جذبہ ایثار کی نادر مثال حضرت ثابت بن قیس بن شماش
از قلم ساجد ولی
صحابہ کرام کا تصور آتے ہی, ذہن میں ایسے پاکیزہ نفوس کا تصور گھومنے لگتا ہے, جنہوں نے اپنے جذبہ ایثا ر , قربانیوں, تلاش حق کی لگن, خشیت الہی, او رآخروی فوز وفلاح کی ایسی نادر مثالیں پیش کیں, جن کا تصور بھی اس زمانے میں بسا اوقات مشکل ہوجاتا ہے, انہیں مثالوں میں سے ایک مثال ثابت بن قیس بن شماس کی وہ داستان ہے, جسے تاریخ اسلام کی زینت سمجھا جاتا ہے, او رجسے سن کر انسانیت کے لا محمدود مفہوم کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے, اور یہ سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کہ آخر ان نفوس قدسیہ کو دنیا ہی میں جنت کی بشارت کیسے مل گئی, اور کیوں انہیں ان دین کی خدمت کے لئے چنا گیا.
صحیح روایتوں میں یہ واقعہ مذکور ہے, مدینہ کے اندر ایک مسلمان تین دن تک لگاتار روزے کی حالت میں رہا, شام ہوتی افطار کے لئے کچھ نہیں پاتا تو صبح روزے کی نیت کرلیتا, اسی دوران ایک انصاری صحابی کو اس کا علم ہوا, جس کا نام نامی ثابت بن قیس تھا, انہوں نے اپنی بیوی سے کہا آج کے دن میں ایک مہمان ساتھ لاؤنگا, جب تم کھانا سجادو, تو کھانے کے وقت تم چراغ کو گل کر دینا, اور یہ محسوس نہیں ہونے دینا کہ تم نے جان بوجھ کر چراغ بجھایا ہے, ایسا ہی ہوا, آپ مہمان کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ گئے, مہمان کھانہ کھاتا رہا, آپ خالی ہاتھ چلاتے رہے, گویا کھانہ کھا رہے ہیں, مہمان شکم سیر ہوگیا, مگرخود کچھ نہیں کھایا, میاں بیوی بھوکے ہی سوگئے, کیوں کہ گھر میں اس کےعلاوہ کچھ تھا ہی نہیں, کہ اپنی بھوک بجھا سکتے,جب صبح ہوئی, اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے, تو آپ نے فرمایا: ( لقد عجب اللہ البارحۃ منکم ومن ضیفکم) آج کی رات تم اور تمہارے مہمان پر اللہ نے تعجب کیا, اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ( لقد ضحک اللہ ما فعلت بضیفک البارحۃ) آج رات تم نے جو اپنے مہمان کے ساتھ جوحسن سلوک کیا ہے, اس پر اللہ تعالی پاک نے ہنسی فرمائی , اور اسی واقعہ کے بعد یہ آیت نازل ہوئی: ( ویوثرون علی انفسہم ولوکان بہم خصاصہ) یعنی وہ دوسروں کو اپنے اوپر فوقیت دیتے ہیں,گرچہ انہیں خود بھوک لگی ہوتی ہے.
یہ او ران کے رفیقان باصفا صحابہ کرام نے ناقابل فراموش قربانیاں پیش کیں ہیں, آپ ہی کے متعلق آتا ہے کہ ایک مرتبہ بنو تمیم کا وفد اللہ کے نبی کے پاک آتا ہے, اور کچھ باتوں پر آپ کے سامنے فخر کرتا ہے, تو آپ نے ثابت بن قیس بن شماش رضی اللہ تعالی ہی سے فرمایا: اٹھو ان کے خطیب کا جواب دو, آپ نے اس کا جواب دیتے ہوئے آپ نے ایسی فصیح وبلیغ گفتگو کی کہ آپ نہایت خوش ہوئے, یہی وہ صحابی ہیں جنہیں اللہ کے نبی نے فرمایا تھا, تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جن کاذکر قرآن کی اس آیت میں ہوا (إن اللہ لا یحب کل مختال فخور) یعنی بلا شبہ اللہ کسی بھی اترانے والے متکبر کو پسند نہیں فرماتا, بلکہ تمہاری زندگی بھی بہتر گزرے گی, موت بھی بہتر طریقے سے ہوگی, اور اللہ تمہیں جنت میں داخل فرمائیں گے, اسی طرح سے جب قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی ( یا ایہا الذین آمنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی , ولا تجہروا لہ بالقول کجہر بعضکم لبعض)یعنی اے مومنو! تم اپنی آوازوں کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرو, اور نہ اس طرح سے ان سے تیز گفتگو کرو, جیسا آپس میں کرتے ہو, آپ کی آواز فطری طورسے بلند تھی, آپ کو بہت خوف لاحق ہوا, آپ اس بات سے ڈرنے لگے کہ کہیں میری نیکیاں برباد نہ ہوجائیں, جب یہ آیتیں نازل ہو ئیں تو آپ گھر میں محصور ہوگئے, اور سوائے فرض نمازوں کے لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا, رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم نے ایک صحابی کو ان کی حالت دریافت کرنے بھیجا, تو گھر کے اندر بڑے غم کی حالت میں سر لٹکائے ہوئے پائے گئے, اس صحابی نے ان سے دریافت کیا ابو محمد کیا ہوا ہے؟ کہنے لگے: بہت برا ہوا, انہوں نے دریافت کیا بتلائیں تو کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا, تم جانتے ہو, میری آواز فطری طور پر بلند ہے, اکثر بقوت گفتگو میری آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر بلند ہوجاتی ہے, قرآن میں جو ہدایت آئی ہے, وہ تو آپ کو معلوم ہی ہے, مجھے لگتا ہے, کہ میری اس گستاخی کی وجہ سے میری نیکیاں ضائع ہوگئیں, ہیں, اور میں جہنمی ہوگیا ہوں, یہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے, او رآپ کو جو دیکھا وہ بتلایا, تو آپ نے اس کو کہہ کر بھیجا کہ جاؤ, ان سے کہنا: تم جہنمی نہین ہو, بلکہ جنتی ہو, ایک دوسری روایت میں یا الفاظ ہیں کہ آپ نے ان سے کہا (انک لست منہم, بل تعیش حمیدا, وتقتل شہیدا, ویدخلک اللہ الجنۃ) یعنی تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو, بلکہ تمہاری زندگی اچھی ہوگی, آپ کی موت شہادت کی موت ہوگی, اور اللہ تعالی تمہیں جنت میں داخل فرمائیں گے.
ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس نہایت اچھے انسان تھے, کتنی مرتبہ انہیں اللہ کے نبی جنت کی بشارت دی تھی, یہی وہ صحابی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن کی تیمارداری کرتے ہیں, اور یہ دعا پڑھتے ہیں ( اکشف الباس, رب الناس عن ثابت بن قیس بن شماس) پھر کچھ مٹی لے کر اسے پانی کے پیالے میں ڈال دیتے ہیں اور اس پردم کرکے آپ کے اوپر چھڑک دیتے ہیں.
محمد بن جریر بن یزید کا بیان ہے کہ مدینہ کے بزرگوں نے انہیں بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا کہ آپ نے نہیں دیکھا کہ گزشتہ رات ثابت بن قیس بن شماس کا گھر آج رات بھر چراگاں رہا, آپ نے فرمایا: شاید کہ انہوں نے سورۃ البقرۃ کی تلاوت کی ہوگی, آپ سے پوچھا گیا, تو آپ نے بتلایا کہ میں نے رات سورۃ البقرۃ کی تلاوت کی تھی.
آپنى یمامہ میں مسیلمہ الکذاب سے بہادروں کی طرح لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا, اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشن گوئی آپ کے بارے میں سچ ثابت ہوئی, کہ تم ( بہتر زندگی جیو گے, اور شہیدوں کی موت مروگے...) اللہ تعالی ان پاکیزہ نفوس کو اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کا بہتر بدلہ عطا فرمائے, اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے, آمین , وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم.
آپ کا ردعمل کیا ہے؟