وہ صحابی جس نے وفات پانے کے بعد بھی گفتگو کی
از قلم ساجد ولی
کیا سنا ہے آپ نے اس نبی کے بارے میں جنہوں نے وفات پانے کے بعد کفنائے جانے کے بعد بھی گفتگو کی, جی ہاں صحیح سنا آپ نے, کراماتی طور پر ہی سہی, خلافت عثمان رضی اللہ عنہ میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا, یہ صحابی تھے حضرت زید بن خارجہ بن ابی زہیر الخزرجی الانصاری رضی اللہ عنہ, ان کے والد خارجہ بن زید تھے, ان کی ماں کا نام ہزیلہ بنت عتبہ یا عنبہ تھا, بھائی کا نام سعد, اور بہن کا نام حبیبہ تھا, آپ کے والد جنگ احد میں شہید ہونے والے صحابہ میں سے ایک تھے.
غالب گمان یہی ہے کہ آپ اپنے والد کی طرح ہی ابتدائی طور پر اسلام لانے والے صحابہ میں سے ایک تھے, نبی پاک نے آپ کے والد اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ کرادیا تھا, مدینہ کے عوالی میں انہیں کے پاس ابو بکر الصدیق رہا کرتے تھے, اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ انہیں کے پاس رہے.
آپ یعنی زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ نبی پاک کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک رہے, پھر بیعۃ رضوان میں بھی شرکت فرمائی, نبی پاک سے فیض حاصل کیا, اور بہت ساری حدیثیں آپ سے روایت فرمائیں, جن میں سے چند ملاحظہ ہوں.
-آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھادرود کے بارے میں, تو آپ نے فرمایا: (صلوا علی, واجتہدوا فی الدعاء, وقولوا: اللہم صل علی محمد وآل محمد) صححہ الالبانی, یعنی مجھ پر درود پڑھو, خوب دعائیں کرو, اور ایسا کہا کرو اے اللہ محمد اور آل محمد پر درود بھیج).
-آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے( اللہم إنی اسألک العفو والصحۃ والأمانہ, وحسن الخلق, والرضاء بالقدر) یعنی اے اللہ میں آپ سے معافی, عافیت, امانت, اچھے اخلاق, تقدیر پر رضا مندی کا سوال کرتا ہوں).
-آپ فرماتے ہیں کہ جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو نجاشی کی وفات کی خبر پہونچی, تو آپ نے فرمایا: (تمہارے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے) پھر آپ نکلے, ہم نے آپ کے پیچھے صف میں کھڑے ہوگئے, نماز جنازہ پڑھی, ہم سامنے کچھ نہیں دیکھ رہے تھے.
اب سوال ہے کہ کیا آپ نے وفات کے بعد دوبارہ زندہ ہوکر گفتگو کی, تو اس بارے میں ابن الاثیر الجزری اسد الغابۃ ۲/۱۳۲ میں فرماتے ہیں کہ یہی وہ زید ہیں جن کا اکثر روایتوں میں موت کے بعد گفتگو کرنے کا واقعہ مذکور ہے, یہی صحیح ہے, اور جو آپ کے والد خارجہ کی طرف منسوب کرکے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے وفات کے بعد گفتگو کی وہ صحیح نہیں ہے, گویا آپ ہی وہ صحابی ہیں جنہوں نے وفات کے بعد کفن میں لپیٹے جانے کے بعد گفتگو کی, اب کیا گفتگو کی ملاحظہ کیجئے:
طبرانی نے نعمان بن بشیر کے واسطے سے روایت کیا ہے: فرماتے ہیں کہ زید بن خارجہ مدینہ کے کسی راستے چل رہے تھے, کہ ظہر اور عصر کے درمیان گرکر وفات پاگئے, انہیں ان کے گھر والوں کے پاس لایا گیا, دوچاروں اور ایک بڑی چادر میں انہیں لپیٹ دیا گیا, جب مغرب اور عشاء کا درمیانی وقت ہوا, تو انصار کی کچھ عورتیں آپ کے ارد گرد جمع ہوکر تیزتیز رونے لگیں,اچانک چادر کے اندر سے یا آواز آئی, اے لوگو خاموش ہوجاؤ, لوگوخاموش ہوجاؤ, دو مرتبہ یہ آواز آئی, لوگوں نے ان کے چہرے اور سینے سے کپڑا ہٹا دیا, پھر ان کی زبانی یہ آواز آئی, محمد امی نبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں, یہ پہلی کتاب میں درج تھا, پھر آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے, ابوبکر الصدیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم القوی الامین کے خلیفہ جسمانی اعتبار سے کمزور, اللہ کے اوامر میں قوی تھے, یہ بھی پہلی کتاب میں درج تھا, پھر تین مرتبہ آپ کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے, سچ کہا, سچ کہا , سچ کہا, اور بیچ کے اللہ کے بندے عمر امیر المؤمنین جو کہ اللہ کی راہ میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے تھے, جو مضبوط لوگوں کو کمزوروں کا حق کھانے نہیں دیتے تھے, یہ بھی پہلی کتاب میں درج تھا, پھر تین کرتبہ آپ کی زبان سے یہ کلمات نکلے: سچ کہا, سچ کہا, سچ کہا, پھر آپ نے کہا: عثمان مسلمانوں کے امیر بھی, اور مؤمنین پر مہربان بھی ہیں, د و تو گزر گئیں, چار او رباقی ہیں, پھر لوگوں میں اختلاف برپا ہوگا, لوگوں کا کوئی نظام نہیں ہوگا, حرمتوں کی بے حرمتی ہوگی, قیامت قریب ہوجائے گی, اور لوگ آپس ہی میں بعض بعض کے خون کے پیاسے ہوجائیں گے.
ابن عبد البر رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں, اور امام ذہبی نے ان سے نقل کیا ہےکہ اس حدیث کو شامی ثقہ راویوں نے نعمان بن بشیر سے روایت کیا ہے.تفصیل کے لئے دیکھئے: الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ۲/۵۴۷, سیر اعلام النبلاء مجلد الخلفاء الراشدین ۲۱۳.
اب سوال یہ ہےکہ کیا ایسا ممکن ہے, کہ کوئی شخص وفات کے بعد دوبارہ زندہ ہوکر گفتگو کرلے, تو قرآن کے مطالعے سے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اللہ اپنی قدرت کاملہ سے کسی کو وفات کے بعد زندہ کردے, اور وہ کچھ کلام کرکے پھر مر جائے, جیسا کہ اللہ تعالی نے سورۃ البقرۃ میں بنو اسرائیل کا واقعہ ذکر فرمایاہے, قال اللہ تعالی ( وإذ قتلتم نفسا فادارأتم فیہا, واللہ مخرج ما کنتم تکتمون, فقلنا اضربوہ ببعضہا, کذلک یحی اللہ الموتی ویریکم آیاتہ لعلکم تعقلون. یعنی یاد کرو ان لمحات کو جب تم نے ایک انسان کا قتل کیا, اور ان کے قاتل کے متعلق شش وپنج میں پڑ گئے, او راللہ اسے ظاہر کرنے والا ہے جسے تم چھپائے ہوئے تھے, پھر ہم نے کہا کہ اس نعش پر اس گائے کے کچھ حصے سے مارو, اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے, اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے, تاکہ تم کچھ سمجھ سکو) یعنی بنو اسرائیل نے ایک شخص کو قتل کیا, اللہ نے انہیں ایک خاص صفت کی گائے ذبج کرنے کا حکم دیا, اور اس کے گوشت کے کچھ حصے سے اسے مارنے کا حکم دیا, اس کی تاثیر سے وہ مردہ زندہ ہوجاتا ہے, اور اپنے قاتل کا نام بتلاکر پھر ہمیشہ ہمیش کے لئے دار بقاء کا راہی ہوجاتا ہے.
اسی طرح حضرت عیسى کو اللہ نے مردوں کو زندہ کرنے کا معجزہ عطا فرمایا تھا, آپ ایسا فرماتے, اور اللہ کی اجازت سے مردے زندہ ہوجاتے, اس لئے اگر کسی صحیح روایت ہے, کوئی ایسا واقعہ ثابت ہوتا ہے, تو اسے کرامتاصحیح مانا جائے گا, اسی طرح سے یہاں پر یہ بات بھی ضمنا جان لینی چاہئے, کہ بعض امراض ایسے ہوتے ہیں, جن میں انسان کا سانس بند ہوجاتا ہے, البتہ زندگی باقی رہتی ہے, جیسا کہ پانی میں غرق ہونے والا, سانپ کا ڈسا ہوا, پھیپڑوں کی بیماری سے مرنے والا, اسی لئے فقہائے کرام نے فقہ کی کتابوں میں اس طرح کے لوگوں کے متعلق یہ مسئلہ بیان کیا ہے, کہ انہیں بہت جلد دفن نہیں کرنا چاہئے, بلکہ اچھی طرح سے تحقیق کر موت کا یقین ہونے کے بعد دفن کرنا چاہے.
خلاصہ کلام یہ کہ چاہے وجہ کچھ بھی ہو, زید بن خارجہ وہ صحابی ہیں جنہیں اللہ نے یہ شرف عطا کیا, کہ آپ کے کفنائے جانے کے بعد آپ نے لوگوں سے گفتگو کی, اور محمد رسول اللہ, ابوبکر, عمر وعثمان کے متعلق نہایت قیمت باتیں ذکر فرمائیں, اللہ تعالی آپ کو آپ کی دینی خدمت وجہاد کا بہتر بدلہ عطا فرمائے, اور ہمیں بھی صحابہ کی طرز پر زندگی گزارنے کی توفیق بخشے. آمین.
وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم.
آپ کا ردعمل کیا ہے؟