غیر مسلم قیدیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ
از ساجد ولی
اگر ہم عالمی وضعی قوانین کا مطالعہ کریں, تو ہمیں ان کے اندرجنگی صورت حال میں قید وبند کی اجازت پر اتفاق نظر آئیگا, اور یہ بھی ملے گا, کہ مصلحت عامہ کے مد نظر بوقت ضرورت قانون کی خلاف ورزی کرنے والےسماجی عناصر کی نفسیاتی تربیت اور ان کے موذی اثرات سے ماحولیات کو محفوظ رکھنے کی خاطر قید واسر کو سزا کے طور پر بھی نافذ کیا جا سکتا ہے, جس سے ہمیں اس بات کا پتہ چلتا ہے, کہ کسی بھی معقول سبب کے چلتے انسان کو پابند سلاسل کر دینا کوئی غیر فطری تصرف نہیں, اور نہ ہی عقول سلیمہ کے تقاضے کے خلاف ہے, اسلام چونکہ اس دنیاوی سماج میں رونما ہونے والے ہر حادثے کا صحیح رخ متعین کرتا ہے, اور اس کے متعلق مناسب اور مفید قانون وضع کرتا ہے, اسی لئے ہمیں اس باب میں بھی اسلام کی اعلى اخلاقیات پر مبنی ایسی محکم تعلیمات ملتیں ہیں, جن میں رفق ولطف واضح طور پر معکوس نظر آتے ہیں, اور یہ تصور بڑی قوی شکل میں ذہن کی دہلیز پر دستک دیتا ہے, کہ اسلام ہر حال میں انسان کی اصلاح کو مد نظر رکھتا ہے, اور اس اصلاح کے لئےبڑی لطیف اور مشفقانہ ہدایات صادر فرماتا ہے.
یہاں ایک بات اور غور کرنے کی ہے, کہ اسلام نے اپنے عدل وانصاف پر مبنی تعلیمات میں کہیں بھی سزا کے طور پر قید اور اسر کی مدت کا کوئی تعین نہیں کیا, بلکہ اس کو وقت کے شرعی ججوں کے حوالے کیا ہے, البتہ جنگی حالات , یا جرائم کی پاداش میں رونما ہونے والی اس قانونی حالت کو یونہی بے قانون نہیں چھوڑا, کہ جو چاہے جیسے چاہے اس حالت میں پابند سلاسل فرد پر تذلیل وتحقیر کی حدیں اپنی منشا سے متعین کرے, اور جیسے چاہے اس پر ناروا سختیاں اور ناقابل تحمل تعذیبی صورتیں لاگو کرتے ہوئے اخلاقیات کی دھجیاں اڑائے, بلکہ اس پابندی اور اسیری میں بھی اس کے انسانی حقوق کو اعتبار میں رکھا ہے, اور اس باب میں نبی پاک کی سیرت وکردار کی شکل میں ایسی قابل اتباع تطبیقی مثالیں چھوڑیں ہیں, جو یقینا اس بات پر دلالت کرتیں ہیں, کہ اسلام ہر حال میں عدل وانصاف کی اقدار کا محافظ ہے, اور مبنی بر جہالت, خطا یا عمداً انجام دئے جانے والے جرائم, یاجنگی ٹکراو کی صورت میں سامنے آنے والی اسر یا حبس کی وقتی صورت حال کو یہ ایک وسیلہ کے طور پر دیکھتا ہے, نہ کہ مقصود یا ہدف کے طور پر, اسی لئے اس کے امکان کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے خاتمے کی بھی بھرپور کوشش بھی کی ہے, اور اس ظاہرے کی شرح میں حتے الامکان کمی کی سعی محمود کی ہے.
یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے, کہ قیدی چاہے مسلم ہو, یا غیر مسلم اس کے ساتھ تعامل میں دین کی بنیاد پر امتیازی سلوکیات کو چھوڑ کر معنئے انسانیت کو ملحوظ رکھا گیا ہے, بلکہ بسا اوقات تو ایسا لگتا ہے, کہ غیر مسلم قیدی کو اسلامی کمیونٹی کی طرف لبھانے کی خاطر مزید اچھے تعامل کی تلقین کی گئی ہے, تاکہ حریت فکر کے ساتھ اسے یہ موقع مل سکے, کہ وہ اپنے رویے کو کھنگالے, اور حالت اسر میں مسلمانوں کی اخلاقیات کو دیکھ کر اسے اسلام کی حقانیت کا ادراک ہو سکے, اسی لئے رسول پاک کے زمانے میں قید واسر کی جتنی صورتیں ہیں, ان سب کا تعلق غیر مسلموں سے ہے, اور ان کے ساتھ برتا جانے والا نبوی تعامل اس بات کی واضح مثال ہے, کہ جب قید میں یا غلامی کے ذریعہ کسی کو ماتحت بنا لیا جائے تو اس تسلط کو ناروا سلوکیات واخلاقیات کا وسیلہ نہ بنایا جائے, اور نہ ہی ایسا ہونے دیا جائے کہ یہ اسیری بجائے یہ کہ معاشرے , اور اسلامی دعوت کے لئے نفع بخش نتائج سامنے لائے, مضر اور نہایت نقصان دہ واقعے میں تبدیل ہو جائے.
دور حاضر ایک ایسا دور ہے, جس میں انا اور مفادات کے حصول کی خاطر جنگ ایک تجارتی منڈی کے طور پردیکھی جا رہی ہے, امن عالم کی رٹ لگانے والی مجلس امن , اور اقوام متحدہ جیسےاداروں میں بیٹھ کر لہو نوشی کرنے والے سپر پاورس بے امنی کےلئے جن تباہ کن ہتھیاروں کی جدید کاری میں مصروف ہیں, ان کا تصور کرنا بھی ایک عام شخص کے لئے نا ممکن ہے, دور حاضر کی اسلحہ جاتی منافست سے یہ لگتا ہے, کہ یہ آج کا انسان خود تعمیر کے متعلق سنجیدہ نہیں, بلکہ ایسے حالات کا خود موجد ہے, جو طویل اور نا ختم ہونے والی جنگوں کا سبب بنتے ہیں, اسی لئے ایک معرکہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرے معرکے چھیڑنے کی خاطر واہیات علتوں اور اسباب کی تلاش شروع ہو جاتی ہے, اور ان میں قید ہونے والی معصوم جانیں صرف اختلاف رائے یا مذہب کی بنا پر تعذیبات اور تذلیل کی ان صورتوں کا مشاہدہ کرتیں ہیں, جنہیں دیکھ کر تہذیب وتمدن کی حالیہ تعریف پر شک ہونے لگتا ہے, اور یہ لگتا ہے, کہ عصر حاضر کی چکاچوند اور اجالوں سے بہتر وہ دنیا تھی, جس میں ظاہری اندھیروں کو روشنی دینے والی حالیہ ایجادات نہیں تھیں, البتہ ان کی ضمیروں میں روشنی تھی, اورباطن انسانیت کے معانی سے سرشار تھا,چھوٹی چھوٹی سی جھونپڑیوں میں انسان بسا کرتے تھے, البتہ ان کے اندر سمندروں جیسی وسعتیں تھیں.
آج کے اس پر فتن دور میں بہر صورت اس بات کی ضرورت ہے, کہ اس نام نہاد مہذب دنیا کو اسلامی تعلیمات کے ذریعہ حقیقی تہذیب کا سبق پڑھایا جائے, اور یہ بتلایا جائے کہ اختلاف رائے اور اختلاف مذہب اس بات کی علت قرار نہیں پا سکتی, کہ صاحب رائے انسانیت کی منزل سے اتر کر حیوانیت کی دہلیز سے بھی حقیر بن چکا ہے, اور اس حق سے دور جا چکا ہے, کہ اسے عزت وتقدیر کی نظروں سے دیکھا جائے, جیسا کہ اسلامی قانون بار بار اس مفہوم کو اپنی شقوں میں نمایا ں کرتا ہے, اس پس منظر میں اگر جنگی انفعالی حالت پر غور کیا جائے, جس میں مخالف آپ کے خاتمے کی نیت رکھتا ہے, اور آپ اس سے اپنی بقاء کی جنگ لڑتے ہیں, وہی جب اسیر ہو کر پابند سلاسل ہوتا ہے, تو ان کے ساتھ تعامل کے باب میں نبی رحمت نے کیسی سلوکیات کو مد نظررکھا ؟ اس سوال کے تاریخی جوابات سے آپ حیران اور ششدر ہو جائیں گے, اور ابوغریب , اور کوبا, عراق وایران, شام, ولیبیا کی اسیری میں کیسی اذیت ناک سزاؤں سے ان قیدیوں کا خیر مقدم کیا جاتا ہے - جو نہ جنگ کا حصہ ہیں, نہ ہی جنگ سے ان کا کوئی لینا دینا - دیکھ کریہ لگے گا, کہ آج کا ترقی یافتہ انسان مشینی ترقی میں مشغول ہوکر اپنے اخلاقی ارتقاءسے غافل ہو چکا ہے, اور عدل ومساوات کا ڈھول بجانے والی عالمی برادیوں کو خود عدل ومساوات سکھانے کی ضرورت ہے -اسی وجہ سے یہاں اس مقترح موضوع پر روشنی ڈالنا از حد ضروری ہے, جس کو عنوان دیا گیا ہے:" غیر مسلم قیدیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ", جس کی وضاحت اور تفصیل کے لئے مینے یہاں چند مندرجہ ذیل بنیادی شقوں کو زیر بحث رکھا ہے, تاکہ موضوع کی قدرے وضاحت ہو سکے.
-اسیر کی لغوی اصطلاحی تعریف.
-اسر اور قید کی مشروعیت.
-قید کرنے کی حکمت .
-قیدیوں کی قسمیں.
-کس طرح کے لوگوں کو قید کیا جائے؟.
-قید کرنے والے کو کس حد تک قیدی میں تصرف کا حق ہے؟
-قیدیوں کے متعلق اسلام کا نقطہ نظر.
-اسلام میں قیدی کے ساتھ تعامل اور اس کے حقوق.
-جنگ کے خاتمے کے بعد قیدیوں کے ساتھ کیا کیا جائے؟
-ان قوانین کی عملی تطبیق.
-داعش اورقیدیوں کے ساتھ اس کا سلوک.
اسیر کی تعریف:
اسیر فعیل کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے, جس کی جمع فعلى کے وزن پر اسرى آتی ہے, یہ اسر سے ماخوذ ہے, جس کے معنے قید کے آتے ہیں, چونکہ عرب قیدی کو باندھ لیا کرتے تھے, اسی لئے ہر گرفتار شخص کو چاہے اسے باندھا بھی نہ گیا ہو, اسیر کہا گیا, جیسا قید یا جیل میں نحبوس شخص کو بھی قیدی کہا گیا, مجاہد اللہ کے قول کی تفسیر میں فرماتے ہیں: {وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا} [الإنسان:8] الأَْسِيرُ: الْمَسْجُونُ یعنی اسیر مسجون شخص کو کہا جاتا ہے. (لسان العرب، والصحاح، والقاموس باب الراء فصل الألف.)
اصطلاح میں اسیر کا اطلاق – جیسا کہ ماوردی فرماتے ہیں – ان لوگوں پر ہوتا ہے, جو کافروں میں سے مقاتلین افراد زندہ مسلمانوں کی قید میں آجائیں.( الأحكام السلطانية ص 131 ط أولى سنة 1380 هـ). یہ تعریف چونکہ قیدیوں کی صرف ایک ہی صنف کے گرد گھومتی ہے, اس لئے یہ اغلبی تعریف ہے, اور اگر فقہاء کے استعمالات کو دیکھا جائے تو پتہ چلے گا, کہ وہ اس لفظ کا استعمال ان مقاتلین , یا مقاتلین کے حکم میں آنے والے دشمنوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے, جنہیں دوران جنگ , یا جنگ کے اختتام پر, یا جنگ کے احتمال کی صورت حالت میں پکرڑ لیا جائے.
شیخ الاسلام کا قول بھی اسی دائرے میں گردش کرتا ہے:" کہ شریعت نے کافروں کے ساتھ قتال کو واجب کیا, البتہ ان میں جن پر تسلط حاصل ہوجائے, انہیں قتل کرنے کا حکم صادر نہیں فرمایا, بلکہ اگر ان میں دوران جنگ, یا بلا جنگ جیسا کہ کوئی کشتی اسے ہمارے پاس چھوڑ دے, یا راستہ بھٹک جائے, یا اس کو کسی حیلہ سے پکڑ لیا جائے تو یہ حکم ہے, کہ حاکم وقت اس کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کریگا". (السياسة الشرعية في إصلاح الراعي والرعية ص 193 ط الثانية 1951).
فقہاء کرام اسیر کا اطلاق اس پر بھی کرتے ہیں: جو لوگ حربیوں میں سے دار اسلام میں بلا امان کے داخل ہو جائیں. ۱, اور اسی طرح ان پر بھی جو مرتد ہوجائیں, اور دوران جنگ ہماری قید میں آجائیں, جیسا کہ شیخ الإسلام فرماتے ہیں: " ان میں سے جو قید ہو جائیں, ان پر ردت کی حد نافذ کی جائیگی".(السياسة الشرعية لابن تيمية ص 92 ط الثانية، وبداية المجتهد لابن رشد 2/ 458 ط الثالثة مصطفى الحلبي).
اسی طرح فقہاء اس مسلم پر بھی اسیر کا اطلاق کرتے ہیں, جس کو دشمن پکڑ لے, ابن رشد فرماتے ہیں:" امام پر مسلم قیدیوں کو بیت المال سے جھڑانا ضروری اور واجب ہے...". (بداية المجتهد 1/ 385،388.).
یہاں یہ بھی اشارہ کرنا ضروری ہے, کہ اسر کے بہت سارے مترادف کلمات فقہی کتب میں مستعمل ہیں, جیسا کہ الرہینہ, المحبوس, السبی جن کے اندر کچھ دقیق لغوی فروق کے ساتھ قید کا معنے قدر مشترک ہے.
قیدوبند کی مشروعیت:
اللہ تعالى نے قرآن میں ارشاد فرمایا : (فإذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب حتى إذا اثخنتموہم فشدوا اوثاق, فإما مناً بعد, وإما فداءا, حتى تضع الحرب اوزارہا) (محمد ۴.)اور شد الوثاق کا مطلب قیدی بنانا, جس کا مفہوم آیت میں یہ ہے, کہ قیدی کو بڑے محکم طریقے سے رکھا جائے, تاکہ وہ بھاک نہ سکے, اور دوبارہ جنگ کرنے کے لئے لوٹ آئے, اور اس آیت میں جن قیدیوں کی طرف اشارہ ہے, یہ وہ قیدی ہیں, جو غیر مسلموں میں سے حالت جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ لگتے ہیں, البتہ سورۃ انفال کی یہ آیت اس کے منافی نہیں جس میں اللہ تعالى نے فرمایا: (مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ) الانفال ۶۷. کیونکہ اس میں مطلق قید سے منع نہیں کیا گیا. بلکہ اس میں قتال پر ابھارا گیا, ہے,( الجامع لأحكام القرآن للقرطبي 8/ 47 و 72 و 16/ 226 ط دار الكتب المصرية).
مشروعیت اسر کی حکمت:
دشمن کی طاقت کو کمزور کرنا, اس کے شر کو دور کرنا, قتال اور جنگ کے میدان سے انہیں دور رکھنا, اس کی طرف سے پہونچنے والی مصیبتوں اور تکلیفوں سے حفاظت کرنا, اور ان کے عوض مسلم قیدیوں کو چھڑانا جیسی حکتوں کی وجہ سے قید واسر کو مشروع قرار دیا گیا ہے.
البتہ اس سے بڑی حکمت قید واسر کی مشروعیت میں یہ ہے, کہ جنگ کا جلدی خاتمہ ہو جائے, تاکہ اس کی لمبی مدت تک چلتے رہنے سے قتل وغارت گری, اور اقتصادی تباہی میں اضافہ ہوگا, جیسا کہ سابق الذکر آیت پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے(فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا}(محمد،4), جس میں دو باتوں کا تذکرہ ہمیں اس استنباط کی طرف لے جاتا ہے.
۱-(فضرب الرقاب) جس سے یہ سمجھ میں آتا ہے, کہ اتنا قوی حملہ ہو, کہ دشمن اچمبے میں پڑ جائے, مصدر پر فاء کا آنا سرعت امر قتال پر دلالت کرتاہے, اور الرقاب سے جدیت کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے, کہ دشمن کے معاملے میں بلکل تہاون اور بے توجہی سے کام نہیں لینا ہے.
۲-(فشدوا الوثاق) سے اس بات کی طرف اشارہ ہے, کہ محاربین کی پسپائی کے وقت جتنا ممکن ہو سکے, اتنے فوجیوں کو قید کر لیا جائے, تاکہ دوبارہ دشمن اپنی صف بندی کر جنگ بھڑکانے میں کامیاب نہ ہو.
ان دونوں امور پر اگر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے, کہ اسلام میں نہ تو جنگ ہدف ہے, اور نہ ہی جنگ کے وقوع کی حالت میں قتل واسر ہدف ہے, بلکہ اس صورت میں بھی جنگ کے جلد اختتام کو مد نظر رکھا گیا ہے, تاکہ اس کی لمبی مدت کی صورت میں فساد اور ہلاکت میں تباہ کن مفاسد پیدا نہ ہو سکیں.
اب یہاں پر اس موضوع کی اہم شق کن لوگوں کو حالت جنگ میں قیدی بنایا جا سکتا ہے, اور كن كو نہیں؟ پر سرسری نظر ڈال لی جائے , تاکہ زیر بحث موضوع کی ضروری تفصیلات نہ چھوٹنے پائیں.
قیدیوں کی قسمیں: دشمن کی متعدد انواع کے اعتبار سے قیدیوں کی بھی کئی قسمیں ہیں, جنہیں مختصرا مندرجہ ذیل سطور میں بیان کیا جاتا ہے.
اول:حربی غیر مسلم قیدی, جو دفاعی یا اقدامی جہاد میں ہاتھ لگتے ہیں.
دوم: اسلامی حکومت سے بغاوت کرنے والی مسلم جماعت کے قیدی.
سوم:باغیوں کی مدد کرتے ہوئے غیر مسلم حربی قیدی.
چہارم: اہل فساداور راہزنی کرنے والے قیدی, جو راستے کاٹنے, اور لوٹ کھسوٹ نیز بدامنی پھیلانے کاکام کرتے ہوں.
پنجم: جرائم کی پاداش میں تعذیراً قید کئے گئے مسلم قیدی.
البتہ یہاں اس مقالے میں صرف ان قیدیوں کے متعلق گفتگو کو محصور کرنا مقصود ہے, جو بحالت جنگ محاربین غیر مسلم جنگجؤوں میں مسلمانوں کے ہاتھ لگے ہوں, کیونکہ ان کے ساتھ دشمنی اور جنگی ماحول کے چلتے حالیہ جنگوں نہایت ناروا سلوکیات اپنائی جاتیں ہیں, اور عام طور سے انسانیت سوز درندگی کا انہیں سامنا کرنا پڑتا ہے, اس کی ایک وجہ تو یہ ہے, قیدیوں کے ساتھ برتاؤ اور حقوق کا تفصیلی بیان اس مقالے میں مطلوبہ اخیار کے منافی ہے, اور دوسری وجہ یہ ہے, کہ عصر حاضر میں بعض جنگجو جماعتیںاسلام کے نام پر قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کر اسلام کی غلط تصویر دنیا کے سامنے پیش کے رہے ہیں, چنانچہ اس جانب احقاق حق کی خاطر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے.
کن لوگوں کو قیدی بنایا جائے, اور کنہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیا جائے؟
حربی دشمنوں میں سے جو بھی مسلمانوں کے ہاتھ لگے, چاہے وہ بچہ ہو, یا نوجوان, یا بوڑھا, عورت ہو یا مرد, صحت مند اور مریض سب کو قید کرنا جائز ہے, البتہ اگر کسی کے چھوڑ دینے میں کوئی ضرر نہ ہو, تو ایسے لوگوں کو چھوڑ دینے میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے, بلکہ ان کا قید کرنا جائز ہی نہیں, البتہ اس مسئلے میں فقہاء کرام کے نزدیک کچھ تفصیلات ہیں, مثلا:
مذہب حنفی اور حنبلی میں: -جن سے کوئی ضرر نہ ہو, یا ان کے قید کرنے سے کوئی جنگی یا سیاسی فائدہ نہ ہو, انہیں قید نہیں کیا جائیگا, جیسا کہ آخری عمر کو پہنچا ہوا بزرگ, اک زمانے سے مریض, نابینا, اور ایسا راہب جس کی جنگ میں کوئی رائے اور دخل نہ ہو. (المغني والشرح الكبير 10/ 404،409 ط أولى مطبعة المنار 1348 هـ).
مذہب مالکی میں: ہر اس شخص کو جو قتال میں شریک نہیں ہے, اس کو قید کرنا جائز ہے, البتہ راہب اور راہبہ اگر جنگ سے کسی طرح کی وابستگی نہیں رکھتے ہوں, تو انہیں قید کرنا جائز نہیں, ان کے علاوہ ہر شخص کو قید بھی کر سکتے ہیں, اور بلا قید بھی چھوڑ سکتے ہیں. (حاشية الدسوقي على الشرح الكبير 2/ 177 ط دار الفكر).
شافعی مسلک میں: بلا استثناء جسے چاہے قید کیا جا سکتا ہے, (نهاية المحتاج 8/ 61 ط مصطفى الحلبي 1357 ه ), البتہ اگر کسی دار کفر میں مسلمانوں اور کفار کے درمیان امن وامان کا عہد وپیمان ہوگیا ہو, تو دشمن کو قید کرنا جائز نہیں.
البتہ اس مسئلے میں جو راجح اور اقرب الى الصواب موقف معلوم ہوتا ہے, وہ یہ کہ اگر کسی غیر مسلم سے کوئی ضرر نہ ہو, اور نہ ہی جنگ میں وہ ساجھی نہ ہو, تو اسکا قید کرنا بے معنى ہے, اور نا مناسب معلوم ہوتا ہے.
قید کرنےوالے کو کس حد تک قیدی میں تصرف کا حق ہے؟
قیدی کی حفاظت قید کرنے والے کے ذمے ہوتی ہے, اسے اس پر ہاتھ اٹھانے, یا اس کے معاملے میں کسی طرح کے تصرف کا کوئی اختیار نہیں, جو بھی ان کے بارے میں فیصلہ ہوگا, وہ صرف اور صرف حاکم یا حکومت وقت کریگی,اور قید کرنے والے پر یہ لازم ہے, کہ وہ اسے قید کر لینے کے بعد امیر یا قائد تک سلامتی کے ساتھ پہونچا دے, تاکہ جیسا مناسب ہو, وہ اس کے بارے میں فیصلہ کرے, البتہ اگر کوئی مسلمانوں کا امام نہ ہو, تو فوج کا کمانڈر اس کے بارے میں طیش اور جذباتیت سے دور رہ کر حکیمانہ فیصلہ کرنے کا مجاز ہوگا, اسی طرح یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے, کہ قیدی پر قید کرنے والے کا کوئی حق نہیں ہوگا, الا یہ کہ امام انہیں فوج کے درمیان تقسیم کردے, اور نہ کسی جنگ جو مجاہد کے لئے خود اپنے قیدی کو قتل کرنا جائز ہے, بلکہ قید کرنے کے بعد قیدی کا معاملہ حکومت یا امیر المؤمنین کے سپرد ہوجاتا ہے.
حالت جنگ میں جب تک جنگ کے خاتمے پر طرفین میں کوئی معاہدہ نہ ہو جائے, یا پھر دشمن کی طاقت ٹوٹ نہ جائے اس وقت تک قیدی مسلمانوں کی حفظ وامان میں ہوگا, اور انسانی طور پر اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائیگا, جیسا کہ قرآن میں اسیر کے ساتھ معاملے کے متعلق ایسی تعبیر کا استعمال کیا ہے, جس سے پتہ چلتا ہے, کہ قیدی کے ساتھ حد درجہ لطف اور اچھے تعامل کا اظہار کیا جائے, کیونکہ جنگ ایک ہنگامی صورت حال ہے, جو بعض حالات میں برپا ہوجاتی ہے, البتہ یہ مقصد اسلام نہیں ہے, اس حالت میں بھی قیدی پر اسلامی اخلاقیات کا مظاہرہ کر اس کی نفرت اور دشمنی میں خفت کی کوشش کرنی ضروری ہے,اور اسے یہ احساس دلانا ضروری ہے, کہ اسلام انسانیت کا اعلى اقدار کا محتمل دین ہے, اور اسی کے تحفظ کی خاطر برپا کیا گیا ہے, قرآن مجید میں بلا امتیاز مذہب قیدی کے ساتھ تعامل کی یہ ہدیات دی{وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا. إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا} (الإنسان، 8_9).
قیدیوں کے متعلق اسلام کا نقطہ نظر:
جیساکہ تمہید میں اس بات کی طرف اشارہ گزر چکا ہے, کہ قید واسر کی صورت حال دو حالات میں سامنے آتی ہے, (۱) یا تو دشمن کے ساتھ معرکہ آرائی میں. (۲) یا بعض ملکی پیمانے پر جرائم کے فروغ دینے والے سماجی طور پر مضر عناصر کو لگام لگانے کی خاطر, البتہ دوسری حالت قاضی کی صواب دید پر موقوف ہے, اور کسی بھی نص میں اس بات کا تذکرہ نہیں, کہ فلاں جرم کی سزا متعین اور محدود ایام قید کردینا ہے, اور صورت حال کوئی بھی ہو, بلا تقیید مذہب ان کے ساتھ حسن تعامل کی تلقین کی گئی ہے, اور انسانی سلوکیات سے ورے اس کے ساتھ ہر طرح کے تعامل سے منع کیا گیا ہے.
قیدیوں کے معاملے کے متعلق قرآن شرعی ضوابط کے مطابق بنیادی اصول وافکار پر مشتمل ہے, چنانچہ اس نے اس بابت کچھ قاعدے کلیے وضع فرمائے, اور ان کی روشنی میں علماء اسلام کی عقول پر بھی بعض تصرفات کے اختیار کا امکان بھی چھوڑدیا.اسلام کو دوسرے ادیان ومذاہب یا وضعی قوانین پر جو امتیاز حاصل ہے, وہ صرف اس کی محکم اور شامل تعلیمات کی بنا پر حاصل ہے, چنانچہ زیر بحث مسئلہ کی روشنی میں اگر انسانی حقوق کے فلسفے پر نظر ڈالیں, تو سمجھ میں آتا ہے, کہ ان کی بنیاد حریت اور عدل پر قائم ہے, اسی لئے اللہ تعالى نے عام طور پر بلا مظلوم کی صنف کی تقیید کے ظلم اور زیادتی سے منع فرمایا, جیساکہ ابوذر رضی اللہ تعالى عنہ سے مروی حدیث قدسی میں ذکرہے: (عَنِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ قَالَ [يَا عِبَادِى إِنِّى حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِى وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلاَ تَظَالَمُوا..] (أخرجه مسلم في صحيحه ح (6737). البتہ یہ حریت مطلقہ نہیں ہے, اور نہ ہی دنیا کا کوئی قانون یا ملک کسی بھی فرد کو حریت مطلقہ کا حق عطا کرتا ہے, اسی لئےیہ آزادی جو اسلام میں حاصل ہے, عدل کی بنیادپر قائم ہونی چاہئے.
جیسا کہ مشاہدے اور عقل سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے, کہ انسانی اقدار پر اثر انداز ہونے والے دنیاوی حوادث میں سے جنگ سب سے مؤثر حادثہ ہے, جس میں فطری طور پر قید وبند کی تکلیف دہ صورت حال رونما ہوتی ہے, اور چونکہ انسانیت کی جذباتیت یہاں عقل اور دانائی پر غالب رہتی ہے, تو غیر لائق سلوکیات , اور اہانت آمیز تصرفات کا بہت قوی امکان ہوتا ہے, اس میں بستیاں سماج معاشرے تہذیبیں جہاں فنا ہوتیں ہیں, وہیں افراد کی قوت بھی تسلط یا اسیری کی شکار ہوتی ہے, جب ایسی حالت ہوتو اخلاقیات کی بقاء ان کے تحفظ کا مسئلہ نہایت ہی مشکل ترین امر ہوتا ہے, یہ سب کچھ ہے, لیکن اسلام کے جنگی سسٹم پر تدبر کیا جائے تو لگتا ہے, کہ اس نے جنگوں کے لئے ایک نہایت ممتاز ضابطہ, اس کے وسائل واہداف واسالیب کی نہایت دقیق تفصیلات وضع کیں ہیں, جس پر یہاں سیر حاصل گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں, البتہ یہ ذکر کرنا ضروری ہے, کہ جب ساری امتیں قیدیوں کو غلام بنالینے, ان کی عزت وناموس کو سر بازار لوٹنے, ان کو بلانظام اور ضابطے کے قتل کرنے, ان کے مال ہتھیانے کو روا سمجھتیں ہوں, وہان اسلام کی روشن تعلیمات نہایت قابل غور ہیں, اور توجہ کی طالب ہیں.
قارئین کرام! جو شخص قیدیوں کے متعلق اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کریگا, اور علمائے اسلام نے جو تفصیلات ذکر کیں ہیں ان کا مطالعہ کریگا, تو اسے یقین ہوگا کہ اسلام قیدیوں کے ساتھ تعامل میں انسانی حیثیت کو نہایت اہمیت دیتا ہے, یہی نہیں بلکہ قیدیوں کے معاملے کو نہایت محکم ومضبوط قانون سےمربوط کر دیتا ہے, جس کو تجاوز کرنا کسی بھی صورت جائز نہیں, چاہے فوج کی نفسیات جنگ اور جنگی فتوحات کے سبب کتنی ہی غیر متوازن کیوں نہ ہوں, اسی لئے اسلام کی روشن تعلیمات کے متعلق کچھ خامہ فرسائی نہایت ضروری تھی, تاکہ دین اسلام پر کیچڑ اچھالنے والےبدنیت اغیار, یاغیر دانشمند احباب کو آئینہء حق شناش دکھایا جاسکے, اور اسلامی دفاع کا حق بھی کچھ حد تک ادا کرنے کی کوشش کی جا سکے.
اسلام میں قیدی کے ساتھ تعامل, اور ا س کے حقوق: اسلام قیدیوں کے ساتھ پر شفقت انسانی برتاؤ کی تلقین کرنا ہے, ان کے احترام, ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتا ہے, اور ان لوگوں کی تعریف کرتا ہے, جو ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں. (فقه السنة: السيد سابق (2/686-687). یہ کوئی قابل تعجب بات نہیں, بلکہ استعجاب تو اس میں ہے, کہ وہ نام نہاد انسانیت اس الہی دستور کو غیر موزونیت, اور بے اعتدالی سے متہم کرے, جو خود اس قانون سے ہٹ کر ظلم وستم کی موجد ہے, بلکہ اس اختراع میں ہزاروں غیر مہذب اور ناشائستہ مبنی بر ہمجیت اشکال کی کی کھوج می تادم تحریر قائم ہے, جس نے تہذیب ہی نہیں, بلکہ تہذیب وثقافت کی تعریف , اس کے تقاضوں نیز عصر حاضر میں اس کے لڑکھڑاتے ہوئے ہیکل کو بے روح کرنے کی ٹھان لی ہے, چنانچہ اسلام نے ایک قیدی کے ساتھ تعامل میں رحمت ورافت, شفقت ومہربانی کو بلا کسی تقیید وتقید کے اولیں حیثیت دی ہے.
قتادہ رضی اللہ تعالى عنہ فرماتے ہیں: "اللہ تعالى نے قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیاہے, اور اس وقت کے مسلمانوں کے قیدی اہل شرک سے عبارت تھے".( الجامع لأحكام القرآن: القرطبي (19/126). اسلام نے قیدیوں کے لئے ایسے وقت میں جب ان پر مختلف قسم کے ظلم وستم روا کھے جاتے تھے بڑی خوبصورت تعلیمات اور ہدایات صادر فرمائیں ہیں, اسی لئے قرآن پاک اور حدیث نبوی میں بہت ساری ایسی توجیہات صادر ہوئیں ہیں, جو ان کے ساتھ اچھےاور انسانی معاملے کی تلقین کرتیں ہیں, سورہ انفال میں اللہ تعالى فرماتا ہے: (يا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّمَن فِي أَيْدِيكُمْ مِنَ الأَسْرَى إِن يَعْلَمِ اللهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِمَّا أُخِذَ مِنكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ) سورۃ الانفال ,اس آیت کی روشنی میں جب اللہ نیک نیت قیدیوں سے عفو ودر گزر کی خوش خبری دیتا ہے, تو مسلمانوں پر بھی ضروری ہے, کہ وہ ان کے ساتھ رحمت اور انسانیت کا اعلى برتاؤ کریں, مندرجہ ذیل سطور میں اس تعامل کی چند نبوی تطبیقات کے ساتھ قدرے تفصیل بیان کی جاتی ہے.
۱-قیدی کو کھانا کھلانے کے باب میں اپنے اوپر ترجیح دینا: اسلام نے بھوکا نہ مارنے, اسے بھر پیٹ کھانا کھلانے کی تلقین فرمائی ہے, وہیں یہ بھی مد نظر رکھنے کی ہدایت کس ہے, کہ قیدی کا کھانا کمیت , کیفیت میں مسلمانوں کےکھانے کے مانند ہونا چاہئے, اوراگر ممکن ہو سکے, تو اس سے افضل ہو, اللہ نے فرمایا: :{ وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا}[ الإنسان:8-9].
حافظ ابن کثیر اس آیت کے ضمن میں فرماتے ہیں: ابن عباس فرماتے ہیں: کہ ان دنوں جب یہ آیت دی گئی مسلمانوں کے قیدی مشرک تھے, اور صحابہ کو رسول اللہ کی یہ ہدایت اس کی تائید کرتی ہے, کہ وہ قیدیوں کا احترام کریں, جس کی صحابہ کی طرف سے عملی تطبیق یہ سامنے آئی کہ وہ کھاتے وقت انہیں اپنے نفوس پر مقدم رکھتے, اور اپنی پرواہ کئے بغیر انہیں کھلاتے...مجاہد فرماتے ہیں: اسیر محبوس کو کہتے ہیں. (تفسير ابن كثير14/210).)چنانچہ آیت کا مفہوم یہ نکلتا ہے, کہ وہ جس کھانے کو پسند کرتے ہیں, کھانا چاہتے اسے ان اسیروں کے لئے پیش کرتے ہیں".اسی طرح نبی اکرم کی یہ وصیت بھی اس معنے کی تائید کرتی ہے: (استوصوا بالاسرى خیرا) (أخرجه الطبراني في المعجم الكبير، (977)، والمعجم الصغير، (409)، وقال الهيثمي: إسناده حسن).
۲-ان کے کپڑے لتے کا بہتر انتظام کرنا: اسلامی تعلیمات میں قیدی کو مناسب اور لائق لباس کے انتظام کی تلقین کی گئی ہے, جابر سے مروی حدیث میں اللہ کے رسول سے یہ ثابت ہے, کہ یوم بدر قیدیوں کو لایا گیا, عباس کو اس حالت میں لایا گیا, کہ آپ کے جسم پر کوئی کپڑا نہیں تھا, رسول اللہ نے انہیں دیکھا, تو عبد اللہ بن ابی الحارث کا کپڑا دیکھا , کہ وہ اسے فٹ آئیگا, آپ نے اسے انہیں پہنا دیا, اور بعض روایتوں میں آتا ہے کہ آپ نے بعض قیدیوں کو خود اپنے کپڑے پہنائے.
۳-اسے قیدی بنائے رکھنے کی کوشش نہ کرنا, بلکہ اس جان بخشی کی ہر ممکن کوشش کرنا, اور اس امکان کو غالب رکھنا کہ اسے چھڑایا جا سکے: اسلام نے قید واسر کو مشروع تو قرار دیا ہے, البتہ قیدی کی آزادی کے دروازوں کو بند نہیں کیا, ابو موسى الاشعری نبی پاک سے روایت فرماتے ہیں, کہ آپ نے فرمایا: (أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَعُودُوا الْمَرِيضَ وَفُكُّوا الْعَانِيَ قَالَ سُفْيَانُ وَالْعَانِي الْأَسِيرُ)( أخرجه البخاري في صحيحه, كتاب: الأطعمة, ح (5373).
۴-اسے سزا دینے, اور ذلیل کرنے سے پرہیز کرنا: اسی لئے رسول اکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ یہودیوں کے قیدیوں کو ظہر کے وقت کھلے آسمان تلے کھڑا ہوا دیکھا, تو ان کے مسلم نگرانوں سے یوں خطاب فرمایا:" لاَ تَجْمَعُوا عَلَيْهِمْ حَرَّ الشَّمْسِ وَحَرَّ السّلاَحِ، وَقَيِّلُوهُمْ وَاسْقُوهُمْ حَتَّى يَبْرُدُوا(السير الكبير: الشيباني (2/591 ). سورج اور ہتھیار دونوں کی تمازت اور خوف کو ان پر جمع نہ کرو, انہیں آرام کرنے دو, پانی پلاؤتاکہ ٹھنڈے ہو جائیں.اسی لئے صحابہ کی زندگی میں جھانک کر دیکھا جائے تو پتہ پلتا ہے, کہ انہوں نے آپ کے اس فرمان کی حد درجہ پیروی کی, اسی لئے اپنے قیدیوں کے ساتھ وہ ہمیشہ حسن سلوک کرتے, خود قیدیوں نے اس کا عتراف کیا ہے, ابو عزیز بن عمیر جو کہ بدر کے قیدیوں میں قید تھے فرکاتے ہیں: ( كُنْتُ مَعَ رَهْطٍ مِنَ الأَنْصَارِ حِينَ قَفَلُوا، فَكَانُوا إِذَا قَدَّمُوا طَعَامًا خَصُّونِي بِالْخُبْزِ وَأَكَلُوا التَّمْرَ؛ لِوَصِيَّةِ رَسُولِ الله إِيَّاهُمْ بِنَا، مَا يَقَعُ فِي يَدِ رَجُلٍ مِنْهُمْ كِسْرَةٌ إلاَّ نَفَحَنِي بِهَا؛ قَالَ: فَأَسْتَحِي فَأَرُدُّهَا عَلَى أَحَدِهِمَا، فَيَرُدُّهَا عَلَيَّ مَا يَمَسُّهَا]( تاريخ الطبري: الطبري 2/39، البداية والنهاية: ابن كثير 3/307- 374 ).میں انصاریوں کی ایک جماعت کے لوٹتے وقت ان کے ساتھ تھا, جب وہ کھانا پیش کرتے, تو میرے لئے روٹی دیتے,اور خود کھجور پر گزارا کرتے, کیونکہ انہیں نبی پاک نے ہمارے متعلق وصیت کر رکھی تھی, ان میں کسی کے ہاتھ بھی کوئی روٹی کا ٹکرڑا لگتا, تو مجھے تھما دیتا, اس اعلى تعامل سے متاثر ہوکر میں شرمسار ہوجاتا, اور اسے واپس کر دیتا, تو وہ دوبارہ اسے میرے ہاتھ میں تھما دیتے.
جس کا مطلب یہ ہے, کہ وہ اسے بچا کچا کھانا پیش نہیں کرتے, بلکہ نہایت عمدہ اور نفیس کھانا پیش کرتے, جسے کھانے کی انہیں چاہت بھی ہوتی, البتہ اسے خود نہ کھاکر اس قیدی کو دےدیتے. اسی لئے قیدی کو کھانا نہ کھلانے کا جرم کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے, جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا: (دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ)( أخرجه البخاري في صحيحه ح(2242 ).
چونکہ حبس و قید قیدی کے معاش اور کسب معاش میں رکاوٹ ہوتی ہے, اس لئے اسکے حابس پر اس حق کی ادائیگی لازم ہے, حیوان کو اس حق سے محروم کر دینے کا جب اتنا برا انجام ہے,تو انسان کو اس حق سے محروم کر دینا تو اس سے بھی عظیم گنا ہ قرار پائیگا, جس کے متعلق اللہ تعالى نے فرمایا ہے: (وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلاً )[سورة الإسراء: 70].
۵-کافروں کی راز افشائی کی خاطر کسی رازدار قیدی سے راز اگلوانے کے لئے اس پر زیادتی نہ کرنا: امام مالک سے اس مسئلے کے متعلق دریافت کیا گیا, تو آپ نے فرمایا کہ میں نے تو اس طرح کی تعلیم کہیں نہیں سنیں, نبی اکرم نے بھی جنگ بدر کے حادثے کے دوران صحابہ کے دو قرشی غلاموں کو مارنے پر نکیر کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ قیدی کو تحقیق کے لئے مارنے کی ضرورت نہیں ہے, کیونکہ اس صورت میں قیدی جسمانی اذیت کی تاب نہ لاکر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ میں تبدیل کر دیتا ہے, اور جو جرم کیا بھی نہیں ہوتا, اسے بھی قبول کرلیتا ہے, بلکہ آج کی مہذب اور اپ ٹو ڈیٹ دنیا میں تو پہلے جرم کی تعیین قانون کے محافظوں کی طرف سے متعین کر لی جاتیں ہیں, پھر اس جرم کے اعتراف کی خاطر قیدی کو مارا جاتا ہے, اور نہایت اذیت ناک سزائیں دی جاتیں ہیں, نبی پاک نے ان صحابہ سے کہا: (إذَا صَدَقَاكُمْ ضَرَبْتُمُوهُمَا، وَإِذَا كَذَبَاكُمْ تَرَكْتُمُوهُمَا، صَدَقَا، وَاللهِ إِنَّهُمَا لِقُرَيْشِ...". مع أن هذين الغلامين اللذين ضُرِبَا كانا يمدَّان الجيش المعادي بالماء) جب وہ کہتے ہیں, تو تم انہیں مارتے ہو, اور جھوٹ بولتے ہیں تو چھوڑ دیتے ہو, وہ جو کہہ رہے ہیں, سچ ہے,وہ قریش کے غلام ہیں اللہ کی قسم...یہ دونوں غلام جو پٹ رہے تھے, دشمن لشکر کو پانی سپلائی کر رہے تھے, اسکے باوجود نبی نے اس سے منع فرمایا.( الروض الأنف: السهيلي ( 3/58), تفسير القرآن العظيم: ابن كثير (4/ 68).
۶-قیدی کو اس کے دینی شعائر کے ادا کرنے کی مکمل آزادی: دین میں کوئی زور زبردستی نہیں, بلکہ ہر شخص کو اپنی قناعت کے مطابق روحانی مذہب اپنانے کی اجازت ہے, اوراسلام کا مکمل فلسفہ ہی حریت فکر , نیز حریت اختیار پر مبنی ہے, چنانچہ ایک قیدی کو بھی بحالت قید اپنے دینی وظائف واوراد پر عمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے.
۷-قیدی کو اچھی جگہ رکھنا, اور مہمان کی طرح اس کا خیال رکھنا: نبی پاک نے چند افراد پر مشتمل گھڑ سواروں کا دستہ نجد کی طرف ارسال فرمایا, جو قبیلہ بنو حنیفہ کے ثمامہ بن اثال نامی شخص کو قید کر لایا, جو کہ اہل یمامہ کا سردار تھا, انہوں نے اسے مسجد-جو زمین کا عمدہ ترین حصہ ہوتا ہے-میں ایک ستون سے باندھ دیا, رسول اللہ اس کے پاس آتے ہیں, اور ثمامہ سے اس کے متعلق دریافت کرتے ہیں, کیسی حالت ہے, کیا کچھ کہنا ہے؟ تو وہ کہتا ہے, اے محمد میرا حال اچھا ہے, اگر آپ قتل کر دیتے ہیں, تو ایک خونی کو قتل کرینگے, کرم نوازی فرماتے ہیں,تو ایک شاکر اور احسان پاسدار کو معاف کریں گے, مال کی خواہش ہے, تو جتنا مانگوگے, مل جائیگا, آنحضرت نے تین دن لگاتار یہ سوال اس پر پیش کیا, اور انہیں آزاد کرنے کا حکم صادر فرمادیا, یہ شخص مسجد سے قریب کے ایک باغ میں جاتا ہے, غسل کر کے مسجد میں داخل ہوتا ہے, اور لاالہ الا اللہ, محمد رسول اللہ پڑھتے ہوئے, آپ سے فرماتا ہے: (يا محمد والله ما كان على الأرض وجه أبغض إليَّ من وجهك، فقد أصبح وجهك أحب الوجوه كلها إليَّ، والله ما كان من دين أبغض إليَّ من دينك، فأصبح دينك أحب الدين كله إليَّ، والله ما كان من بلد أبغض إليَّ من بلدك، فأصبح بلدك أحب البلاد كلها إليَّ … »( صحيح البخاري (4114)، صحيح مسلم (1763).) پہلے آح کا چہرہ, آپ کا دین مبغوض ترین تھا, اب سب کچھ تبدیل ہوکر آپ , آپ کا دین, آپ کی بستی محبوب ترین شیے میں تبدیل ہوچکے ہیں.
اسی واقعے کے ضمن میں سیر ت ابن ہشام کے اندر ابن ہشام نے ذکر کیا ہے, جب آپ نے ثمامہ کو دیکھاتو صحابہ سے فرمایا: اسکے ساتھ حسن سلوک کرو, پھر آپ صلى اللہ علیہ وسلم اپنے اہل وعیال کے پاس تشریف لے گئے, اور انہیں حکم دیا, کہ جو بھی تمہارے پاس کھانے پینے کا سامان ہے, اسے لیکر آؤ, اور اپنی دودھ والی اونٹنی کے متعلق اس کے بارے میں یہ ہدایت صادر فرمائی, کہ صبح شام اس پر اس کا دودھ پیش کیا جائے. (السيرة النبوية لابن هشام 6/ 51. أي يشرب صباحا ومساء.).
اسی طرح سے آپکی آخری وصیتوں میں صحابہ کو یہ وصیت بھی تھی:" الصلاۃ وما ملکت ایمانکم".( مسند أحمد بن حنبل 3/ 117، سنن ابن ماجه (1625)، وصححه الألباني في إرواء الغليل (2178).اور ملک یمین کا مطلب ہوتا ہے, کہ وہ قیدی جو فدیہ دیکر ابھی تک قید کرنےوالے کے پاس ہے, اور اپنی گردن آزاد نہیں کرا سکا ہو, اس کے ساتھ حسن سلوک اتنا اہم ہے, کہ آخری گھڑیوں میں بھی آپ انہیں نہیں بھولے, یہ ساری اخلاقیات ہمیں اعتبار میں رکھنی ہونگی, اور اس وقت تک ہمیں ان کو نافذ کرنا ہوگا, جب تک قیدیوں کے متعلق فریقین جنگ کے درمیان کوئی فیصلہ نہیں ہوجاتا, یا پھر یہ حالت ختم نہیں ہوجاتی جسمیں دشمن کے ساتھ کبھی بھی ٹکراؤ کا خطرہ سروں پر منڈلاتا رہتا ہے.
جنگ کے خاتمے پر قیدیوں کے ساتھ کیا کیا جائے؟ حالیہ جنگوں میں جنگی قیدیوں کے ساتھ انسانیت سوز برتاؤ کے ساتھ بہت ساری زیادتیاں کی جاتیں ہیں, ان میں سے ایک یہ دیکھنے میں ملتی ہے, کہ انہیں جیلوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے, بسا اوقات تو قیدی جوانی میں گرفتار ہوکر خاص جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے, اور بوڑھا ہوکرجیل سے نکلتا ہے, ایسی صورت حال میں یہ سوال بجا ہے, کہ اسلام اس میدان میں کیا تعلیمات صادر فرماتا ہے؟
قرآن کی روشن تعلیمات میں اگر اس کا جواب تلاش کی جائے تو ہمیں جنگ کے خاتمے کے بعد دو حلول نظر آتے ہیں, جو دونوں قیدی بنانے کی صورت کے غیر مرغوب ہونے پر دلالت کرتے ہیں.
۱-المن, یعنی اسیر اور قیدی پر احسان کرتے ہوئے, جان بخشی کی اجرت لئے ہوئے اسے آزاد کر دیا جائے.
۲-الفداء: یعنی اسیر مال یا متعینہ مدت تک کے لئے خدمت کے عوض چھوڑ دیا جائے.
ان دونوں صورتوں کے علاوہ سیرت نبوی کی طرف کسی اور صورت کا تذکرہ اگر ملتا ہے, جیسا کہ بنو قریظہ کے متعلق قیدیوں کے قتل کا حکم, تو اس کی دو ہی علتیں ہیں, یا تو اس قیدی نے پہلے مسلمانوں کے خون بہانے میں مدد کی ہو, یا وہ خود قاتل ہو, تو قصاصاً اسے قتل کا حکم صادر فرمایا گیا, یا پھر جو روایت ہے, وہ ضعیف ہے, نبی پاک کی طرف ایک افتراء کے طور پر منسوب چلی آرہی ہے, البتہ ایسا بھی ہو سکتا ہے, کہ آپ قیدیوں کے متعلق اجتہاد میں خلاف اولى نقطہ نظر کا اظہار فرمائیں, جس کی گنجائش خالص دینی امور کو چھوڑ کر آپ کے حق میں بھی مسلم تھی, تو پھر اللہ کی طرف سے آپ کی اصلاح کی جاتی, اور صواب اور اصوب کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرائی جاتی.
آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے متہم کیا جانا کہ آپ قیدیوں کے قتل کا حکم صادر فرمایا کرتے بلکل دلائل سے عاری ادعاء ہے, بلا معقول سبب اور علت کے کبھی ایسا نہیں ہوا, بلکہ آپ کی جنگی زندگی, اور فیصلوں کی تفصیل اٹھائی جائے تو یہ واضح ہوتا ہے, کہ آپ نے بکثرت قیدیوں کو بلا معاوضہ رہا کیا ہے, اور اگر کسی پر کوئی مالی یا سماجی خدمت کا فدیہ مقرر بھی کیا ہے, تو اس میں اسیر کی طاقت , وصلاحیت کا ضرور خیال رکھا ہے, اس لئے اسیری نبوی سیرت کی روشنی میں کسی حل کی صورت میں نہیں دیکھی گئی , بلکہ ایک نا گہانی صورت حال کے طور پر اسے سابقہ وقائع کی روشنی میں باقی رکھا گیا ہے, کیونکہ بعض حالات میں چار وناچار اس کی ضرورت پیش آتی ہے, البتہ ساتھ ہی ساتھ اسے ایسے قوانین سے مربوط بھی کر دیا گیاجس سے اس ظاہرےکی شرح میں کمی آتی رہے, اور یہ معدوم ہی ہوجائے, چنانچہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے ہوازن, ثقیف کے قیدیوں کے ساتھ عفو ودر گزر کا برتاؤ کیا, انہیں بلا معاوضہ کے رہا کر دیا,اور بہت نادر صورتیں ایسی ہیں, جن میں آپ فدیہ لیتے ہیں, بلکہ بعض حالات میں تو فدیہ کی شکلی تعیین بھی نہایت حکیمانہ ہوتی ہے, جیسا کہ مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھانے کی ذمہ داری, ابن عباس رضی اللہ تعالى عنہ فرماتے ہیں:"بدر کے دن بعض قیدیوں کے پاس فدیہ نہیں تھا, تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم ان کا فدیہ یہ مقرر کیا, کہ وہ انصار کے بچوں کو لکھنا سکھادیں". (أخرجه أبو داود (3134) ، وابن ماجه (1515) ، والبيهقي (4/14)).
بلکہ بعض اوقات ایک ادنے اور تافہ سبب کی بنا پر, یا کسی مؤمن کی شفارش پر آپ نے قیدیوں کو رہا کیا, اور ایسا بھی ہوا کہ آپ نے مطعم بن عدی کی وفات پر افسوس ظاہر کتے ہوئے, یہ تمنا کی کہ اگر وہ زندہ ہوتے, اور وہ بدر کے قیدیوں کی رہائی کی شفارش کرتے تو میں اس اکیلے کی درخواست پر سارے قیدیوں کو چھوڑ دیتا, اس سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے, کہ عفو ودرگزر اسلام کا ایک عظیم ستون ہے, جس اسلام کی عظیم بلند وبالا دیوار قائم ودائم ہے.
اس ضمن میں ایک اور اختیار کی بات کی جاتی ہے, جسے قتل کہتے ہیں, جیسا کہ سابقہ سطور مین اس بات کی طرف ضمنی اشارہ بھی ہوچکا ہے, لیکن یہ بات بعید از قیاس ہے, کہ قتل کو اختیار کے طور پر کہیں کسی نص قرآن یا حدیث میں پیش کیا گیا ہو, اسی لئے قرآن میں کہیں بھی ایسی کوئی آیت نہیں ملتی جس میں اس قتل کی طرف اشارہ ہو, اور سورہ انفال کی آیت (مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ) [ الأنفال:67]، خاص واقعہ سے متعلق ہے,
قارئین کرام ! کوئی بھی اسلامی دامن کی آغوش میں پناہ گزیں مسلم ان معیاری تعلیمات پر غور کرتا ہے, تواس کا سینہ مارے فخر کے پھول جاتا ہے, اسے لگتا ہے, کہ وہ ایک ایسے دستور کا محافظ ہے, جو فکری و اعتقادی جہالت سے معرکہ آرائی کرتے ہوئے علم ومعرفت کی نگری سجانا چاہتا ہے, ظلم کی سڑاند کو عدل کی خوشبو سے دھلنا چاہتا ہے, لیکن جگر ماتم کناں ہوجاتا ہے, جب انسانیت کی چودہ سوسالہ طویل ردائے غفلت پر اچکی ہوئی نظر پڑتی ہے, بڑا افسوس ہوتا ہے, کہ کیا ہوا ہے اس انسانیت کو کہ افلاک کی سیر وسیاحت میں بڑی باریک اور لطیف گتھیوں کو حل کرنےکے باوجود اپنی بقاء کے اس معقول اور سادہ سے فلسفے کو نہ پا سکے, جس کو پانے کی جستجو میں تحقیقات کی نہیں, تحقیقی مزاج اور تعصب بر طرف عقلیت کی ضرورت ہے.
ان قوانین کی عملی تطبیق: قانونی ڈھانچے کی تعیین اور اس کی تفصیل گرچہ ایک نازک موڑہوتا ہے, لیکن اس سے بھی بڑا موڑ اسے قابل عمل بنانا, نیز اس کو عملی جامہ پہنانا ہے, کیونکہ کتنے ہی قوانین کتاب قانون کے صفحوں پر سیاہی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتےجیسا کہ بہت ساری قانون ساز کابینائیں کسی حادثے کو منضبط کرنے کی خاطر سر جوڑ بیٹھتیں ہیں, لیکن اپنی کاوش کے نتیجے میں آنے والی دفعات کو عملی شکل نہین دے سکتیں, اسی لئے عالمی کتاب قانون میں قیدیوں کے متعلق درج شدہ قوانین نہایت عمدہ وفعات پر مشتمل ہیں, لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے, کہ ان ضابطوں, ان قوانین کی طرف بوقت ضرورت کوئی توجہ نہیں دی جاتی, بلکہ ان کی تطبیق کے جابجا سنائی دینےوالے راگوں سے یہ سمجھ میں آتا ہے, کہ ان کی تدوین صفت قوی کو ضعیف پر مسلط کئے رکھنے کی خاطر ہے, وگرنہ طاقت کے سامنے ان کی کوئی حیثیت نہیں. اس کی میں یہاں صرف ایک مثال دونگا, تاکہ واضح ہوجائے کہ آج کے وضعی قوانین مین تطبیق کی کیا صورت ہے, اور نبوی سیرت میں تطبیق کی کیسی صورت تھی.
فنتنامو دنیا کے طاقت ور ممالک کی فہرست میں شامل ایک ملک کا جزیرہ ہے, جو ان ممالک میں سے ایک ہے, جو انسانی حقوق کی پاسداری کے لئے بڑی سریلی موہ لینے والی آوازیں نکالتا ہے, لیکن خود اس ملک کا قیدیوں کے ساتھ کیا برتاؤ ہے, اسے دیکھئے تو تعجب ہوتا ہے, یہ اپنے مشکوک مجرموں کو بندروں کی طرح کے پنجڑوں میں چٹیل میدان کی نظر کر حیوانیت سے بھی بدتر اخلاقیات کا اظہار کرتے ہیں, ایک اور مثال کایہاں اضافہ کر سکتے ہیں, وہ اسرائیلی تباہیوں میں رونما ہونے والےقیدیوں کے ساتھ ناقابل تصور گھٹیا تعامل کی مثال ہے, جس میں مسلمانوں کے ساتھ ادنى انسانی اخلاقیات سے بھی عاری ہوکے اسرائیلی قوم ہر طرح کی زیادتیاں روا رکھتی ہے.غم اس بات کا نہیں کہ ایسی منافقت کیوں ہے, بلکہ غم اس بات کا ہے, کہ جو ان تعلیمات پر کبھی مر مٹاکر تے تھے, اب خود ان تعلیمات کو فنا کردینے کی راہ کےسالک ہیں.
داعش اور قیدیوں کے ساتھ اسکا سلوک: عراق اور سوریا کی تکلیف دہ جنگی صورت حال میں سامنے آنے والی دولۃالشام والعراق نام نہاد اسلامی تنظیم جسے داعش بھی کہا جاتا ہے, اہل مغرب کے سامنے اس انداز میں رونما ہوئی , گویا یہی اصل اسلام کی پاسدار تنظیم ہے, گرچہ اس کے متعلق ہمارا نقطہ نظر بلکل واضح ہے, یہ ایک ایسے لوگوں کی ٹولی سے عبارت تنظیم ہے, جنہیں اسلام کی تعلیمات سے آراستہ کر سادہ لوح مسلم نوجوانوں کو الجھانے کی خاطر وجود میں لایا گیا ہے, اور یہ یا اس طرح کی کوئی بھی بے قید وقانون جنگجوؤوں کی ٹکڑی کا ظہور حالیہ سپرپاورس کے دوہرے اور منافقانہ رویے کا نتیجہ ہے, اور یہی طاقتیں ان خون کی پیاسی تنظیموں کے مائی باپ بھی ہیں, یہ ہمارا موضوع بحث نہیں, یہاں صرف اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے, کہ جو بھی داعش , بوکوحرام, طالبان یا اس طرح کی نظیمات کی طرف منسوبہ قیدیوں کو قتل کرنا, ذبح کرنا, آگ سے جلانا, بلند جگہ سے گرانا جیسے اعمال یوٹیوب یا مختلف مشکوک ویب سائٹوں پر پیش کئے جاتے ہیں, ان کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں, بلکہ اس طرح کی بربریت سراسر اسلام کے خلاف ہے, اور اسے بدنام کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے, اسلام میں تحفظ نفوس اور احترام انسانیت پر زور دیا گیا ہے, جیسا کہ سابقہ سطور میں نبوی اخلاق وکردار کی روشنی میں واضح کیا گیا, اللہ تعالى ہمیں دور جدید کے فتنوں سے محفوظ رکھے, اور اسلام کی مبنی بر اعتدال اور انسانیت تعلیمات کو اپنانے اور انہیں عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے.
آمین, تقبل یا رب العالمین, وصلى اللہ على نبینا محمد وعلى آلہ وصحبہ وسلم.
آپ کا ردعمل کیا ہے؟