی ارشادات پر عمل کرنا لازم ہے, وہیں پر ضرورت واضطرار کو دیکھتے ہوئے ایسی گنجائشیں معتبر ہیں جن کی روشنی میں شریعت کے مقاصد خمسہ کی رعایت ہوسکے, حفظ نفس کے لئے مردار کا گوشت کھانے کی اجازت, قحط کے وقت چوری کی سزا ہاتھ کاٹنے کی عدم تنفید جیسی ڈھیر ساری مثالیں ہیں, جنہیں اسلام کی افاقیت کی تعبیر کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے.
حالات حاضرہ میں بھی جمعہ اور جماعتوں کو ترک کر گھروں میں نمازوں پر اکتفاء کرنا , حرمین شریفین میں عمرہ کو وقتی طور پر موقوف کرنا, اورانسانی جان کی حفاظت کے لئے صفوف میں فاصلہ, اور نمازیوں کے درمیان فاصلہ, اور دوری بناکر نماز کی ادائگی اسی آفاقیت اور ہمہ گیریت کا مظہر ہے, مملکت سعودی عرب کے حالیہ فیصلے کو جس میں کہا گیا ہے کہ اس سال کوفید ۱۹ کے خطرے کو دیکھتے ہوئے صرف اندرون مملکت کے حاجیوں پر ہی اکتفاء کیا جائے گا, اور نہایت محدود پیمانے پر حجاج کرام کو حج کی اجازت ملے گی, یہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہےتاکہ ملک یا بیرون ملک سے آنے والے زائرین کی جانوں کو خطرہ سے محفوظ رکھا جا سکے, کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ( ولا تقتلوا انفیکم, إن اللہ کان بکم رحیما) اپنے نفسوں کو قتل نہ کرو, یقینا اللہ تم پر بہت رحیم ہے, دوسری جگہ فرمایا: (ولا تلقوا بأیدیکم إلی التہلکۃ) اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو, نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (لا ضرر ولا ضرار) نہ نقصان اٹھاؤ, اور نہ کسی کو نقصان پہونچاؤ, مزید فرمایا: ( فر من المجذوم فرار ک من الاسد) مجذوم سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو, مزیدفرمایا: ( لا یُورِدُ ممرضٌ علی مصح) یعنی مریض اونٹوں والا صحیح سالم اونٹوں کے پاس اپنے اونٹ نہ لائے, تاکہ مریض اونٹوں کی بیماری صحیح اونٹوں کو نہ لگ جائے, گویا جہاں من جانب اللہ متعدی مرض سے متاثر ہونے کا خوف ہو, وہاں پر اطباء کے ارشادات کی روشنی میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا عین شریعت ہے, کیونکہ خود شریعت اسلامیہ میں اس کی گنجائش موجود ہے.
بالخصوص اس مرض میں جس کی علامتیں ایک مریض میں بہت جلد ظاہر نہیں ہوتیں, بلکہ بسا اوقات مریض اپنے جسمانی دفاعی سسٹم کی مضبوطی کی بنیاد پر خود تو صحیح ہوجاتا ہے, البتہ دوسروں کو متأثر کر جاتا ہے, قبل ازقت احتیاطی تدبیریں اختیار کرنا از حد ضروری ہے, شاید دنیا کو کوئی ہی ایسا ملک ہوگا, جو ان طبی احتیاطات کا استعمال نہیں کر رہا ہو, ایسی صورت میں سعودی عرب کا یہ فیصلہ کہ حج بیت اللہ کے لئے صرف داخلی حاجیوں کو اجازت دی جائے نہایت دانش مندانہ فیصلہ ہے, تاکہ حج بیت اللہ بھی موقوف نہ رہے, اور مسلمانوں کی زندگی بھی حج کے اجتماع کی وجہ سے خطرے میں نہ پڑے, اب سوال یہ ہے کہ کیا بیت اللہ کا حج تاریخ میں کبھی اس طرح کے عظیم خطرات کے پیش نظر موقوف ہوا ہے, تو آپ کے علم کے لئے بتلاتا چلوں, کہ سیاسی خطرناک حالات, وباؤں اور امراض , امن وامان کے فقدان, اقتصادی ناقابل برداشت حالات, مہنگائی جیسے اسباب کی وجہ سے تقریبا ماضی میں چالیس مرتبہ حج موقوف ہوا ہے, اور وہ بھی عین تقاضائے شریعت تھا, یعنی اگر ایسے حالات بھی آجائیں جن میں حج کو کچھ دنوں کے لئے موقوف کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو, تو اسے موقوف بھی کیا جا سکتا ہے, اس پر کچھ کنڈیشنل پابندیاں عائد کرنے میں تو کوئی حرج کی بات ہے ہی نہیں, اب میں چند ان حادثات کو یہاں بیان کرتا ہوں, جن میں انسانی جانوں کے ضیاع کی وجہ سے حج کو معطل ہی کرنا پڑا, ملاحظہ کیجئے:
۱-۳۱۷ ھ میںابو طاہر القرمطی نے آٹھ ذی الحجہ کو خانہ کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوکر اعلان کیا: (اجہزوا علی الکفار, عبدۃ الاحجار,ودکوا ارکان الکعبۃ, واقتلعوا الحجر الاسود) یعنی ان پتھروں کے پجاری کافروں پر ٹوٹ پڑو, کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجادو, حجر اسود کو اکھاڑ ڈالو) اس طے بعد تقریبا تیس ہزار ہاجیوں قتل کیا, اور تقریبا تین ہزار حاجیوں کا قتل کربئر زمزم میں پھینک دیا, اس حادثے کے بعد تقریبا دس سال حج معطل رہا.
۲-سنہ ۳۵۷ھ میں مکہ کے اندر ماشری نام کی ایک وباء پھیلی, یہ وباء بہت سارے حاجیوں کی موت کی سبب بنی, حتى کہ مارے پیاس کے ان کے اونٹ بھی مر گئے, اور حج کی ادائیگی کے بعد اکثر حاجی اپنے گھر ہی نہیں لوٹ پائے.
۳-۴۱۹ ھ میں سخت مہنگائی, او ربرے مالی حالات کے پیش نظر خارجی کوئی بھی حاجی مکہ نہیں پہونچ سکا.
۴-۴۲۹ ھ میں مسلم علاقوں کے حالات ایسے بنے کہ مکہ کی سرزمین پر کوئی بھی حاجی نہ پہونچ سکا.
۵-۶۵۴ اور ۶۵۸ کے درمیان ایسی جنگی حالت پیدا ہوئی, جس کی وجہ سے حجاز کے حاجیوں کے علاوہ کوئی بھی خارجی حاجی مکہ نہ پہونچ پایا.
۶-۱۲۱۳ھ میں فرنسیسی حملے کے پیش نظر کوئی بھی حاجی مکہ نہ پہونچ سکا, چونکہ مکہ کا راستہ پر امن نہیں تھا.
اسی طرح سے اور بہت سارے حالات عالم اسلام پر گزرے جن میں مسلمان اس فریضہ سے محروم رہ گئے, اب یہ ہرگز نہیں کہا جاسکتا کہ چونکہ اللہ نے موت کو مقدر کر رکھا ہے, اس لئے کسی طرح کی حالت بھی ہو, حج موقوف یا محدود نہیں ہونا چاہئے, اور اگر حج موقوف ہوتا ہے, تو یہ توکل کے خلاف ہے , بلکہ یہی عین توکل ہے کہ مخصوص حالات میں مخصوص تدبیریں استعمال کرحج کو مامون او رآسان بنایا جائے.
حالیہ حکومت الحمد للہ اس فریضہ کی آسانی میں بڑی شد ومد سے لگی ہوئی ہے, ہر سال نئی نئی سہولتیں دیکھنے کو ملتیں ہیں, بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ خلافت راشدہ کے بعد اگر حرمین شریفین کی زیات, اور حج بیت اللہ کو جتنا آسان, اور پاک وصاف اس حکومت نے بنایا ہے, تو شاید غلط نہ ہوگا, اللہ تعالى مملکت توحید کی حفاظت فرمائے, اسے دین کی خدمت کی مزید توفیق بخشے, اسلامی ممالک کو بالخصوص, او رپوری دنیا کو بالعموم وباؤں سے محفوظ رکھے, اور بیت اللہ شریف کو ہمیشہ شاد وآباد رکھے. آمین.
آپ کا ردعمل کیا ہے؟