دعوت توحید اور منہج سلف

از قلم ساجد ولي

Jul 15, 2025 - 12:01
Jul 15, 2025 - 12:04
 0  85
دعوت توحید اور منہج سلف

امت مسلمہ امر بالمعروف, والنہی عن المنکر کے فریضے کی انجاد دہی کے لئے برپا کی گئی ہے, قرآن وسنت کے دلائل سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے, کہ سب سے عظیم معروف توحید, اور سب سے عظیم منکر شرک باللہ ہے, یہی وہ مقصد حیات ہے, جس کی تکمیل کے لئے انس وجن کی تخلیق کی گئی ہے, ارشاد ربانی ہے { وما خلقت الجن والانس إلا لیعبدون} ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں { لیعبدون} کا مطلب ہے, تاکہ اللہ کے  بندے اکیلے اللہ کی پرستتش کریں,  مقصد بعثت انبیاء کو دیکھیں, تواسی توحید کی تحقیق کے لئے اللہ نے انہیں مبعوث فرمایا, جیسا کہ اللہ فرماتا ہے { ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا أن اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت}, زندگی بھر  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  لوگوں کی اسی کی طرف بلاتے رہے, فرماتے ( یا ایہاالناس قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا), یہی وہ امر ہے, جس  کی تبلیغ کا  حکم آپ صلی اللہ علیہ  کو دیا گیا { وما أمروا إلا  لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین},  اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سری وجہری دعوت کی شروعات {فاصدع بما تؤمر واعرض عن المشرکین} سے لے کر ( إلى الرفیق الأعلى } آخری سانس  تک آپ کی مکمل زندگی اسی کی راہ میں فنا تھی, ہر نقطہ دعوت توحید پر مرکوز تھا, اس دعوتی کوشش کے چلتے بہت سارے لوگ مکہ میں ایمان کی آغوش میں داخل ہوئے, بہت سارے لوگوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرایا, اسی لئے قبل از ہجرت دو ہی طرح کے لوگ پائے  گئے , مؤمن اور کافر, پھر ہجرت مدینہ کے بعد ایک اور  قسم  منافقین کی سامنے آئی, جس کا ذکر قرآن میں اللہ تبارک وتعالى نے واضح طور پر بیان کیا ہے,  پھر وفات نبوی کے بعد  اہل بدعت وانحراف کی صورت میں  چوتھی قسم سامنے آتی ہے .

ہم اس لئے  توحید باری تعالى کی طرف دعوت دیتے ہیں, کیونکہ اسی میں ہماری نجات ہے ( من مات لا یشرک باللہ دخل الجنۃ, ومن مات یشرک باللہ دخل النار) ( أنا أغنى الشرکاء عن الشرک), ہم توحید پر اسی لئے  مرتے ہیں کیونکہ یہی دین اسلام کی بنیاد ہے, جتنی بھی عبادات ومعاملات ہیں ان کی قبولیت اسی کے تابع ہے, اس کی عدم موجودگی میں ہر عمل بیکار ہے,  اس کے بغیر مغفرت باری تعالى کا حصول ناممکن ہے { إن اللہ لا یغفر أن یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء}جو شخص توحید میں کوتاہ, او ر شرک میں مبتلا ہوتا ہے, اسے اللہ کی رحمت شامل حال نہیں ہوتی { إنہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ, وماواہ النار}اسی کی بنیاد پر جنت وجہنم کے فیصلے ہونگے, پوری کائنات اسی پر قائم ہے, یہی سبب تخلیق انس وجن ہے, خود رب العزت والجلال نے اس بات سے آگاہ کیا ہے.

جب ہم توحید کی اس عظیم فضیلت واہمیت کو قرآن وحدیث کی روشنی میں سمجھتے ہیں,اور سوچتے ہیں کہ   امت مسلمہ کو دنیا میں امر بالمعروف والنہی عن المنکر کے فریضے کی تکمیل کے مقصد سے برپا کیا گیا ہے, تو پھر ہماری دعوتی سرگرمیوں میں توحید کیوں مفقود نظر آتی ہے, ارشاد ربانی ہے { قل ھذہ سبیلی أدعو إلى اللہ } یقینا اس میں دعوت الى اللہ سے مراد دعوت إلى التوحید ہے, اس آیت کریمہ میں { قل } امر بإخبار الأمۃ ہے, { ھذہ} میں اس بات کی صراحت ہے, کہ یہ راستہ واضح ہے, غیر معروف, وغیرمفہوم نہیں ہے, { سبیلی} میں متابعت رسول کی طرف اشارہ ہے, { إلى اللہ} میں توحید واخلاص کی طرف اشارہ ہے, { أنا ومن اتبعنی} میں بشمول نبی آخر الزمان پوری امت کا داعیانہ کردار واضح کیا گیا ہے.

یقینا قرآن پاک, اوراحادیث نبویہ میں اہل ایمان , اہل کفر,نیز  منافقین کے متعلق بڑی کثرت سے گفتگو ہے, گرچہ  نبوی سماج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے والے کچھ اہل کفر اپنے کفر کو چھپائے ہوئے تھے, واضح طورپرنام لے کر آپ نے نہ ان سے خبردار کیا, نہ ہی انہیں قتل کیا, البتہ ان کی صفات اتنی کھول کھول کر قرآن وسنت میں بیان کی گئیں, کہ صحابہ انہیں اپنے مابین پہچانتے تھے, ان کی صفات سے ان کی معرفت رکھتے تھے, اسی   لئے رأس المنافقین کی وفات پر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ کا ارادہ کیا تو آپ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روکا, کیونکہ صحابہ کرام جانتے تھے کہ یہ منافق ہے, آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت میں پیدا ہونے والے چوتھے گروہ کی جب بات کی , تو یہ واضح فرمایا کہ یہاں پر چند اصول ہمیں یاد رکھنے ہونگے, اور یہ گروہ میری وفات کے بعد پیدا ہوگا, ایسے وقت میں دین پر قائم رہنے کا نسخہ کیا ہوگا؟, اس باب میں حدیث عرباض بن ساریہ بڑی اہمیت کی حامل ہے, جو اس طرح سے ہے.(عن العرباض بن ساریۃ یقول : قام فینارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذات یوم, فوعظنا موعظۃ بلیغۃ وجلت منہا القلوب وذرفت منھا العون, فقیل : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : وعظتنا موعظۃ مودع, فاعھد إلینا بعھد, فقال: علیکم بتقوى اللہ, والسمع والطاعۃ, وإن عبدا حبشیا, وسترون من بعدی اختلافا شدیدا, فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین, عضوا علیھا بالنواجذ, وإیاکم والأمور المحدثات, فإن کل بدعۃ ضلالۃ) [رواہ ابن ماجۃ ۴۲, وہو حدیث صحیح , صححہ الألبانی ] وفی روایۃ وکل ضلالۃ فی النار . یعنی عرباض بن ساریۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے, یعنی آپ فرماتے ہیں:  ایک روز ہمارے مابین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر بڑی مؤثر  وعظ ونصیحت فرمائی, جسے سن کر دلوں پر لرزہ طاری  ہوگیا, آنکھیں نم ہوگئیں, آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض لوگوں نے کہا: آپ نے ہمیں الوداعی نصیحت کی ہے, ہمیں کوئی  وصیت فرمائیں, تب آپ نے فرمایا : ( اللہ کا تقوى لازم پکڑنا, سمع وطاعت سے کام لینا, چاہے کوئی حبشی غلام  - تم پر امیر – ہو, اور عنقریب میرے بعد تم شدید ترین اختلافات دیکھوگے,  پس تم میری اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا, اسے دانتوں سے پکڑے رکھنا, اور دین میں نئی باتوں سے بچنا, کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے, اور ایک روایت میں ہے کہ ہر بدعت جہنم میں لے جانے والی ہے.

یہ حدیث مبارکہ ذرا ٹھہر کر غور وفکر کی مستحق ہے,  مندرجہ ذیل نکات کی روشنی میں یہاں پر اس کے فوائد ذکر کئے جاتے ہیں.

۱-اس روایت مبارکہ کا ابتدائی حصہ وعظ ونصیحت, اور دوسرا حصہ وصیت علمیہ پر مشتمل ہے, جس میں  واعظ وموصی محمد صلی اللہ علیہ وسلم, موعوظ, وموصى لہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین, البتہ وعظ ووصیت میں سے ایک شیئے کی  تأثیر کا ذکر ہے, دوسری شیئے کی تفصیلات بیان کی گئیں ہیں.

۲-راوی نے یہاں پر وعظ ونصیحت کے الفاظ ذکر نہیں کئے, صرف اس کی تأثیر کا ذکر کیا, کیونکہ وعظ ونصیحت انسانی نفوس کو عمل کے لئے تیار کرتی ہے, نہ یہ کہ رفع جہالت کا سبب بنتی ہے,کہا جاتا ہے کہ وعظ ونصیحت دلوں پر ضرب لگانے والے کوڑوں کے مانند ہوتی ہے, جس کے ذریعے دلوں کو خیر وفلاح کی طرف ہانکا جاتا ہے, لیکن اس سے افضل, اور محفوظ رکھنے والی شیئے علم ہوتی ہے, اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم معلم بناکر بھیجے گئے, اس لئے صحابی نے یہاں الفاظ وعظ ذکر نہیں کئے, بلکہ الفاظ وصیت کو امت تک نقل کیا, یاد رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحتیں کتاب اللہ, احادیث مبارکہ, اور قصص قرآنیہ پر مشتمل ہوا کرتیں تھیں.

۳-مقام وسیاق وصیت سے سمجھ میں آتا ہے, کہ آپ نے یہاں پر اہم ترین وصیت فرمائی, جس میں سب سے پہلے تقوی اختیار کرنے کی وصیت تھی, کیونکہ تقوى سے خالی دلوں پر شیطانی وساوس , نیز نفسیاتی خواہشات کا غلبہ ہوتا ہے, اس لئے بطور مقدمہ سب سے پہلے تقوی- جو کہ عمل قلبی ہے –کی تلقین فرمائی, جو دنیا میں سلامتی کا باعث, اور آخرت میں جہنم سے نجات کا ذریعہ ہے, جس کی اصل وقایہ یعنی حائل ورکاوٹ سے ہے, یعنی اپنے نفس اور اللہ کی لعنت کے مابین آپ نیک اقوال , افعال کی   ایک رکاوٹ اور آڑ بنالیں, آپ اپنےاقوال, اعمال, اخلاق, معاملات, رہن سہن, خلوت وجلوت, بود وباش, سر وعلن میں اللہ سے ڈرتے رہیں, ارشاد باری ہے { ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا} یہاں پر یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ تقوی باری تعالى عقیدہ کی اصلاح, طریقہ کار  کی تصحیح, اور توحید واسقامت على الحق, اور امر الہی کی اتباع کا نام ہے, اللہ نے اس امر کی توضیح اس آیت میں فرمائی ہے { وما أمروا إلا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین حنفاء...}, اور اسی پر استقامت کی دوسری آیت میں یوں تلقین فرمائی { واستقم کما أمرت..}, گویا تقوی کتاب اللہ اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات  پر عمل کا نام ہے, اور یہی  حقیقی علم ہے .

العلم قال الله قال رسوله *** قال الصحابة هم أولو العرفان

ما العلم نصبك للخلاف سفاهة *** بين الرسول وبين رأي فلان

گویا یہاں پر اس اہم وصیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے دو مسائل کی طرف اشارہ فرمایا, تقوی الہی, نیز سمع وطاعت , اور دونوں مسائل کا ایک دوسرے سے گہرا ربط ہے, یا یوں سمجھئے کہ تقوی کے مختلف نتائج وثمرات میں سے سمع وطاعت ایک اہم ترین ثمرہ ہے, جس کا دل تقوی سے خالی ہوگا, اس میں سمع وطاعت کا جذبہ مفقود ہوگا, اسی طرح اس میں یہ بھی واضح ہے کہ صلاح عمل کے صلاح قلب لابدی امر ہے.

۴-تقوی کی وصیت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمع وطاعت کا ذکر کیا, جس میں پہلے کلمے پر عمل کرنے کے لئے کان دھرنا ضروری ہے, جس پر عمل طاعت کی بنا رکھی جائے, یہاں پر جس طرح سے تقوی وسمع وطاعت میں گہرا ربط ہے, اسی طرح سے سمع وطاعت میں بھی گہرا رشتہ ہے, جس طرح سے بلا سمع کے طاعت ممکن نہیں, اسی طرح سے بلا طاعت کے سمع کا کوئی فائدہ نہیں, بلکہ سمع کے بعد عصیان یہود کی اہم صفات میں سے ایک صفت ہے, اسی لئے اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے قرآن دونوں الفاظ کو ایک ساتھ ذکر کرتا ہے, { سمعنا وأطعنا}, اور یہود کی سرکش طبیعت کو سمع مع عدم الطاعۃ کے ساتھ یوں بیان کرتا ہے { سمعنا وعصینا}, گویا امت مسلمہ میں جو امراء اور مسلم حکمرانوں کی باتوں پر دھیان ہی نہیں دھرتے, وہ یہود سے  بھی گئے گزرے, او رجو سننے کے بعد اطاعت فی المعروف سے کام نہیں لیتے, وہ یہود سے مشابہت رکھتے ہیں.

۵-ہمیں یہاں پر اس جملے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ( وإن تأمر علیکم عبد حبشی) یعنی گرچہ آپ پر کوئی حبشی غلام ہی امیر نہ بن بیٹھے, یعنی غلبے, اور قوت کے استعمال سے, پھر دوسرے الفاظ میں کلمہ (حبشی ) کے علاوہ ( مجدع الأطراف ) کا ذکر ہے,ہمیں معلوم ہے کہ یہ گفتگو  مقام وصیت میں ہے, اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث مبارکہ میں کہیں بھی شہر, علاقہ, رنگ , نسل جیسی باتوں کا ذکر نہیں ملتا, اسلام سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے, لیکن یہاں پرخلاف عادت  حبشی, غلام,, ہاتھ پیر سے لاچار جیسی صفات کا ذکر اس لئے کیا گیا , کیونکہ عرب قوم  اپنے غلاموں کو بطور قائد ہرگز قبول نہیں کیا کرتے تھے, ان کے اندر غیرت, اور انانیت تھی, اس لئے آپ نے سمع وطاعت میں تقصیر کے اندیشے کے چلتے انہیں ہدایت دی, کہ مصالح عامہ کی حفاظت کے لئے اس طرح کے شخص کی بھی اطاعت کرنی ہے, اور اس کی باتوں پر دھیان دھرنا ہے, ہمیں معلوم ہے کہ قرآن وسنت میں چھ اطاعتوں کا ذکر ہے, اللہ, اس کے رسول, ولی امر المسلمین, علماء  المسلمین, والدین, شوہر کی اطاعت, اوریہ ساری اطاعتیں اللہ ورسول اللہ کی اطاعت کے تابع ہیں,زیر نظر روایت میں طاعۃ ولی امر المسلمین پر بڑا زور دیا گیا ہے, بلکہ مسلم حکمراں کی اطاعت کوہر حال میں لازم قرار دنے والی احادیث امام شوکانی کے بقول معنى  متواتر ہیں, ان میں سخت تاکید آئی ہے, ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اسمع واطع, وإن ضرب ظھرک, أو أخذ مالک) اگر تمہارا مسلم حکمراں تمہاری پیٹھ پر کوڑے برسائے, اور تمہارے مال کو ناجائز ہڑپ لے, تب بھی اس کی بات کو سنو, اور اس کی اطاعت کرو, کیونکہ اس کی نافرمانی میں دین, نفس, عقل, عزت وآبرو, اور مال سب کا ضیاع ہے, اور اس کی فرمانبراداری میں مصالح عامہ کی حفاظت ورعایت , یہاں پر ولی امر کی اطاعت کی چار صورتیں بیان کی جاتیں ہیں:

۱-وہ  اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے امر کی اتباع کا حکم فرمائے, اس صورت میں لازما اس کی اتباع ہوگی.

۲-کسی ایسے امر کا حکم دے, جس میں اللہ ورسول کی کوئی ہدایت نہیں آئی ہو, تو وہ مباح امر ہے, اس کی ابتاع بھی ضروری ہوگی.

۳-کسی ایسے مسئلے میں وہ اپنی ہدایت صادر فرمائے, جس میں اہل علم کا اختلاف پایا جاتا ہے, ایسے معاملات میں اگر وہ مصلحت عامہ, او ر مختلف ظروف واحوال کا خیال کرتے ہوئے, کسی ایک فقیہ یا عالم کی رائےکو  اختیار کرتا ہے, اور عوام الناس کے لئے اسے لازم الاتباع قرار دیتا ہے, تو اس میں بھی اس کی اطاعت لازم ہوگی.

۴-وہ کوئی ایسا امر صادر فرمائے جس میں اللہ اور ا س کے رسول کی صریح مخالفت ہو, تو ایسی صورت میں اس کی اطاعت لازم نہیں ہوگی, البتہ اس کی ولایت وبیعت باقی رہے گی, اس امر میں بلا فتنہ برپا کئے ہوئے, خروج سے بچتے ہوئے اس کی مخالفت جائز ہوگی.

ہمیں یہاں پر یہ بھی جاننا ضروری ہے, کہ ولی امر کی اطاعت کا مسئلہ کوئی سیاسی اور غیر ضروری مسئلہ نہیں ہے, بلکہ یہ اہل سنت والجماعت کے عقائد سے تعلق رکھتا ہے, اسی لئے جتنے بھی سنی مذاہب ہیں, یا  جتنی بھی عقیدہ کی معتبر کتابیں ہیں, ان سب میں ولی امر کی اطاعت کے مسئلے کو کسی نہ کسی صورت میں بیان کیا گیا ہے, حتى کہ حدیث کی کتابوں میں بھی اس پر الگ ابواب کے تحت حدیثیں درج کی گئیں ہیں,چونکہ ولی امر کے بغیر دنیاوی مصالح کی حفاظت نہیں ہوسکتی, اور سمع کے بغیر اخروی فلاح وکامرانی ممکن نہیں, اس لئے دین ودنیا دونوں کی کامیابی کے لئے سمع وطاعت دونوں ضروری ہیں.

خیال رہےکہ  تنظیر وتطبیق دونوں اعتبار سے  ہمیں امر نبوی  ( سمع وطاعت) پر عمل پیرا ہونا چاہئے, ایسا نہیں ہو کہ ہم تنظیر میں تو سمع وطاعت کی بات کرتے ہوں, اور تطبیق  میں منہج خوارج کے سالک ہوں, یہ بھی خارجیت ہی کی ایک شکل ہے کہ انسان مسئلے کی توضیح کی بات آئے,تو کتب عقیدہ کی روشنی میں خارجیت کی مذمت کرے, اور عملا وہ کسی  نہ کسی صورت میں اسی منہج کا سالک ہو, جس پر قدیم خوارج گامزن تھے, احادیث مبارکہ کے اندر  بڑے سخت الفاظ میں خروج, وخارجیت کی مذمت آئی ہے, آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  ( کلاب اہل النار اہل جہنم کے کتے ) ( شر قتلى  تحت أدیم السماء آسمان تلے سب سے بدترین مقتولین کی جماعت), یقینا اس نبی کے ذریعے ان کی توصیف میں ان  الفاظ کا استعمال کیا جانا- جو ہر لفظ کو بڑے احتیاط سے انتخاب کرتے تھے -قابل غور امر ہے.

۵-حدیث کا یہ ٹکڑا ( فإنہ من یعش بعدی منکم فسیری اختلافا شدیدا) اس بات پر دلالت کرتا ہے, کہ کچھ صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں وفات پائیں گے, اور کچھ آپ کی وفات کے بعد  زندہ رہیں  گے, نیز اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے, کہ آپ پر  وفات  طاری گی, اور جتنے بھی اختلافات امت میں رونما ہونگے, وہ آپ کی وفات کے بعد ہی رونما ہونگے,جن کی نوعیت بڑی شدید ہوگی, ان کا زمانہ بڑا قریب ہوگا,ان اختلافات کے وقت امت کو دی گئی ہدایت سے معلوم ہوتا ہے, کہ یہ اختلافات دینی نوعیت کے ہونگے دنیاوی نوعیت نہیں , اسی لئے آپ تاریخ فرق ومذاہب کا مطالعہ کریں گے, تو معلوم ہوگا کہ فرقہ واریت کا سبب بننے والے سارے اختلافات وفات نبوی کے بعد رونما ہوئے, اور اس فرقہ واریت کی آگ سے صحابہ کرام بلکل محفوظ رہے, اسی لئے  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  اس حدیث میں  اختلاف فی الدین کے وقت رفع اختلاف کا طریقہ بھی بتلایا.

۶-حدیث مبارکہ  میں ایک امر(علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المہدین من بعدی ) ہے, اور ایک نہی ( وإیاکم ومحدثات الأمور ) ہے, ان دونوں کا  رفع اختلاف امت میں بڑا دخل ہے, بلکہ یوں کہا جائے تو بیجا نہیں ہوگا کہ  ان دونوں ہدایات پر عمل پیرا ہونا انسان کو  فرقہ واریت کے زمانے میں گمراہ ہونے سے بچا لے گا, پہلی ہدایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  اپنی سنت, اور اپنے صحابہ کی سنت  کومرجع  قرار دیاہے, آپ نے یہاں پر  ( علیکم بالقرآن) نہیں کہا, بلکہ سنت کا ذکر کیا, جو قرآن کی توضیح وبیان ہے, نیز بہت سارے لوگ  اپنی منشا کے مطابق قرآن  سے استدلال کرتے ہیں, اس لئے قرآن فہمی کے لئے ضروری ہے, کہ انسان کے پاس حدیث نبوی کا فہم, اور سنت خلفاء  پر درک ہو, تبھی جاکر قرآن پر عمل کرنا ممکن ہوسکے گا,نیز یہی قرآنی فہم صحابہ نے امت  کو نقل کیا, اگر  صحابہ  کرام – جو کہ سلف امت ہیں – کی فہم, وفقہ, اور مرجعیت کو ختم کردیا جائے, تو جوجیسے چاہے گا, قرآن کو سمجھے گا, اور جیسے چاہے اس پر عمل کرے گا, کیونکہ ایسا شخص قرآن کا مفسر بن جاتا ہے, جو سنت کی خوشبو سے بھی  کوسوں دور ہوتا ہے,  چنانچہ قرآنی  استدلالات میں وہ سخت قسم کی عقدی, ومنہجی غلطیوںمیں مبتلا ہوجاتا ہے, اتباع سنت میں فہم سنت کی رعایت نصا ثابت ہے, نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے افتراق امت کے وقوع سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا ( ستفترق ہذہ الأمۃ على ثلاث وسبعین ملۃ, کلھا فی النار إلا ملۃ  واحدۃ... من کان على مثل ما أنا علیہ الیوم وأصحابی), اسی طرح ارشاد ربانی ہے { ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدی, ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولى ونصلہ جھنم وساءت مصیرا}, دوسری جگہ یوںآیا ہے { فإن آمنوا بمثل ما آمنتم علیہ فقد اھتدوا, وإن تولوا ...}, اسی  طرح سورۃ الفاتحۃ میں ہمیں یہ دعا سکھلائی گئى ہے { إہدنا الصراط المستقیم, صراط الذین أنعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین}.

مذکورہ دلائل پر غور وفکر کرنے سے یہ بات مترشح ہوجاتی ہے,کہ منہج صحابہ معیار حق وباطل ہے, کیونکہ جس طرح سے قرآن وسنت کو انہوں نے امت تک نقل کیا, اسی طرح سے ان دونوں مصادر شریعت کی فہم بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ کر امت تک پہونچائی , اور یہ بات بلکل غیر منطقی ہے, کہ انہیں نقل کے باب میں امین اور قابل اقتداء مانا جائے, لیکن  فہم نقل کے باب میں ان کی اتباع سے روگردانی کی جائے, مذکورہ دلائل کا نچوڑ ہی یہ ہے, کہ ضلالت سے بچنے کے لئے منہج سلف کی اتباع لازی امر ہے, اور سلف سے مراد صحابہ, اور صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والی جماعت تھے.

یہاں پر ایک بات یہ بھی سمجھنے کی ہے, کہ اگر صحابہ معیار حق وباطل ہیں, ان کی فہم کو چھوڑ کر قرآن وسنت کو کما حقہ نہیں سمجھا جاسکتا, اور نہ ہی دین پر عمل کیا جاسکتا ہے, تو جو لوگ صحابہ کو غیر فقیہ قرار دے کر نچلے درجے کے لوگوں کی فقہ وفہم کو ان سے بڑا درجہ دیتے ہیں, یا پھر صحابہ ہی کو غیر امین قرار د ے دیتے ہیں, یا پھر ان پر دشنام ترازیاں کرتے ہیں, یا ان سے منقول روایتوں پر عقل کی روشنی میں نقد کرتے ہیں, یا بعض صحابہ کی عدالت وثقاہت پر اعتراض کرتے ہیں, یا انہیں متہم بالکذب قرار دیتے ہیں, یا ان میں کے ایک گروہ کو دنیا پرست, اور خوف الہی سے عاری قرار دیتے ہیں, وہ حق پر کیسے ہوسکتے ہیں؟!, اسی لئے فرق ومذاہب پر لکھی گئی مستند کتابوں کے مطالعے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے, کہ امت میں فرقہ واریت کی اصل جڑ سنت سے انحراف, اور منہج صحابہ سے روگردانی ہی رہی ہے.

حدیث مبارکہ میں امر کے بعد جو نہی ہے, وہ بھی بڑى اہم ہے, اور افتراق وانتشار سے بچنے میں اہم رول ادا کرنے والی ہدایت پر مشتمل ہے,  آپ نے فرمایا ( وإیاکم ومحدثات الأمور , فإن کل محدثۃ بدعۃ, وکل بدعۃ ضلالۃ, . وفی روایۃ وکل صلالۃ فی النار )  جس میں قرآن وسنت , اور منہج سلف کی عدم اتباع سے پیدا ہونے والے برے نتائج کی طرف نشاندہی ہے, وہ یہ کہ صحیح منہج کو ترک کرنے کی پاداش میں بدعات وخرافات جنم لیں گیں, نیز یہ بدعات شدید افتراق کا سبب بنیں گیں, پھر اس حدیث میں دین میں بدعات کی تعریف بھی ہے, اس کا حکم بھی ذکر ہے, اور اس کے انجام بد کی نشاندہی بھی, گویا ہر بدعت بلا امتیاز حسنہ وسیئہ گمراہی ہے, اور اس گمراہی کا انجام جہنم ہے, اور ایسے شخص کے لئے  بروز قیامت حوض کوثر پر ذلت وخواری ہے.

  صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ  وسلم جب حوض کوثر پر پانی پلا رہے ہونگے, کچھ لوگوں کو روک لیا جائے گا, آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آنے دینے کی ہدایت فرمائیں گے, کیونکہ ان  کے وضو کے اعضاء چمک رہے ہونگے, لیکن انہیں فرشتے یہ کہہ کر  آگے نہیں بڑھنے دیں گے, کہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد انہوں نے دین میں کیسی کیسی باتیں ایجاد کرلی تھیں, تب آپ انہیں دور کرتے ہوئے کہیں ( سحقا سحقا لمن بدل وغیر), یہاں پر جہاں بدعات وخرافات کے انجام بد کا علم ہوتا ہے, وہیں اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم  جس طرح سے  قبل از نبوت , وبعد از نبوت علم غیب نہیں  جانتے تھے, اسی طرح  بعد از وفات عالم برزخ ,  وعالم آخرت مین بھی  غیب  نہیں جان رہے ہونگے.

۷-اس عظیم حدیث او رمابعد وفات نبوی رونما ہونے والے اختلافات  کے درمیان جب ہم کلی تطابق پاتے ہیں, تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث دلائل نبوت میں سے ایک ہے, اسی لئے جتنے فرقے برپا ہوئے, وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پیدا ہوئے, اور صحابہ کے زمانے کے گزرنے کے بعد ان کی خوب افزائش وزیبائش ہوئی, چنانچے مرجئہ, قادریہ, جہمیہ, ماتریدیہ, اشعریہ, صوفیہ,خوارج, روافض, نیز معتزلہ سارے فرقے بعد از وفات نبوی ظاہر ہوئے, اور صحابی ان فرقوں کے کسی بھی عقیدے کا متحمل نہیں تھا, صحیح کہا ہے بعض اسلاف نے (ما لم یکن ذلک الیوم دین, لا یکون الیوم دین) جو صحابہ کرام کے زمانے میں دین نہ ہو, وہ آج  بھی دین  نہیں ہو سکتا.

یہاں پر یہ بات بھی مد نظر رہے کہ دلیل کے ساتھ استدلال بھی صحیح ہونا چاہئے, امام دارمی نے ایک حدیث روایت کی ہے, جس میں ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں آتے ہیں, اور دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ  اپنا ایک پیشوا مقرر کر اللہ کے ذکر میں لگے ہوئے ہیں, ان میں ایک کہہ رہا ہے, کہ سو مرتبہ تسبیح پڑھو, سو مرتبہ  لا الہ إلا اللہ پڑھو...اور وہ سب مل کر تسبیحات وتہلیلات میں لگے ہوئے ہیں, آپ ان کی اس کیفیت کو دیکھ کر ابو عبد الرحمن ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر جاتے ہیں, اور انہیں اس عمل کے متعلق بتلاتے ہیں, آپ ان لوگوں کے پاس آکر ان سے دریافت کرتے ہیں, آپ کیا کر رہے ہیں؟, سب لوگ خاموش رہتے ہیں, ان میں سے  ایک کہتا ہے, اللہ کا ذکر کر رہے ہیں, آپ اس کی بات سن کر کہتے ہیں ( ویحکم یا امۃ محمد ما اسرع ہلکتکم , ھؤلاء صحابۃ نبیکم صلی اللہ علیہ وسلم متوافرون, وھذہ ثیابہ لم تبل,وآنیتہ لم تکسر, والذی نفس محمد بیدہ, إنکم لعلى ملۃ ھی أھدى من ملۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم, أو مفتحوا باب ضلالۃیعنی اے امت محمد کتنی جلدی تم نے ہلاکت اختیار کرلی,  یہ تمہارے نبی کے صحابہ بکثرت موجود ہیں, یہ آپ کے کپڑے رہے, جو ابھی بوسیدہ بھی نہیں ہوئے,  یہ آپ کے برتن رہے جنہیں ابھی توڑا بھی نہیں گیا, اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے, یا تو تم محمد کی امت سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو, یا تم ضلالت کا دروازہ کھولنے والے ہو ) یہ سن کر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ابوعبد الرحمن ہم نے  تو خیر ہی کا ارادہ کیاتھا, یہ سن کر آپ نے فرمایا ( کم من مرید للخیر لن یصیبہ, إن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدثنا أن قوما یقرؤون القرآن لا یجاوز تراقیھم, وأیم اللہ ما أدری لعل أکثرھم منکم ثم تولى عنھم یعنی کتنے ہی خیر کا ارادہ رکھنے والے خیر کو نہیں پاتے, یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتلایا تھا کہ بعض لوگ قرآن کی تلاوت کریں گے, جو ان کی گردن سے نیچے نہیں اترے گا, اللہ کی قسم میں سمجھتا ہوں کہ کہیں ان میں کی اکثریت تم ہی میں سے نہ ہو, پھر آپ ان کے پاس سے چلے گئے.

بدعات وخرافات پر رد کے لئے یہ حدیث بطور مثال پیش کی جاسکتی ہے, آپ نے نہایت سخت لہجے میں انہیں مخاطب کیا, ان کا ارادہ گرچہ نیک تھا, لیکن طریقہ کار غلط تھا, اس لئے دلیل کا ہونا کافی نہیں ہے, بلکہ استدلال بھی صحیح ہونا چاہئے, اور بوقت استدلال صحابہ کرام کی فہم وعمل کو نظر میں رکھنا چاہئے, اگر یہ لوگ بھی صحابہ کرام کے طریقہ کار پر عمل پیرا ہوتے, تو کبھی بھی اس خلاف سنت عمل کی شروعات نہیں کرتے, ان میں ایک بھی صحابی نہیں تھا, جاہلوں کی ٹولی جمع ہوکر اچھے ارادے سے ذکر الہی کے لئے جمع ہوئی, لیکن طریقہ کار میں خطا کی شکار ہوئی,  اس واقعے میں مناظرہ, سوال, اور باہمی اخذ ورد کے بعد سخت کلامی جیسے نکات سے مخالف کے ساتھ رد باطل کے مختلف طریقوں کو استعمال کرنے کی نشاندہی ہے.

اب یہاں پر ذرا غور کریں دنیا میں کوئی بھی مسلمان کیا کبھی یہ چاہتا ہے کہ وہ جہنم کمائے, سب کی نیت خیر کی ہوتی ہے, چاہے کوئی قبر پر جارہا ہو, یا پھر مزا ر پر سجدہ ریز ہورہا ہو, چاہے مسلم ممالک میں فتنہ برپا کرنے والے , اور معصوموں کا قتل کرنے  والے خوارج ہوں, وہ سب جنت چاہتے ہیں, لیکن ان کے ذہن ودماغ میں شبہات وشہوات کو اس قدر بٹھا دیا جاتا ہے, کہ وہ باطل کو حق , اورحق کو باطل سمجھنے لگتے ہیں,  ایسے ہی  جیسے کوئی کہے سورج مغرب سے طلوع ہوتا ہے, بھینس کا رنگ سفید ہوتا ہے, اسی لئے حضرت عثمان پر حملہ کرنے والے خوارج کی نظر میں آپ اکفر الکفار تھے, کیونکہ یہ عقیدہ اسلامیہ او رسنت نبویہ سے  منحرف ہوچکے تھے, ان کی غلط ذہن سازی, اور غلط استدلال کی وجہ سے  انہوں نے جنت کی بشارت پا چکے صحابی کو اکفر الناس قرار دیا, معرکہ نہروان میں ایک صحابہ نے ایک خارجی پر تلوار سے وار کیا, جو اس کی پشت سے سینے میں پار ہوگئی, صحابی نے اسے جہنم کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا ( إلى جہنم وبئس المصیر) تو اس خارجی نے زخمی حالت میں صحابی کی طرف رخ کرکے کہا (  ثم لنحن أعلم بالذین ھم  أولى بھا صلیا}یعنی صحابہ کی عدالت وثقاہت میں شک, عقیدہ اسلامیہ سے انحراف, حدیث وسنت سے جہالت, طریقہ صحابہ سے انحراف, مسئلہ تحکیم کی غلط فہم.

یہاں پر ایک بات او رغور کرنے کی یہ ہے کہ یہ سارے خوارج  اس لئے علی رضی اللہ عنہ کے لشکر سے الگ ہوئے, کیونکہ یہ بھی حکومت الہیہ کا قیام چاہتے تھے, اور { ومن لم یحکم بما انزل اللہ فأولئک ھم الکافرون} سے  استدلال کرتے ہوئے حضرت علی ومعاویہ دونوں پر کفر کا فتوى لگاتے تھے, مسلم حکمراں کی تشہیر کرنا, نیز اسے قتل کرنے کی پلاننگ کرنا, اس کے خلاف بغاوت کی فضا ہموار کرنا, اس کی طرف سے بلا تحقیق خبریں لوگوں میں عام کرنا, اور پھر امن وامان کو خراب کرنے کے لئے سری او رخفیہ طریقے سے مسلم ریاست کے خلاف جتھ بازی کرنا خوارج کی تاریخ کا جزو لا ینفک رہا ہے, اسی لئے عصر حاضر میں خروج کی فضا ہموار کرنے والے ادیب سید قطب آج کل کے مسلمانوں کی مسجدوں کو جاہلی عبادت خانے قرار دیتے ہیں, پورے مسلم سماج کی تکفیر کے قائل ہیں, ان کے ساتھ جمعہ وجماعت کو ناجائز سمجھتے ہیں, اور تاریخ اسلام میں حضرت عثمان کے دور خلافت کو ایک خلا ء مانتے ہیں, نیز قاتلین عثمان  خوارج کو اسلام کی روح سے زیادہ قریب قرار دیتے ہیں.

آپ حضرت علی  رضی اللہ عنہ کے قاتل  ابن ملجم  ہی کو  لیجئے , یہ قرآن کا حافظ تھا, حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی نے اپنے دو رخلافت میں اس کے لئے تاریخ اسلام کا پہلا خطی توصیہ لکھاتھا, لیکن وہ جنت کی بشارت حاصل کرچکے صحابی علی بن ابی طالب کو کافر ومرتد سمجھتا تھا, اس کو توصیہ لکھنے والا بھی عشرہ مبشرین بالجنۃ میں سے تھے, اور اس کے ہاتھوں شہید ہونے والے شخص بھی مبشرین بالجنۃ میں سے ایک تھے, اور دونوں خلیفہ تھے, لیکن یہ ظالم جب حضرت علی پر وار کرتا ہے, تو آپ کو اس طرح مخاطب کرتا ہے ( ذق عذاب اللہ ...) حضرت عمر نے اپنے گمان کےمطابق اسے توصیہ لکھا, یہ وقتی شیئے تھی, کیونکہ توصیات موت تک کسی کے خیر ہونے کی شہادت نہیں ہوتے,اسی لئے عصر حاضر میں بہت سارے لوگ شیخ ابن عثیمین, شیخ ابن باز, شیخ ناصر الدین الالبانی کے توصیات کو دلیل بناکر بعض منحرف جماعتوں کی توثیق کرتے ہیں, اکثر تو ایسا ہوتا ہے کہ لوگ آپ کے توصیات کو توڑ مروڑ کر سیاق وسباق سے کاٹ کر پیش کرتے ہیں, لیکن اگر کسی جماعت کی ان ربانی علماء نے کبھی تعریف بھی کی ہوتی ہے, تو وقتی ہوتی ہے, کیونکہ توصیت قیامت تک کے لئے ہدایت  یافتہ ہونے کی شہادت نہیں ہوتے.

۸-ہمیں اس حدیث سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ انسان کو باطل افکار ونظریات کی معرفت ہونی چاہئے, جیسا کہ صحابہ کرام کے زمانے میں عوام کو ہوا کرتی تھی, معاذہ نامی ایک تابعیہ اماں عائشہ کے پاس آتیں ہیں, اور آپ سے کہتیں ہیں, میری ماں ! بتلائیں کیا حائضہ عورت نماز  کی قضاء کرے گی؟ اس وقت خوارج کے بارے میں یہ عام تھا کہ وہ حائضہ کے لئے نماز کی قضاء کو واجب قرار دیتے ہیں,  تو اماں عائشہ نے اس سے پوچھا : کیا خارجیہ حروریہ ہو؟ آپ فورا جواب دیتیں ہیں, کہ نہیں ماں ! میں حروریہ نہیں ہوں,  سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک عورت حیض ونفاس کے مسائل نہیں جانتی, لیکن وہ یہ جانتی ہے, کہ حروری , خوارج کون ہوتے ہیں؟ جبکہ  حروریہ مدینہ میں نہیں پائے جاتے تھے, وہ عراق میں تھے, اور یہ واقعہ مدینہ میں پیش آیا, اس لئے باطل فرقوں کی معرفت رکھنا, اور لوگوں کو ان کے باطل عقائد سے آگاہ کرنا صحابہ کرام کا طریقہ کار رہا ہے.

خلاصہ کلام یہ کہ صحابہ کی دعوت توحید الوہیت پر مبنی تھی, نہ کہ توحید حاکمیت  کی تحقیق پر ,نیز قرآن وسنت کے ساتھ صحابہ کرام  کی فہم  مرجع ہدایت کی حیثیت رکھتی ہے, اس لئے منہج سلف کو اتباع کتاب وسنت سے جدا نہیں کرسکتے, ہماری دعوت میں توحید کا پہلو غالب ہونا چاہئے, نیز توحید سے منحرف افکار ونظریات پر قرآن وسنت کی روشنی میں کلام بھی کرنا چاہئے, اور عصر حاضر کے منحرف فرقوں سے دور رہنا چاہئے,نیز نیت واتباع, تنظیر وتطبیق, دلیل وستدلال سب میں ہمیں صحابہ کے منہج کا پاپیند ہونا چاہئے, اور ایسے لوگوں سے کوسوں دور رہنا چاہئے جو صحابہ اور منہج صحابہ پر طرح طرح سے اعتراضات کرتے ہیں, حدیثوں کو اقوال خلف کی روشنی میں پرکھتے ہیں, شخصیت پرستی کے  مہلک مرض میں گرفتار ہیں, حق کو اشخاص سے نہیں فہم صحابہ او ر کتاب وسنت سے تولنا چاہئے, تعصب للأشخاص نہیں, بلکہ تعصب للحق کے راستے کوہمیں  اپنانا چاہئے.

اللہ تعالى ہمیں راہ ہدایت کا سالک بنائے. آمین.

نوٹ: یہ مقالہ شیخ محمد بن رمزان الہاجری کے  ایک  محاضرے کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے, جس کی تاریخ ۲۵/۰۸/۲۰۲۲ مطابق ۲۶/۰۱/۱۴۴۴ھ بوقت ۴:۳۰ م ہے.

آپ کا ردعمل کیا ہے؟

like

dislike

love

funny

angry

sad

wow