وہ عظیم صحابی جس سے اللہ تعالی ہم کلام ہوئے

ازقلم ساجد ولی

اگست 25, 2024 - 00:09
اگست 25, 2024 - 23:25
 0  340
وہ عظیم صحابی جس سے اللہ تعالی  ہم کلام ہوئے

عبد اللہ بن عمرو بن حرام بن ثعلبہ الانصاری اسلام کے ان شیدائیوں میں شے ایک ہیں جنہوں نے اپنی گردن کٹا کر دین اسلام کو سر بلند کیا, جنہوں نے رہتی دنیا تک حق کی راہ میں مر مٹنے کی وہ مثال نقشہ تاریخ پر رقم کی, جسے جب بھی کوئی پڑھیگا, تو ایک لمحے کے لئے ٹھہر کر یہ سوچنے پر ضرور مجبور ہوگا, ہم نے اسلام کے لئے کیا کیا ہے؟ آپ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے والد محترم تھے, بدر واحد میں آپ نے شرکت فرمائی, آپ بیعت عقبہ کے ان تقیبوں میں سے ایک تھے جنہوں نے سچے دل سے نبی اسلام کی نصرت وتائید کی قسم کھائی تھی, جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ( أنا وأبی, وخالی من اصحاب العقبۃ) رواہ البخاری یعنی میں , میرے والد, اور میرے خالو بیعت عقبہ میں شریک تھے.

آپ کی زندگی کے متعلق بہت کچھ تاریخ میں محفوظ نہیں ہے,   البتہ جو معلومات بھی آپ کے متعلق ہیں وہ نہایت عظیم ہیں, اور قابل فراموش .

آپ کا اکلوتا بیٹا جابر, اور نو بیٹیا ں تھیں,غزوہ احد کے حالات بنتے ہیں, جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میرے والد نے مجھ سے کہا: مجھے لگتا ہے کہ کل مجھے سب سے پہلے شرف شہادت نصیب ہوگا, میری بیٹیوں کا خیال رکھنا.

جب جنگ احد کی شروعات ہوئی, تو آپ ابتدائی مرحلے ہی میں شہید ہوگئے,  جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کو کپڑے میں لپٹے ہوئے دیکھا, آپ کے جسم سے خون بہہ رہا تھا, آپ میں مارے غم کے اس بات کی طاقت نہ تھی, کہ اپنے والد کو آخری نظر تو دیکھ سکیں, آپ کا بیان ہے کہ جب میرے والد شہید ہوئے, میں آپ کے چہرے سے کپڑا اٹھاتا جاتا اورروتا جاتا,  نبی پاک کے علاوہ سب لوگ مجھے رونے سے منع کر رہے تھے, میری پھوپھی فاطمہ بھی رونے لگیں, تو آپ نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ( تبکین او لا تبکین ما زالت الملائکۃ تظلہ بأجنحتہا حتى رفعتموہ) تم روو یا نہیں روؤ, ان پر  اس وقت تک فرشتوں نے اپنے پروں سے سایہ کئے رکھا جب تک کہ تم نے ان کا جنازہ اٹھا نہ لیا.

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی وفات پر بہت غم لاحق ہوا, حزن وملال آپ کے چہرے پر واضح طور پر نظر آنے لگا, نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے ملاقات کی, اور پوچھا: جابر کیوں اتنے غم زدہ نظر آرہے ہو؟ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ سے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد بہت سارے بچے, اور قرض چھوڑ کر دنیا سے چلے گئے, آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  : تمہیں بتلاؤں کہ تمہارے والد کو اللہ نے کیسے نوازا ہے؟ میں نے کہا: ضرور بتلا ئیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم, آ پنے فرمایا: ( اللہ نے کسی سے بھی کوئی کبھی گفتگو کی ہے, تو پردے کے پیچھے سے ہی کی ہے, البتہ تمہارے والد سے بلا حجاب گفتگو کی ہے, او رکہا ہے کہ اے میرے بندے تمنا کرو, تو انہوں نے یہ تمنا کی کہ اے اللہ مجھے دوبارہ زندگی عطا فرما, تاکہ دوبارہ تیری خاطر دوبارہ شہید ہوسکوں, رب کریم نے فرمایا: میرا سابقہ یہ فیصلہ ہوچکا ہے, کہ دنیا کی طرف انہیں دوبارہ نہیں لوٹایا جائے گا, آپ نےفرمایا, اے رب میرے پیچھے جو لوگ ہیں ان تک یہ بات پہونچا دیجئے, حضرت جابر فرماتے ہیں کہ اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی ( ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ أمواتا بل احیاء عند ربہم یرزقون) اخرجہ الترمذی, وابن ماجہ.

اللہ نے آپ کی اولاد کی بھی حفاظت فرمائی, قرض کی ادائیگی کا بھی انتظام ہوگیا, اور ساتھ ساتھ یہ عظیم شرف بھی آح کو حاصل ہوا کہ اللہ تعالی نے آپ سے بلاحجاب گفتگو کی, حضرت جابر فرماتے ہیں, کہ میں میرے والد کے قرض خواہوں کے پاس گیا, ان سے قرض معاف کرنے کی گزارش کی, انہوں نے معاف نہیں کیا, میں نے نبی پاک کے ذریعہ قرض معاف کرانے کی کوشش کی البتہ وہ راض نہ ہوئے, پھر آپ نے فرمایا کہ اپنے گھر کے کھجوروں کو یکجا کرکے انہیں بلالینا, پھر میں آتا ہوں, میں ایسا ہی کیا, آپ ان کھجوروں کے ڈھیر پر بیٹھ گئے, اور ہر قرض خواہ کو اپنے ہاتھ سے تو ل تول کردیتے رہے, وہ سب اپنا حق لے گئے, او رکھجور اتنے کے اتنے ہی رہے... رواہ البخاری.

آپ اور اس جنگ میں شہید ہونے والے دوسرے صحابہ کرام کو اللہ نے عظیم مقام ومرتبہ عطا فرمایا, یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  یہ اس خواہش کا اظہا ر کرتے تھے کہ اے کاش میں بھی اصحاب احد کے ساتھ شہید ہوجاتا ( واللہ لوددت أنی غودرت مع أصحاب فحص الجبل) یعنی قتلت معہم.

 آپ کے متعلق  آتا ہے کہ انہیں عمرو بن الجموح کے ساتھ وفن کیا گیا تھا,  ایک زمانے کے بعد سیلاب کی وجہ سے آپ دونوں کی قبر کھل گئی, آپ کوچہرے پر زخم لگا تھا, حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو آپ کی قبر میں دیکھا, تو ایسا لگا کہ آپ نیند فرما رہے ہیں, آپ کے جسم کی کوئی بھی شیئے تبدیل نہیں ہوئی تھی, آپ کا ہاتھ آپ کے زخم پر تھا, اسے جب ہٹایا گیا, تو اس سے خون بہنے لگا, پھر اسے دوبارہ زخم پر رکھ دیا گیا, تو خون کا بہنا بند ہوگیا, اس واقعے اور آپ کی شہادت کے درمیان تقریبا چھیالیس سال کا وقفہ تھا.

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا+ ہر مدعی  کے واسطے دارورسن کہاں

ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربہم یرزقون, فرحین بما اتاہم اللہ من فضلہ, ویستبشرون بالذین لم یلحقوا بہم من خلفہم ألا خوف علیہم ولا ہم یحزنون, یستبشرون بنعمۃ من اللہ وفضل وأن اللہ لا یضیع أجر المحسنین.

اللہ ہمیں صحابہ جیسا ایمان, صحابہ جیسا یقین, اخلاص اور جذبہ قربانی نصیب فرمائے, آمین, وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم

آپ کا ردعمل کیا ہے؟

like

dislike

love

funny

angry

sad

wow