ماہ محرم میں رونما ہونے والے عظیم تاریخی واقعات

اگست 22, 2024 - 13:18
Jul 9, 2025 - 15:12
 0  514
ماہ محرم میں رونما ہونے والے عظیم تاریخی واقعات

ماہ محرم میں رونما ہونے والے عظیم تاریخی واقعات

از قلم ساجد ولی

ماہ محرم ان چار مہینوں میں سے ایک ہے, جنہیں حرمت والا مہینہ کہا جاتا ہے, سورہ توبہ میں اللہ تعالى ارشاد فرماتا ہے { إن عدۃ الشہور عند الہ اثنا عشر شہرا فی کتاب اللہ یوم خلق السماوات والأرض منہا أربعۃ حرم}, وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ( الزمان قد استدار کہیئتہ یوم خلق السماوات والأرض, السنۃ اثنا عشر شہرا, منہا اربعۃ حرم, ثلاثۃ متوالیات, ذو القعدۃ, وذو الحجۃ, والمحرم, ورجب مضر الذی بین جمادی وشعبان) رواہ البخاری, تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے, کہ اس مہینے میں بہت عظیم واقعات اور حادثات پیش آئے, اختصار کے ساتھ ان واقعات کی تفصیل پیش خدمت ہے.

۱-ماہ محرم سنہ ۳ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد سے قبل ایک تادیبی کاروائی کی, آپ کو یہ پتہ چلا کہ بنو ثعلبہ, او ربو محارب قبیلوں کے بہت سارے دشمن آپ سے لڑائی کی تیاری کر رہے ہیں, اور حملے کے لئے مکمل تیار ہیں, آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین بنا کر ساڑے چار سو جنگ جؤوں کے ساتھ  مقام ذی امر کی طرف بڑھے, آپ کی خبر سن کر دشمن پہاڑوں میں منتشر ہوگیا, اور اس طرح سے لڑائی کا یہ خطرہ مکمل ختم ہوگیا, اور آپ مدینہ کی طرف لوٹ آئے.

۲-ماہ محرم سنہ ۴ ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر لگی کہ طلحہ اور سلمہ بن خویلد بنو اسد بن خزیمہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی پر ابھار رہے ہیں, اس خطرے کو ختم کرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سلمہ کی قیادت میں ایک سو پچاس فوجیوں کے ساتھ روانہ کیا,  اس میں مسلمانوں نے اپنی بہادری سے جنگ کے اس خطرے کو بھی ختم کردیا, اور فتحیاب ہوکر لوٹے.

۳-اسی ماہ محرم میں سنہ ۶ ہجری کو غزوہ احزاب اور غزوہ بنو قریظہ سے فارغ ہونے کے بعد تیس گھڑسواروں پر متشمل ایک  سریہ روانہ ہوا, جسے بنو بکر بن قلاب کی سرزنش کے لئے نحد کی طرف روانہ کیا گیا, اس لڑائی میں ثمامہ بن اثال الحنفی گرفتار ہوا, جو قبیلہ بنو حنیفہ کا سردار تھا, یہمسیلمہ الکذاب کے حکم پر اپنے علاقے سے بھیس بدل کر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے نکلا تھا, لیکن گرفتار ہوا,  اسے مسجد میں قید کردیا گیا, تین مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حال چال دریافت کیا, اور بلا کسی شرط کے رہا کرنے کا حکم دیا, وہ کچھ دور گیا, لیکن یہ عظیم اخلاق اس پر اتنے اثر انداز ہوئے کہ غسل فرما کر دوبارہ حاضر ہوا, اور ہمیشہ ہمیش کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق کا اسیر ہوگیا, اور دامن اسلام کی ٹھنڈی آغوش میں پناہ گزیں ہوگیا.

۴-اسی ماہ محرم میں سنہ ۷ ہجری کو غزوہ خیبر پیش آیا, اصل میں  یہ یہود کے خلاف جنگ تھی, جو ہمیشہ اپنی چال بازیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت اذیت دینے میں لگے رہتے تھے, انہیں میں کی ایک عورت نے آپ کو بکری کی ران میں زہر ملاکر مار ڈالنے کی کوشش کی, انبیاء کو قتل کرنے والی اس قوم کی شازسوں کا پانی جب سر سے اوپر اٹھ گیا, تو آپ نے ان کے علاقوں پر چڑھائی کی,  آپ نے فرمایا ( اللہ اکبرخربت خیبر, اللہ اکبرخربت خیبر, إنا إذا نزلنا بساحۃ قوم فساء صباح المنذرین) [رواہ البخاری]. اس جنگ کے علم دار آپ نے بالخصوص حضرت علی کوبنایا, اور ان کے ہاتھوں اللہ تعالى نے مسلمانوں کو فتحیاب کیا, اور خیبر کی طرف سے بار بار ریشہ دوانیوں کا سلسلہ ہمیشہ ہمیش کے لئے ختم ہوگیا.

۵-اسی سال سنہ ۷ ہجری ماہ محرم ہی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بیٹی رملہ بنت ابی سفیان کو نکاح کا پیغام بھی پیش کیا,  آپ پہلے عبید اللہ بن جحش کی زوجیت میں تھیں, آپ اور آپ کے یہ شوہر اسلام قبول کر حبشہ کی طرف ہجرت کرتے ہیں, لیکن سوء اتفاق سے عبید اللہ بن جحش مرتد ہوکر حبشہ میں نصرانیت قبول کرلیتے ہیں, حضرت ام حبیبہ یعنی رملہ بنت ابی سفیان خوب کوشش کرتی ہیں کہ وہ اسلام پر باقی رہیں, لیکن آپ اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوتیں, اور بالآخر آپ کے شوہر کی وفات نصرانیت ہی پر ہوجاتی ہے, آپ کو اس سے بڑی تکلیف پہونچتی ہے, آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیووؤں کا سہارا تھے,آپ نے اس قرشی خاندان کی غیرت مند مؤمنہ کے غم کو ہلکا کرنے کے لئے نجاشی کو  ان سے نکاح کا پیغام لکھ بھیجا, نجاشی نے آپ سے ان کی شادی فرمائی.

۶-اسی ماہ محرم میں سنہ ۹ ہجری کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس گھڑسواروں پر مشتمل ایک سریہ عیینہ بن حصن کی قیادت میں بنو تمیم کی طرف روانہ کیا, ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے اپنے قرب وجوار کے قبیلوں کو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ٹیکس دینے سے انکار کردیا تھا, جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ماتحت کے علاقوں سے ان کی حفاظت کے عوض لیا کرتے تھے, آپ نے ان کا تعاقب کیا, اور ان کی سرزنش کے لئے یہ سریہ روانہ فرمایا.

۷-اسی ماہ محرم میں سنہ ۱۴ ہجری کو معرکہ قادسیہ پیش آیا, جس میں سعد بن ابی وقاص  کے زیر قیادت مسلمان فتحیاب ہوئے, فارسی اس جنگ میں رستم بن فرخزاد  ارمنی کی قیادت میں تھے, ان کی تعداد دولاکھ جنگجووں پر متشمل تھی, ان میں تیتیس ہاتھی بھی شریک جنگ تھے, مسلمانوں کا لشکر صرف تیس ہزار کی تعداد پر متشمل تھا, اس جنگ میں دشمن کی فوج سے تیس ہزار لڑاکو ہلاک ہوئے, اور تیس ہزار  لوگ گرفتار ہوئے, اور مسلمانوں میں سے دھائی ہزار لوگ شہید ہوئے,  یہ لڑائی جمعہ سے لے کر سوموار تک چار روز تک جاری رہی, اس کی پہلی رات کو اہل تاریخ الہدأۃ, دوسری رات کو السواد, تیسری رات کو الہریر, اور چوتھے دن کو یوم قادسیہ کہتے ہیں.

۸-اسی ماہ محرم میں سنہ ۱۹ ہجری کو عراق کا شہر نہاوند فتح ہوا,اس فتح کو مسلمان فتح الفتوح کہتے تھے, اس میں فارسی جنگ جووں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تھی, جن کی قیادت سخت رو فارسی کمانڈر فیرزان بن ہرمز کے ہاتھوں تھی,  یہ خود مسلمانوں کی لاعلمی میں نہاوند کی سرزمین پر جمع ہوئے, تاکہ مسلمانوں کو دھوکے سے  نشانہ بنائے, حضرت عمر کوجب ان کے اس بد ارادے کا علم ہوا,  آپ نعمان بن مقرن کی قیادت میں تیس ہزار کی ایک فوج ان کے مقابلے کے روانہ کی, گرچہ مسلمانوں کے جرنیل نعمان بن مقرن اس جنگ میں شہید ہوگئے, لیکن فتح مسلمانوں ہی کو نصیب ہوئی.

۹-اسی ماہ محرم میں اللہ تعالى نے حضرت موسی علیہ اسلام کو فرعون اور اس کی فوج سے نجات دی, اور فرعون کو سمندر میں غرق کیا, اسی لئے یہود اس دن کو فتح کی خوشی میں روزہ رکھا کرتے, ىپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی امت کے لئے دن محرم, اور نو محرم کا روزہ مسنون قرار دیا, آپ نے۱۰ محرم کا روزہ رکھا, اور ۹ محرم کا روزہ رکھنے کی خواہش فرمائی, لیکن زندگی نے مہلت نہ دی, اور اس خواہش کے ساتھ ہی آپ دنیا سے رحلت فرماگئے.

۱۰-ماہ محرم میں رونما ہونے والے حادثات کو ہم اس تکلیف دہ واقعے پر ختم کرتے ہیں, جو ۱۰ محرم سنہ ۶۱ ہجری میں پیش آیا, جسے ہم حسین بن علی کی شہادت کا واقعہ کہتے ہیں, آپ اہل کوفہ کی دعوت پر کوفہ کی طرف نکلے, اہل بیت میں سے ۷۲ افراد کا قافلہ آپ کے ساتھ تھا, میدان کربلا میں آپ کی مٹ بھیڑ  عمر بن سعد بن ابی وقاص کی قیادت میں چار ہزار فوجیوں سے ہوئی, بڑی سخت لڑائی کے بعد آپ کو یہاں پر ظلما شہید کردیا گیا, اور تاریخ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا, جس کوجب کوئی بھی صاحب ایمان پڑھتا ہے, تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں.

اللہ تعالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم, آپ کی آل والاد, اور آپ کے اصحاب کرام پر درود وسلام کی بارشیں نازل فرمائے. آمین.

 

 

آپ کا ردعمل کیا ہے؟

like

dislike

love

funny

angry

sad

wow