وہ صحابی جس کے نام ونسب کا ذکر آسمانوں میں ہوا
از قلم ساجد ولی
چاہے ہم کتابت وحی کا ذکر کریں, یا قرآن کے یکجا کئے جانے کا تذکرہ, قراءت قرآن کی بات کریں, یا فقہاء صحابہ کا ذکر چھیڑیں, اپنی دعاؤں میں درود پاک کو شامل کرنے کی فضیلت پر گفتگو کریں, یا پھر نبی پاک کے کسی صحابی کو قرآن پڑھ کرسنانے کی تفصیل چھیڑیں , ایک ہی نام ذہن میں آتا ہے, ابی بن کعب بن قیس بن عبید بن معاویہ بن مالک الخزرجی الانصاری رضی اللہ تعالی وارضاہ, آپ کی پیدائش یثرب میں ہوئی, ابو المنذر یا ابو الطفیل آپ کی کنیت تھی, اسلام کی آمد سے قبل آپ یہود کے احبار میں سے ایک تھے, حق کی تلاش میں اپنے ارد گرد کے ماحول سے نالاں, اس کائنات کی وسعتوں کی میں متفکر, ارد گرد کے ماحول سے پیدا ہونے والے بہت سارے منطقی سوالات سے تنگ نفسیاتی طور پر اس چیز کو مان چکے تھے, کہ یہ جو قرب وجوار کا ہنگامہ ہے, یہ تقاضائے فطرت ہرگز نہیں ہوسکتا, آپ نے سعد بن الربیع کے گھر میں اسلام اور نبی اسلام کے متعلق کچھ باتیں سنیں, آپ کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سفیر اسلام سکھانے مدینہ تشریف فرما ہے, آپ سعد بن ربیع کے گھر گئے اور اپنے اسلام کا اعلان کردیا, اور بڑی گرم جوشی سے بیعت عقبہ ثانیہ میں ستر انصار کے ساتھ شریک عہد وفاء ہوئے, ہجرت مدینہ کے بعد آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوکے رہ گئے, آپ لکھنا جانتے تھے,آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا کاتب وحی مقرر فرمایا, آپ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی موجودگی میں قرآن کو جمع کر لیا تھا, جب بھی کوئی وفد آتا آپ انہیں قرآن اور دین کی تعلیم دیتے, آپ جب مدینہ سے غائب ہونے تو نماز میں اکثر آپ کی نیابت کا ذمہ انہیں کے سر رہتا,
آپ قرآن کے نہایت ماہر تھے اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے: (خذوا القرآن من اربعۃ, من ابن مسعود, وابی بن کعب, ومعاذ بن جبل, وسالم مولی حذیفہ) یعنی چار لوگوں سے قرآن پڑھنا سیکھو, ابن مسعود, ابی بن کعب, معاذ بن جبل, سالم مولی حذیفہ
سارے صحابہ آپ کی بہت عزت وتکریم کرتے, یہاں تک کہ حضرت عمر آپ کو سید المسلمین کہہ کرپکارا کرتے, اور کہتے (أقضانا علی, وأقرؤنا ابی) یعنی ہم میں سب سے زیادہ بہترین فیصلہ کرنے والےعلی, اور قرآن کے سب سے زیادہ جانکار ابی بن کعب رضی اللہ عنہم
ایک موقع سے آپ نے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جسے قرآن کے متعلق کچھ پوچھنا ہو, وہ ابی بن کعب کے پاس آئے, جسے میراث کے مسائل پوچھنے ہوں, وہ زید کے پاس آئے, جسے فقہی مسائل میں کوئی الجھن ہو, وہ معاذ کے پاس آئے, جسے مال چاہئے, وہ میرے پاس آئے, کیونکہ مجھے اللہ نے تمہارا خزانچی, اور مال کا امین بنایا ہے, آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ وصیت فرمایا کرتے کہ میری امت کا سب سے بڑا قاری ابی بن کعب ہیں, فرمایا: ( ارحم امتی بامتی ابوبکر, واشدہم فی امر اللہ عمر, واصدقہم حیاء عثمان, واقرؤہم لکتاب اللہ ابی بن کعب, وأفرضہم زید بن ثابت, واعلمہم بالحلال والحرام معاذ بن جبل, الا وإن لکل امۃ أمینا, وان أمین ہذہ الامۃ ابوعبیدہ بن الجراح یعنی میرے امت میں ابو بکر سب سے رحم دل, عمر اللہ کے احکام میں سبس سے سخت, عثمان سب سے باحیا, ابی بن کعب سب سے زیادہ قرآن کے جان کار, زید بن ثابت سب سے زیادہ علم فرائض کے ماہر, معاذ بن جبل سب سے زیادہ حلال وحرام کے عالم ہیں, خبردار ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے, اس امت کا امین ابو عبیدہ بن الجراح ہیں.
ایک مرتبہ آپ نے دوران سفر ایک بدلی دیکھی, آپ کے ساتھ حضرت ابن عباس بھی تھے, آپ نے دعا فرمائی کہ اے اللہ اس بدلی سے ہونے والی تکلیف سے ہمیں محفوظ رکھ, اللہ تعالی آپ کی یہ دعا قبول فرمائی, اور قافلے میں شامل لوگوں کے سازوسامان تر ہوگئے, سوائے آپ دونوں کے, آپ نے نبی پاک کی وفات کے بعد ساٹھ سے زیادہ حدیثیں روایت فرمائیں ہیں, آپ نبی پاک کے ساتھ سارے غزوات میں شریک , بڑے عابد وزاہد اور تقوی شعار انسان تھے, اسی لئے آپ کویہ شرف حاصل ہوا کہ آسمانوں میں ملا اعلی کے سامنے آپ کے نام ونسب کے ساتھ آپ کا تذکرہ ہوا, بخاری شریف میں انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے فرمایا, بلاشبہ اللہ تعالی نے مجھے اس بات کا حکم دیا ہے کہ میں تم کو یہ آیتیں سناؤں (لم یکن الذین کفروا من اہل الکتاب ... الأخ) البینہ/۱, آپ نے پوچھا: آپ کے سامنے اللہ تعالی نے میرا نام لیا ؟ آپ نے کہا: بلکل, آپ رونے لگے, طبرانی میں ہے کہ ہاں ملا اعلی میں آپ کےنام ونسب کے ساتھ آپ کو ذکر کیا گیا.
ان ہستیوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد وپیمان کا پاس رکھا, اس زمین کو اپنے سجدوں سے معمورکیا, تو اللہ نے ان کے ذکر خیر کو آسمانوں میں جاری کردیا, ان سے محبت کو علامت ایمان قرار دے دیا, ان کے لئےدعاؤں کی تلقین فرمائی, ان کی فقہ وفہم شریعت کو معیار حق وباطل قرار دیا, اختلاف امت کے وقت انہیں کی شاہراہ کی تلاش کا حکم صادر فرمایا, اللہ تعالی ہمیں ان کی راہ کا راہی بنائے, اور انہیں کے ساتھ ہمارا حشر فرمائے, آمین وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم.
آپ کا ردعمل کیا ہے؟