وہ صحابی جس کی ماں ہی اس کے لئے جلاد بن گئی!

از قلم ساجد ولی

اگست 24, 2024 - 23:43
اگست 25, 2024 - 23:27
 0  180
وہ صحابی جس کی ماں  ہی اس کے لئے جلاد بن گئی!

تصور کیجئے ماں ایک عظیم دولت ہے, ہر انسان اس کے رحم میں پرورش پاتا ہے, اس کی پستان سے دودھ پی کر پروان چڑھتا ہے, اس کی لوریاں سنتے سنتے نیند کی عادت ڈال لیتا ہے, اس کی مشفق باہوں میں جھولا جھولتے ہوئےسن شعور کو پہونچتا ہے, اس کے آنچل کی ٹھنڈک بڑھاپے تک محسوس کرتا ہے, خوف وہراس کے عالم میں اسکی پناہ لیتا ہے, وہی ماں اگر کسی کے لئے جلاد بن جائے, اس کا  کشادہ آنچل کسی کے لئے اگر تنگ ہوجائے, تو کیا حال ہوگا, کچھ ایسا ہی ہوا  اس صحابی کے ساتھ جو بدر واحد میں حامل لواء رسول تھے, اسلام کے پہلے سفیر تھے, وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مدینہ میں جمعہ کی نماز ادا کی, ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے حق کو قبول کیا, کلمہ شہادت ادا کیا, چھپ چھپ کر دار ارقم میں محمد رسول اللہ علیہ وسلم سے فیض حاصل کرتا رہا,یہ تھے اسلام کے بہادر سپہ سالار وشہید مصعب بن عمیر بن ہشام البدری القرشی العبدری, یہ نہایت حسین وجمیل نوجوان تھے, مالدار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے, بہترین کپڑے اور عمدہ عطر کا استعمال کرتے, مکہ کی گلیوں سے اگر گزر جاتے تو پورا راستہ معطر ہوجاتا, اس ناز ونعم میں پلنے والا نوجوان جب آغوش اسلام میں داخل ہوا, تو سب کچھ تبدیل ہوگیا,تصور کریں اس لذیذ جرم کی پاداش میں آپ کی ماں نے آپ کے ساتھ کیا کیا, تین سال تک گھر میں قید کر دیا, لوگوں سے ملنے جلنے پر پابندی لگادی, کپڑے روک لئے, کھانہ بند کردیا, صرف اتنا کھانہ دیتی جس سے زندہ رہ سکیں, اور مرنہ جائے, غسل کرنے سے روک دیا,نہایت تکلیف دہ سزائیں دیں, ایک گھر سے اپنے غلاموں کو تھماکر آپ کو بازار لے گئیں, ہاتھ میں لاٹھی تھام کر لوگوں کے سامنے پیٹنے لگیں, اپنے غلاموں کو کوڑے دے کر مارنے کا اشارہ کرتیں, ماں سے لاٹھیاں, غلاموں سے کوڑے, شاید ایسا کر انہیں یہ احساس دلانا چاہتیں اب میرے نزدیک تم غلاموں سے بھی حقیر ہوگئےہو, مکہ سے ایک اجنبی شخص کا گزر ہوا, وہ بازار میں داخل ہوا, تو دیکھا ایک عورت بے تحاشا ایک نوجوان کو پیٹ رہی ہے, اور سخت اذیت دے   رہی ہے,اس نے دریافت کیا,  کہ یہ عورت ایسا کیوں کر رہی ہے, بتلایا گیا کہ یہ اپنے بچے ہی کو مار رہی ہے, کیونکہ یہ اش کا دین چھوڑ دوسرے دین میں داخل ہوگیا ہے, اس نے کہا: پھر یہ چپ چاپ مار کیوں کھا رہے ہیں, کیوں کچھ بھی نہیں کہتے, لوگوں نے جواب دیا,  اس کا دین اسے یہی حکم دیتا ہے.

آپ سنہ تین ہجری میں پیش آنے والی جنگ احد میں بہادروں کی طرح لڑے, اپنی جواں مردی کے جوہر دکھلائے, ان لوگوں میں شامل رہے, جنہوں نے اپنی جان کی بازی لگاکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا, آپ کے ہاتھ میں جھنڈا تھا, جنگ کا جب پانساپلٹا, جھنڈا آپ ہی کے ہاتھ میں تھا, مشرکین آپ پر ٹوٹ پڑے, ابن قمئہ نامی ایک شخص آپ کی طرف بڑھا, اور آپ کے دائیں ہاتھ پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ دھڑ سے جدا ہوگیا,  آپ ان آیتوں کی تلاوت فرمانے لگے: ( وما محمد الا رسول, قد خلت من قبلہ الرسل, افئن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم, ومن ینقلب علی عقبیہ, فلن یضر اللہ شیئا, وسیجزی اللہ الشاکرین) آل عمران ۱۴۴, آپ نے اسے بائیں ہاتھ میں تھام لیا,  تاکہ اسے سر نگوں ہونے سے بچایا جا سکے, پھر اس ظالم نے ایک اور وار کیا, اور بائیں ہاتھ کو بھی شہید کردیا, پھر آپ نے اسے اپنے سینے اور بچے کچے بازووں میں تھام لیا, پھر تیسری مرتبہ آپ پر نیزے سے وار کیا گیا, اور آپ کو شہید کر دیا گیا,جب انہیں ان کی چادرمیں لپیٹا گیا, تو وہ تنگ پڑ گئی, سر ڈھکتے تو پیر کھل جاتے, پیر ڈھکتے تو سر کھل جاتا, نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے سر ڈھکنے کا حکم دیا.

آپ کی پرورش بڑے ناز ونعم, عیش وعشرت میں ہوئی,اسلام میں داخلے کے بعد سب اپنے بیگانے ہوگئے, ساری دنیاوی لذتیں چھوٹ گئیں, اور جب اس دنیا سے گئے, تولوگوں نے دیکھا کہ دنیاوی مال ومتاع میں سے کچھ بھی ترکہ نہیں ہے, آپ نے آخرت کے لئے سب کچھ چھوڑ دیا, کیونکہ آپ جانتے تھے, جو دنیا میں ہے, وہ یہی رہ جائے گا, باقی وہی  نیکی رہے گی, جو آخرت کے لئے  کی گئی ہو, ( ما عندکم ینفد, وما عند اللہ باق) وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ( انک لن تدع شیئا للہ عز وجل إلا بدلک اللہ بہ ماہو خیر لک منہ) یعنی آپ اللہ کے لئے کسی بھی چیز کوترک کرتے ہیں,تو اللہ اس سے بہتر عوض تمہیں عطا کرتا ہے.

آپ کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے, کہ جنت کی راہ اتنی آسان نہیں جتنا ہم نے سمجھا ہے, راہ حق نہایت پرخطر ہے, اس پر چلنے کے لئے پیروں میں کانٹوں پر چلنے کا حوصلہ ہونا چاہئے, اللہ تعالی ہمیں راہ راست پر قائم رکھے, اور صحابہ کے نقش قدم پر چلنے کاجذبہ عطا فرمائے, اور انہیں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کا بہتر بدلہ عطا فرمائے. آمین. وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم.

آپ کا ردعمل کیا ہے؟

like

dislike

love

funny

angry

sad

wow