اصلاح سماج
۱-سماج ومعاشرے پر گناہوں کے بد اثرات
ایک عربی شاعر نے کہاہے: ( عرفت الشر لا للشر ولکن لتوقیہ*ومن لا یعرف الخیر من الشر یقع فیہ) یعنی میں شر کی معرفت شرپھیلانےکی غرض سے حاصل نہیں کرتا, بلکہ اس سے بچنے کی خاطر اسے جاننے کی کوشش کرتا ہوں, کیونکہ جو شروخیر میں امتیاز کی صلاحیت نہیں رکھتا, وہ شر میں لامحالہ واقع ہوجاتاہے, اس لئے انسان کو گناہوں, او ربرائی کا علم بھی ہونا پاہئے, تاکہ ان سے بچا جاسکے,کیونکہ برائیوں کے انسان کی فردی اور سماجی زندگی بڑے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں, ایک شخص کے گناہ کرنے سے بہت سارے لوگوں پر اس کا برااثر پڑتا ہے, کبھی دوست احباب, کبھی گھرانہ, کبھی محلہ, کبھی پورا گاؤں وسماج اس سے متاثر ہوجاتا ہے, اور پھر برائی پھیلتی چلی جاتی ہے, اور پورا سماج اس کی لپیٹ میں آجاتی ہے, گناہوں کے چند برے اثرات یہاں بیان کئے جاتے ہیں.
۱-علم کابھلادیا جانا,اور حافظے کا کمزور ہوجانا امام مالک نے امام شافعی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا, جو کہ آپ کے شاگرد رشیدہیں:"إنی أری قد القی اللہ علی قلبک نورا, فلا تطفئہ بظلمۃ المعصیۃ" یعنی میں دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالی نے تہارے دل کو منور کردیا ہے, اس نور کو معصیت کے اندھیرے سے بجھانہیں دینا, امام شافعی فرماتے ہیں:
شکوت إلی وکیع سوء حفظی*فأوصانی إلی ترک المعاصی
فاعلم بأن العلم نور * ونور اللہ لا یعطی لعاصی.
میں نے وکیع سے اپنے کمزور حافظے کی شکایت کی, آپ نے مجھے گناہ ترک کرنےکی وصیت کی, اور فرمایاکہ جان لو علم ایک نور ہے, جو گناہ گار کو عطا نہیں ہوتا. اگر اس میں سے کسی کو کچھ عطا بھی ہوتاہے, تو اس کے نفس پر اس کی کوئی تاثیر نظر نہیں آتی, نہ اس علم سے اسکے دل میں اللہ کا خوف وخشیت پیدا ہوتی ہے,اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:{واتل علیہم منبأ الذی آتیناہ آیاتنا, فانسلخ منہا, فأتبعہ الشیطان, فکان من الغاوین, ولوشئنا لرفعناہ بہا ولکنہ أخلد إلی الارض ...}ٍ[ الاعراف ۱۷۵-۱۷۶] اور آپ انہیں اس آدمی کی خبر پڑھ کر سنا دیجئےجسے ہم نے اپنی نشانیاں دیں تھیں, تو وہ ان سےنکل کر باہر چلا گیا, پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا, پھر وہ گم گشتہ راہ لوگوں میں سے ہوگیا, اگر ہم چاہتے تو اس کی وجہ سے اسے رفعت وبلندی عطا کرتے, لیکن وہ پستی میں گرتا چلا گیا, اور خواہش نفس کا فرمانبرادرا ہوگیا....
۲-بندے اور رب کے درمیان گناہوں سےدوری پیدا ہوتی ہے,نیکیاں کرنا بوجھل لگتا ہے, انسان منکرات وفواحش کی دلدل میں دھستا چلا جاتا ہے, انکا عادی ہوتا چلا جاتا ہے,گویا وہ روحانی موت کی طرف رواں دواں ہوجاتا ہے, اور ایک دن اس کے دل پر موت طاری ہوجاتی ہے, اللہ تعالی اہل باطل , اہل کفر کے متعلق فرمایا:{ أموات غیر احیاء} یعنی وہ اصل میں مرے ہوئے مردے ہیں, زندہ نہیں, بعض اہل تقوی کہا کرتے تھے: "دل پر بعض ایمانی حالتیں ایسی گزرتیں ہیں, جنہیں دیکھ کر ایسا احساس ہوتا ہے کہ اگر جنتی اس طرح کی کیفیت میں رہیں گے, تو وہ بڑی بھلائی میں ہونگے.
۳-دل شکستہ ہوجانا, اور شیطان کی اتباع کرنا, یعنی ایسا شخص بکھر جاتا ہے,اور اپنے نفس کی مہار شیطان کے حوالے کردیتا ہے, وہ اسے جدھر ہانکتا ہے, وہ ادھر جاتا ہے, یہاں تک اسی غفلت میں اسے موت آجاتی ہے, او راس کی پوری زندگی غیر مستقر حالت پر گزرتی ہے.
۴-برروز قیامت اللہ کی نظر کرم سے محرومی, اور اس کی رحمت سے دوری, عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "ثلاثۃ لا ینظر اللہ إلیہم یوم القیامۃ, العاق لوالدیہ, المرأۃ المترجلۃ, والدیوث, وثلاثۃ لا یدخلون الجنۃ, العاق لوالدیہ, والمدمن علی الخمر, والمنان لما اعطی. اخرجہ النسائی وأحمد. یعنی تین طرح کے لوگوں کو اللہ اپنی نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا, والدین کا نافرمان, مردوں کی صفات اختیار کرنے والی عورت, بے غیرت دیوث, اور تین قسم کے لوگ جنت میں نہیں داخلہ پائیں گے, والدین کا نافرمان, شراب نوشی کا عادی, دیکر احسان جتانے والا. اسی طرح سے ایک دوسری روایت میں ہے: "لا یدخل الجنۃ قاطع رحم" متفق علیہ یعنی رشتہ توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا.
۵-رزق سے محرومی, یا رزق مین برکت کا فقدان, گویا گناہوں سے مال سے محرومی, یا مال میں نابرکتی آتی ہے, اور تقوی شعاری مال میں برکت کا سبب بنتی ہے.
۶-گناہ دسرے گناہوں کی طرف لبھاتے ہیں, ا ور ایک گناہ متعدد گناہوں میں انسان کو ملوث کردیتا ہے, بعض سلف کہا کرتے تھے:" گناہ کی سزا اس کے بعد دوسرے گناہ میں مبتلا کرکے دی جاتی ہے, اور نیکی کی جزاء اس کے بعد دوسری نیکی کی توفیق سے ملتی ہے.
۷-دل سے گناہ کی قباحت کا ختم ہوجانا, اور صاحب گناہ کے لئے وہ ایک عام سی بات ہوجاتی ہے, بلکہ بعض تو گناہوں کا ڈنکے کی چوٹ پر برملا اعلان کرتے ہیں, اللہ کے نبی نے فرمایا: (کل أمتی معافی إلا المجاہروں وإن من المجاہرۃ أن یعمل الرجل باللیل عملا, ثم یصبح وقد سترہ اللہ علیہ, فیقول یا فلان عملت البارحۃ کذا کذا وقد بات یسترہ ربہ ویصبح یکشف ستر اللہ لہ) یعنی گناہوں کو بے شرمی سے علی الاعلان کرنے والے لوگوں کو چھوڑ کر میری امت کے سارے لوگ معاف کئے جاسکتے ہیں, یہ بھی مجاہرہ بالمعاصی کی ہی کی ایک شکل ہے کہ انسان رات میں کوئی گناہ کرلے, صبح اس حال میں اٹھے کہ اللہ نے اس کی پردہ پوشی فرمادی ہو,پھر وہ لوگوں سے یہ کہتا پھرے اے فلاں! میں رات کو ایسا ویسا کیا, رات بھر اللہ نے اس کے عیب کو چھپا کررکھا, اور دن میں اس نے اللہ کے طرف سے مستور عیب کو منکشف کردیا.
۸-گناہ رب کریم کی نظر میں انسان کوحقیر بنا دیتا ہے, پھر وہ جتنا چاہے مظلوم ہو,جتنا چاہے تکلیف میں ہو اللہ اس کی ایک نہیں سنتا, امام حسن البصری فرماتے ہیں :"یہ لوگ اس لئے معصیت میں گرفتار ہوئےکیونکہ یہ اللہ کی نظر میں ذلیل ہوگئے تھے, اگر ان کی اللہ کی نظر میں کوئی وقعت ہوتی, تو کبھی گناہ کی میں مبتلا نہیں ہوتے, ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے تھے مؤمن اپنے گناہوں کو پہاڑ کی طرح سمجھتا ہے, اسے لگتا ہے, کہ کہیں وہ اس پر گر نہیں جائے, جبکہ فاسق وفاجر اپنے گناہوں کو ایک بے حیثیت مکھی کے مانند سمجھتا ہے, جو اس کی ناک پر بیٹھ گئی ہو, پھر وہ اسے ایسے کر اڈادیتا ہے.
۹-گناہ گار بے زبان کیڑے مکوڑوں کی لعنت کا بھی مستحق ہوجاتا ہے, عکرمہ فرماتےہیں:" زمین کے کیڑے مکوڑے یہاں تک کہ گبریلےاور بچھو بھی آپس میں تذکرے کرتے ہیں کہ ابن آدم کے گناہوں کے چلتے ہم سے بارش کو روک لیا گیا, پھر اس کے گناہ کی سزا اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتی, جب تک کہ بے گناہ حیوانات کی لعنت اس پر نہ ہو".
۱۰-گناہوں سے انسان لوگوں میں ذلیل میں ہوجاتا ہے, بعض اسلاف دعا فرماتے تھے:" اللہم اعزنی بطاعتک, ولا تذلنی بمعصیتک" یعنی اے اللہ مجھے اپنی اطاعت کی توفیق دے کر عزت مرحمت فرما, اور گناہوں میں مبتلا کرکے ذلیل نہ کر, ابن مبارک فرماتے تھے:
رأیت الذنوب تمیت القلوب*وقد یورث الذل إدمانہا . میں دیکھ رہا ہوں کہ گناہ انسان کے دلوں کو مردہ کردیتے ہیں, اور بسا اوقات ان پر اصرار ذلت کا سبب بنتا ہے.
وترک الذنوب حیاۃ القلوب*وخیر لنفسک عصیانہا. گناہ کو چھوڑ دینا دل کی زندگی ہے, تمہارے نفس کے لئے بہتر ہے کہ ان گناہوں سے دور رہو.
وہل أفسد الدین إلا الملوک*وأحبار سوء ورہبانہا. دین کو فاسق بادشاہ, اور علماء سوء ہی بگاڑتے ہیں.
۱۱-گناہوں سے صاحب گناہ کے دل پر مہر لگ جاتی ہے, بعض سلف کہا کرتے تھے: (کلا بل ران علی قلوبہم) کا مطلب ہے کہ گناہ در گناہ سے انسان کے دل زنگ آلود ہوجاتے ہیں, حسن البصری فرماتے تھے:" گناہ پر گناہ کرتا چلا جائےحتی کہ یہ دل کو اندھا بنادیں".
۱۲-گناہ اللہ کی لعنت کا سبب بنتے ہیں, گناہ گار پر اللہ اور اس کے رسول کی لعنت ہوتی ہے,اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ولعن آکل الرباء وموکلہ وکاتبہ وشاہدہ". یعنی اللہ تعالی کی لعنت ہو ربا کھانے والے, کھلانے والے, اس کے کاتب لکھنے والے, اور اس پر گواہ بننے والے.
۱۳-اللہ کے رسول , اور فرشتوں کی دعاؤں سے محرومی, کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نبی کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ مؤمن مرد وعورتوں کے لئے اللہ سے استغفار کریں.
۱۴-گناہوں کی وجہ سے زمین پر بہت سارے فساد, فتنے رونما ہوتے ہیں,اللہ تعالی نے فرمایا: {ظہر الفساد فی البر والبحر بما ینفع الناس} خشکی وتری پر لوگوں کے گناہوں کی وجہ فساد ہوگیا ہے.
چنانچہ اس زمین کواگر فتنہ فساد سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں, دنیا وآخرت کی بھلائیاں حاصل کرنا چاہےت ہیں, تو آج ہی گناہوں سے توبہ کیجئے, کیونکہ جب تک گناہوں کو گناہ نہیں سمجھئے گا, تب تک اس زمین پر امن وسکون برپا نہیں ہوسکتا, اللہ تعالی ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی توفیق دے.آمین.
آپ کا ردعمل کیا ہے؟