زکاۃ احکام ومسائل

از قلم ساجد ولی

اگست 21, 2024 - 17:35
اگست 26, 2024 - 18:53
 0  68
زکاۃ  احکام ومسائل
زکاۃ احکام ومسائل


آج دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ فقر وفاقہ کشی اور بھک مری ہے, ہمارے عالمی سسٹم نے انسانی ذہن ودماغ پر دنیا پرستی کی ایسی جادوئی چھڑی پھیری ہے کہ ہر شخص ہوس دولت میں چور صرف جائز وناجائز کسی بھی طریقے سے پیٹ بھرنے کی فراق میں ہے, جہاں بھی دیکھئے دولت کا نشہ, اور دولت میں اضافے کا بھوت سوار ہے, کوئی پیٹ پکڑ کر گلیوں, چوراہوں پر ہاتھ پھیلاکر اپنی بھوک کا شکوہ کرتا دکھائی پڑتا ہے, کوئی ڈاکٹروں کے پاس بھیڑ لگاکر اپنی قبض وبدہضمی کی دوا کے لئے قطار میں کھڑا دکھائی دیتا ہے, مسئلہ صرف پیٹ کا ہے, کوئی اسے زیادہ بھر لیتا ہے, تو بیمار ہوجاتا ہے, کوئی اسے بھرنے کے لئے ایک ایک لقمے کو ترستا ہوا دم توڑدیتا ہے, اس گم بھیر انسانی مصیبت کا اسلام نے کیا مداوا کیا ہے؟ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے, ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اسلام ان دونوں سماج کے کرداروں کو کیا حقوق بہم پہونچاتا ہے, اور اس فقر وفاقہ کا کیا مداوا سکھاتا ہے؟
آپ نے سنا ہوگا کہ زکاۃ اسلام کا تیسرا ستون ہے, جس کا معنی ( پاکی اوربڑھوتری, برکت, مدح وستائش, صلاح ونیکی ) کے آتے ہیں, ارشاد ربانی ہے: { خذ من أموالہم صدقۃ تطہرہم, تزکیہم بہا} التوبۃ ۱۰۳, آپ ان کے اموال سے زکاۃ لو, جس کےذریعہ آپ انہیں پاک کریں, اور ان کاتزکیہ کریں وقال  النبی صلی اللہ علیہ وسلم (أعلہمہم أن اللہ افترض علیہم صدقۃ فی أموالہم, توخذ من أغنیائہم, وترد فی فقرائہم) انہیں بتلانا کہ اللہ نے ان پر زکاۃ فرض کی ہے, جو ان کے امیروں سے لے کر فقیروں میںتقسیم کردی جائے گی.
اسلام میں زکاۃ کی بہت بڑی اہمیت وفضیلت آئی ہے, وہ مال دار شخص جس کے پال مال ہے, اور اس میں سے غریب, فقیر, مسکین, محتاجوں, بیواؤں, یتیموں, ناداروں, مسافروں, اجنبیوں کا اگر حق نہیں ادا کرتا, تو قیامت کے روز کوئی بہانا کام نہیں آئے گا, اس سے حساب لیا جائے گا, کہ تمہیں مال دیا, تو کیا مال کا حق اداکردیا, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ما من صاحب ذہب ولا فضۃ لا یؤدی حقہا  إلا جعلت لہ یوم القیامۃ صفائح, ثم أحمی علیہا فی نار جہنم, فیکوى بہا جبینہ, وجبہتہ وظہرہ ی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ, حتی یقضی بین الناس, فیری سبیلہ إما الی الجنۃ, وإما إلی النار..) یعنی کوئی بھی سونے چاندی کا مالک اگر اس کا حق ادا نہیں کرتا, تو قیامت کے روز اس کی تختیاں بنادی جائیں گی, پھرانہیں جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا, اور اس سے اس دن جو پچاس ہزارسال کے برابر ہوگا  اس کی پیشانی, چہرہ, او رپشت اس وقت تک داغی جاتی رہے گی, جب تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ ہوجائے, پھر وہ جنت یا جہنم جہاں  کی راہ دیکھے گا.
اسی طرح  بخاری کی روایت ہے, آپ صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے ہیں:" من أتاہ اللہ مالا فلم یؤد زکاتہ مثل لہ یوم القیامۃ شجاعا اقرع لہ زبیبتین یطوقہ یوم القیامۃ, ثم تلا النبی صلی اللہ علیہ وسلم الآیۃ: ( ولا یحسبن الذین یبخلون بما آتاہم اللہ من فضلہ ہو خیرا لہم بل ہو شر لہم سیطوقون ما بخلوا بہ یوم القیامۃ) آل عمران ۱۸۰, یعنی جسے بھی اللہ تعالی نے مال عطا کیا, اور وہ اس کی زکات ادا نہیں کرتا تو یہ مال قیامت کے روز ایک بےریش ازدہے کی شکل اختیار کرلیگا, اس کے دو چوٹیاں ہونگیں, جس سے وہ اس مالدار کو گھیر کر رکھیگا, پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی, جس کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو اللہ کی دی ہوئی دولت میں بخیلی کرتے ہیں کہ یہ دولت ان کے حق میں بہتر ہے, بلکہ یہ مال تو ان کے حق میں وبال جان ہے, قیامت کے روز اس بخالت شدہ مال کاطوق بناکر اس کے جسم میں لٹکا دیا جاے گا.
ایک اور روایت میں اللہ کے نبی فرماتے ہیں اسے علامہ ناصرالدین الالبانی نے السلسلۃ الصحیحۃ میں ذکر کیا ہے, آپ فرماتے ہیں : " ما منع قوم الزکاۃ إلا ابتلاہم اللہ بالسنین) یعنی کسی بھی قوم نے زکتۃ سے منع کی, مگر اسے  اللہ نے قحط سالی, بھوک مری, اورفقر وفاقہ کشی میں مبتلا کردیا.
زکاۃ کے مال میں پانچ شرطیں پائی جانی ضروری ہے, جن کے بعد ہی زکاۃ نکلنا ممکن ہوسکے گا:
۱-وہ مالک زکاۃ دینے والے کی مکمل ملکیت میں ہو, یعنی کسی غیر کے مال میں آپ پر زکاۃ واجب نہیں ہوتی, اللہ تعالی کا فرمان ہے : {خذ من أموالہم صدقۃ ) یعنی انکے اموال میں سے زکاۃ لو, اسی طرح  نبی پاک  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (إن اللہ فرض علیہم فی أموالہم صدقۃ...)  [صحیح ابن حبان ۵۰۸۱], اسی لئے  حرام طریقے سے حاصل کئے گئے مال میں زکاۃ نہیں  بلکہ اسے مال والے کومکمل لوٹانا واجب ہوگا, اور نہ ہی اسے قرض دئے ہوئے مال میں زکاۃ ہوگی جو ملنے والا نہ ہو.
۲-وہ مال بڑوتری کے قابل ہو, یعنی اس میں بڑھوتری ہوسکتی ہو, ایسا مال جس میں بڑھوتری ممکن نہ ہو, اس میں زکاۃ نہیں ہوگی, اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( لیس علی المسلم فی فرسہ ولا عبدہ صدقۃ) رواہ البخاری. یعنی مسلمان پر اس کےغلام اور استعمال کے گھوڑے میں کوئی زکاۃ نہیں.
۳-وہ مال نصاب زکاۃ کے برابر ہو, یعنی ۸۵ گرام سونا, اور ۵۹۵ گرام چاندی  یا اس کے برابر ہو تو اس میں ڈھائی پرسینٹ نکالنا فرض ہے.
۴-وہ مال بنیادی خرچے, اور ضرورتوں سے زیادہ ہو, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ابدأ بنفسک, فتصدق علیہا, فإن فضل شیئ فلأہلک – ای الزوجہ والولد – فإن فضل شیئ عن اہلک فلذوی قرابتک, فإن فضل شیئ عن ذوی قرابتک شیئ فہکذا فہکذا...) رواہ مسلم, یعنی ضرورت سے زیادہ بچے ہوئی مال پر ڈھائی پرسینٹ زکاۃ دینا فرض ہے.
۵-انسان پر اتنا قرض نہ ہو کہ اگر وہ اسے ادا کرے, تو مال نصاب سے کم ہوجائے, تو اس پر زکاۃ فرض نہیں.
۶-اس مال پر چاہے وہ سونا چاندی ہو, یا پھر اس کے برابر روپیہ پیسہ, شیئر, سیونگ, سامان تجارت وغیرہ  پر ایک سال گزر جائے, تو سال گزرنے کے بعد ساری دولت کا حساب لگاکر ڈھائی پرسینٹ نکالنا ضروری ہے, الا یہ کہ وہ مال کھیت سے پیدا ہونےوالا غلہ ہو, تو اس پر اسی وقت زکاۃ فرض ہوجاتی ہے, جب اسے کھیت سے اٹھایا جائے, جو بلا سینچائی کے بلا لاگت کے غلہ پیدا ہوگا اس میں ۱۰ پرسینٹ, اورجو سینچائی اور کسان کی محنت سے غلہ پیدا ہوگا, اس میں ۵ پرسینٹ زکاۃ فورا ادا کرنی ہوگی, البتہ اس کی شرط یہ ہے کہ اس کی مقدار ۶۴۷ کلو گرام یا اس سے زیادہ ہو, اگر کسی کا غلہ اس سے کم ہوتا ہے, تو اس پر زکاۃ واجب نہیں, اگر کوئی غلہ ایسا ہو جسےوزن نہیں کیا جاتا ہو, جیسے کہ روئی , پھول, گنا وغیرہ تو ان کی قیمت دیکھی جائے گی, اگر وہ ۶۴۷ گیہوں وغیرہ کی قیمت کے برابر پیدا ہوا ہے, تو اس میں بھی حسب تفصیل سابق دسواں یا پانچواں حصہ زکاۃ ہوگا.
اگر کسی کے پاس چوپائے ہیں, تو ان میں بھی زکاۃ ہے, البتہ ان میں سابقہ شرطوں کے ساتھ ایک شرط یہ بھی ضروری ہے کہ وہ چوپائے اکثر  ایسی چراگاہ میں چرنے والے ہوں,  جوخاص نہ ہو,  عام ہو, ہر شخص اس میں اپنے جانور چرا سکتا ہو, دوسرا یہ کہ وہ کسی خدمت میں استعمال نہ ہوتے ہوں, مثلا ان سے کھیتی کا کام نہ لیا جاتا ہو, یا بطور سواری ان کا استعمال نہ ہوتا ہو, اگر اس طرح کے چوپائے ہیں تو ان میں زکاۃ ہے,اس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
اورنٹ کی زکاۃ: ۵-۹ تک ایک بکری, ۱۰-۱۴ تک جو دو بکری, ۱۵-۱۹ تک تین بکریاں, ۲۰-۲۴ تک چار بکریاں ۲۵-۳۵ تک ایک سال کی اونٹنی, ۳۶-۴۵ تک دو سال کی اونٹنی, ۴۶-۶۰ تک تین سال کی اونٹنی, ۶۱-۷۵ تک چار سال کی اونٹنی  ۷۶ -۹۰ تک  دو دو سال کی دو اونٹنیاں, ۹۱-۱۲۰ تک  دو تین سال کی اونٹنیاں, ۱۲۱-۱۲۹- تک تین دوسال کی اونٹنیاں, ۱۳۰- ۱۳۹ تک ایک تین سال کی اونٹنی, اور دو دوسال کی اونٹنیاں, ۱۴۰ -۱۴۹ تک دو تین سال کی, اور ایک دوسال کی اونٹنی, ۱۵۰-۱۵۹ تک تین تین سال کی اونٹنیاں, ۱۶۰-۱۶۹ تک چار دوسال کی کی اونٹنیاں, ۱۷۰-۱۷۹ تک تین دوسال, اورایک تی سال کی اونٹنی, ۱۸۰-۱۸۹ تک دو دوسال, او ردو تین سال کی اونٹنیاں, ۱۹۰-۱۹۹ تک تین تین سال کی, اور ایک دوسال کی اونٹنی...الی الاخ.
بکریوں کا نصاب: ۴۰-۱۲۰ تک ایک بکری, ۱۲۱-۲۰۰ تک دو بکریاں, ۲۰۱-۳۹۹ تک تین بکریاں ۴۰۰-۴۹۹ تک چار بکریاں اسی طرح سے ہر اس کے بعد ہر سوپر ایک بکری کا اضافہ ہوگا.
گائے اور بھینس کی زکاۃ: ۳۰-۳۹ تک دو سال کا نر یا مادہ  گائے یا بھینس, ۴۰-۵۹ تک دوسال سے زیادہ کی گائے یا بھینس ۶۰-۶۹ تک دو ایک سال سے اوپر کی گائے یا بھینس, ۷۰-۷۹ تک ایک جو دوسال سے زیادہ, اور دو ایک سال سے زیادہ کی گائے یا بھینس,  ۸۰-۸۹ تک دو دوسال سے زیادہ کی گائے یا بھینس, ۹۰-۹۹ تک تین ایک سال سے زیادہ کی گائے یا بھینس, ۱۰۰-۱۰۹ تک ایک دو سال سے زیادہ اور دو ایک سال سے زیادہ کی بھینس یا گائے, ۱۱۰-۱۱۹ تک دو دو سال سے زیادہ اور  ایک ایک سال کے اوپر کی گائے یا بھینس, ۱۲۰-۱۲۹ تک تین دوسال سے اوپر , اور چار ایک سال سے اوپر کی گائے یا بھنس.
زکاۃ کے مصارف:
اس سوال یہ ہے کہ زکاۃ کن کو دی جائے, توقرآن میں اللہ تعالی نےمصارف زکاۃ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: {إنما الصدقات للفقراء, والمساکین, والعاملین علیہا, والمؤلفۃ قلوبہم, وفی الرقاب, والغارمین, وفی سبیل اللہ, وابن السبیل, فریضہ من اللہ, واللہ علیم حکیم} التوبہ ۶۰. یعنی فقیر, مسکین, زکاۃ کی اگائی کا کام کرنے والے  بشرط یہ کہ انہیں بقدر محنت ہی دیا جائے, نومسلموں کو  جنہیں مال کی ضرورت ہو, یا ان کا ایمان کمزور ہو, قرض دار, جہاد فی سبیل اللہ میں, مسافر کے لئے.
یہ ساری اصناف ہیں جو عام طور سے معاشرے میں محتاج ہوا کرتے ہیں, اسلام نے ہر اس مال دار پر جس پر بقدر نصاب مال ہو ہر سال  , یا ہر غلہ کے وقت انہیں دینے کا حکم دیا ہے, اور اسے اسلام کا رکن قرار دیا ہے, یعنی اگر کوئی نہیں دیتا تو اس کا مال پاک نہیں ہوتا, ساتھ ساتھ قیامت کے روز اس کا یہ مال اس کے لئے زہریلے ازدہے کی شکل دھار لیگا, اور اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ میں زکاۃ کو نہیں مانتا, یہ نہیں دیتا, زکاۃ سے میرا کیا تعلق تو ایسا شخص دائرہ سلام ہی سے خارج ہوجاتا ہے.
اگر ہماری مسلم کمیونٹی اس رکن پر کما حقہ عمل پیرا ہوجائے تو ہمارے سماج سے غربت ختم ہوسکتی ہے, اور کسی کوبھی بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں پڑیگی, مگر کیا کیجئے گا ایسی دنیا میں جہاں انسان مال ودولت کی لالچ میں یہ بھول جائے کہ جتنا جمع کرنا ہے, کرلو ایک نہ ایک دن مٹی ہو میں ملنا ہے, اوردوگز کفن ساتھ جانا ہے, تو پھر کیا ہمارے مسائل حل ہونگے, اور کیا بروز قیامت ہمیں اللہ کی رضا حاصل ہوگی. اللہ تعالی ہمیں اسلامی ارکان پر کاربند رہتے ہوئے اس دنیا سے اٹھائے. آمین.

آپ کا ردعمل کیا ہے؟

like

dislike

love

funny

angry

sad

wow