دنیا ہی میں جنت کی خوشبو محسوس کرنے والا صحابی

از قلم ساجد ولی

اگست 25, 2024 - 00:19
اگست 25, 2024 - 23:23
 0  237
دنیا ہی میں جنت کی خوشبو محسوس کرنے والا صحابی

محترم  قارئین کرام! صحابہ کی زندگیوں کا مطالعہ ایمان کو جلابخشتا ہے, دل کو سکون پہونچاتا ہے, روح کو تازگی عطا کرتا ہے, آپ ان کی ایمان افروز داستانیں پڑھتے جائیے, اوراپنے جذبہ ایثار وقربانی میں اضافہ کرتے جائیے, حقیقت ہے کہ ان زندگیوں پر اسلامی تاریخ کی نیو ہے, دعوت اسلامی کی عمارت قائم ہے, ہم جو بھی ہیں, انہیں نفوس قدسیہ کے اخلاص کی برکت سے کچھ حق سے متعارف ہیں, انہیں زندگیوں میں سے آج میں گفتگو کرونگا, ایک ایسے صحابی کے بارے میں جو اسلام کے دفاع کے لئے جنون کی حد تک شوق رکھتے ہیں, اور جب انہیں موقع ملتا ہے, تو یہ کہہ کر ایمان کی امتحان گاہ میدان کارزار میں باطل کے پرخچے اڑاتے ہوئے کود پڑتے ہیں, کہ مجھے اس پہاڑ کے پیچھے سے جنت کی خوشبو محسوس ہورہی ہے, مجھے اس پہاڑ کے پیچھے سے جنت کی خوشبو آرہی ہے,جی ہاں اس جاں نثار صحابی کا نام ہے, انس بن النضر رضی اللہ عنہ وارضاہ.

انس بن مالک کا بیان ہےکہ میرے چچا انس بن النضر جنگ بدر میں پیچھے رہ گئے تھے, انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے مشرکین سے پہلی جنگ کی, اور میں اس سے بھی غائب رہ گیا, اگر اللہ نے مجھے ان دشمنان اسلام مشرکوں سے دوبارہ جنگ کا موقع دیا, تو اللہ پاک دیکھیں گے, کہ میں کیسے لڑتا ہوں, جب جنگ احد جو تین ہجری میں پیش آئی کا وقت آیا, اور مسلمان تتر بتر ہوگئے, منتشر ہوگئے, پسپا ہوگئے تو آپ نے اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اے اللہ میں اپنے ساتھیوں کے عمل سے بھی بری ہوں,  اور مشرکین کے عمل سے بھی بری ہوں,یعنی یہ جنگ میں جو بکھر گئے ہیں, ان کے عمل سے بھی مجھے کوئی واسطہ نہیں, اور یہ مشرکین مکہ سے اپنے نبی کو مدینہ ختم کرنے آئے ہیں, ان کے عمل سے بھی میرا کوئی تعلق نہیں ہے, پھر آپ آگے بڑھتے ہیں, سعد بن معاذ آپ کے سامنے آتے ہیں تو کہتے ہیں, اے سعد بن معاذ میرے باپ نضر کے رب کی قسم احد کی طرف سے مجھے جنت کی خوشبو محسوس ہورہی ہے, سعد بن معاذ فرماتے ہیں کہ پھر میں نہیں دیکھ پایا, کہ آپ نے جنگ احد میں کیا کرتب دکھائے, انس بن مالک فرماتے ہیں کہ ہم نے ان کے جسم پر اسی سے زیادہ زخم دیکھے, بعض تلوار سے لگے تھے, بعض نیزے اور خنجرکے تھے, بعض تیر سے لگے تھے, ہم نے انہیں مقتول پایا, مشرکوں نے ان کے جسم کو بگاڑ دیا تھا, ہم تو پہچان بھی نہ سکے, آپ طی بہن نے آپ و انگلی کے پوروں سے پہچانا, ہم سمجھتے تھے کہ یہ آیت آپ اور آپ ہی کے مثل اسلام کا دفاع کرنے والے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ( من المؤمنین رجال صدقوا ما عاہدوا اللہ علیہ) الاحزاب ۲۳ یعنی مؤمنوں میں سے بعض مؤمنوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد وپیمان کو سچ کردکھایا.

بعض روایتوں میں آتا ہے کہ جنگ احد میں جب مسلمان پسپا ہونے لگے, اور اللہ کے رسول کے شہید ہوجانے کی خبر مسلمانوں میں عام ہوگئی, مسلمان ٹوٹ گئے, بکھر گئے, تو آپ آگے بڑھے, آپ کو بعض لوگوں نے بتلایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علہی وسلم چھوڑ کر چلے گئے, آپ کو شہید کر دیا گیا, تو آپ نے یہ بات سن کر فرمایا, اب جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نہ رہے, تو ہم جی کر یا کریں گے, پھر آپ آگے بڑھے, اور دشمن کی صفیں چیرتے ہوئے آگے بڑھے, کتنوں کو واصل جہنم کر خودبھی بجلیوں کی طرح گرجتے ہوئے, شیروں کی طرح دہاڑتے ہوئے مردوں کی طرح جام شہادت نوش فرمایا لیا, آپ کی یہ بہادری کوئی انوکھی بات نہیں تھی, بلکہ آپ کی بہن خود بھی اس جنگ میں آپ کے ساتھ تھیں,جن کا بیٹا جنگ بدر میں شہید ہوچکا تھا, ان کا نام رُبیع بنت النضر تھا, بنوعدی بن النجار سے آپ تعلق رکھتیں تھیں, جب آپ کا بیٹا حارثہ بن سراقہ بدرمیں شہید ہوا, تو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں ہیں,اور کہتیں ہیں اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم مجھے  میرے لخت جگرحارثہ کے بارے میں کچھ بتلائیے, اگر وہ جنت میں ہونگے تو میں صبر کرلونگی, اور اللہ کے لئے اس شہادت کوبرداشت کرونگی, اور اگر جنت میں نہیں ہونگے, تو خوب من بھر کر روؤنگی, آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا: جنت کے بہت سارے درجات ہیں, ان میں اسے جنت الفردوس میں جگہ ملی ہے, یہی وہ صحابیہ ہیں جنہوں نے ایک عورت کے آگے والے دونوں دانت توڑ دئے تھے, تو ان کے گھر والوں نے اس عورت کے خاندان والوں سے قصاص کو معاف کر دیت کی گزارش کی, انہوں نے منع کردیا, اور قصاص پر اڑے رہے, کہ ہمیں دانت کے بدلے دانت ہی چاہئے, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم صادر فرمایا, کہ ان کے دانت بھی توڑ دئے جائیں,یہاں پر آپ کے یہ بہادر بھائی کھڑے ہوجاتے ہیں, اور کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول کیا رُبیع کے آگے والےدونوں دانت توڑ دئے جائیں گے؟ نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے, ان کے دانت نہیں توڑے جائیں گے, اس کے بعد اس عورت کے گھروالوں کو رم آیا, اور انہوں نے معاف کردیا,اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے کچھ نیک بندے ایسے بھی ہوتے ہیں, اللہ وہ کسی بات پر اللہ کی قسم کھالیں, اوراللہ ان کی قسم کو ٹوٹنے نہیں دیتا, بلکہ پوری کرتا ہے.

جنت کی تلاش وجستجو کا یہ سفر کوئی انوکھا سفر نہیں تھا, سارے صحابہ کرام اس سفر کے مسافر کے تھے, انہیں دنیا سے بہت زیادہ سروکار نہیں تھا, یہ جیتے تھے تو اللہ کے لئے, مرتے تھے تو صرف اللہ کے لئے, یہ اپنی زندگی کو گروی سمجھتے تھے, انہوں نے ایمان کو اوڑھنا بچھونہ بنا لیا تھا, انہیں اسلام کے دفاع کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لگایا گیا تھا, اتنی قربانیوں کے بعد بھی نبی پاک سے پوچھتے تھے, تھوڑا بتلادیجےکہ جنت ملی کہ نہیں, آج ہم خواب خرگوش میں سوئے ہوئے,اسلام کی راہ میں ایک کانٹا بھی برداشت کرنے کا جگر نہیں رکھتے,اللہ کے لئے نیند بھی قربان نہیں کر سکتے, او رپھر اپنے آپ کو جنت کا ٹھیکےدار سمجھتے ہیں, آئیے, صحابہ جیسا ایمان پیدا کیجئے, اپنے نفس کی خواہشات کو اللہ کے لئے قربان کیجئے, یہ زمین آپ کے لئے ٹھنڈا آنچل, اور یہ آسمان آپ کا محافظ بن جائے گا, اللہ تعالی ہمیں صحابہ جیسا ایمان عطا فرمائے, ان سے سچی محبت کی توفیق دے, اور ان کی راہ پر چلاتا رہے آمین. وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم

آپ کا ردعمل کیا ہے؟

like

dislike

love

funny

angry

sad

wow