وہ صحابی جنہیں اللہ نے سب سے طویل عمر عطافرمائی.

از قلم ساجد ولی

اگست 24, 2024 - 23:36
اگست 25, 2024 - 23:27
 0  353
وہ صحابی جنہیں اللہ نے سب سے طویل عمر عطافرمائی.

قارئین کرام ! چلئےچند پل بتاتے ہیں اس صحابی کے ساتھ جسے اللہ نے ڈھائی سو سال کی عمر عطا فرمائی, جی ہاں بلکل صحیح سنا آپ نے, دھائی سوسال کی عمر, یہ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب صحابی, فارس کے مہمان, تلاش حق میں فارس سے نکلتے ہوئے, مدینہ پہونچنے والے صحابی حضرت سلمان الفارسی, امام ابن الجوزی, امام نووی, حافظ ابن کثیر حافظ ابن حجر العسقلانی اور امام ابن علان فرماتے ہیں , سلمان رضی اللہ عنہ کی وفات سنہ تیس ہجری کے بعد ہوئی,اس بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے, کہ آپ دو سوسال کی عمر کے بعد ہی آغوش اسلام میں داخل ہوئے, آپ کی اس ڈھائی سوسالہ عمر کاتذکرہ عمدۃ القاری میں امام عینی, مرقاۃ المفاتیح میں ملاعلی القاری , فیض القدیر میں امام مناوی, اور تحفۃ الاحوذی میں محدث ہند شیخ عبید الرحمن المبارکفوری نے کیا ہے.

آپ کے والد نے ایک مرتبہ آپ کو اپنے کھیت کھلیان کی طرف انہیں بھیجا, آپ اس بچے کی بہت دیکھ بھال کرتے, آپ جب اس کھلیان میں گئے, تو دیکھا کہ پاس میں ایک چرچ سے کچھ آوازیں آرہیں ہیں, آپ دیکھنے کے لئے جب اندر پہونچے, تو انہیں کچھ پڑھتے ہوئےسنا,آپ کو ان کی باتیں پسند آگئی, اور کھلیان چھوڑ وہیں پر ٹھہر گئے, جب آپ گھر واپس ہوئے, تو اپنے والد سے کہا کہ میں کھلیان تو نہیں گیا, البتہ چرچ چلا گیا, وہاں میں نے ایسی باتیں سنیں, جو ہمارے دین میں نہیں پائیں جاتیں , ان کےوالد کو خوف لاحق ہوا کہ کہیں یہ نصرانیت قبول نہ کرلے, آپ کو گھر سے نکلنے پر پابندی لگادی گئی, آپ چھپ چھپ کر راہبوں سے مربوط رہے, انہوں نے آپ کو نصیحت کی کہ ہماری مانو تو ایسا کرو, عربستان چلے جاؤ,  آپ نے ان سے گزارش کی کہ اگر عرب کے تاجر آپ کے پاس آئیں, تو مجھے ضرور خبردینا, بعض تاجر آئے, انہوں نے آپ کو خبر پہچادی, آپ نے بڑی چالاکی سے اپنی بندشیں توڑیں, اور گھر سے فرار ہوگئے, اور ان تاجروں سے کہا کہ جو چاہو دونگا, بس مجھے عرب کی سرزمین تک پہونچادینا, انہوں نے آپ کو لیا, اور بیچ راستے ہی میں آپ کے ساتھ خیانت کرڈالی, اور آپ کو بیچ دیا, آپ اسی دوران بہت سارے کاہنوں کے پاس حق کی تلاش میں بھٹکتے رہے, آپ فرماتے ہیں کہ میں ان کاہنوں میں جس کو اچھا سمجھتاوہی فاسد نکلتا, لوگوں کے مال کو لیتا, اور زمین میں دفن کردیتا, یہاں تک ان میں سے بعض کی جب وفات ہوئی, تو میں نے انہیں خبردارکیا, کہ یہ اس تعظیم کا حق دار تو نہیں تھا, جو تم نے اسےعطا کی ہے, تولوگوں نے مجھے بہت مارا, قصہ مختصر یہ کہ آپ عموریہ کے راہب کے پاس پہونچے, اور انہوں نے آپکو بتلایا کہ بچےہم اس زمانے میں ہیں, جس میں عرب کی سرزمین ایک نبی نکلے گا, وہ دو کالے پتھروں والی سرزمین میں نکلے گا,جس کے چاروں طرف کھجور کےدرخت ہونگے, اس کے کاندھے پر نبوت کی مہر ہوگی, وہ ہدیہ قبول کرے گا, صدقہ نہیں, آپ کہتے ہیں, کہ میں نے ان صفات کو یاد کرلیا, ساری پونجی اکھٹا کی, اور بعض عرب کے ساتھ میں نکلا,انہوں نے بھی آپ کے ساتھ خیانت کی, آپ کو ایک ایسے یہودی کے لئے بیچ دیا,  جس نے آپ کو مدینہ کے قریب پہونچا دیا, مؤرخین لکھتے ہیں, کہ حضرت سلمان کے سفر کی مدت  بیس سال سےبھی زیادہ تھی,  یہ تلاش حق کی راہ میں تاریخ کا سب سے انوکھا سفر تھا,  آپ نے دن اپنے یہودی آقا کو ایک عمردراز شخص کے پاس بیٹھ کر یہ کہتے ہوئے سنا, کیا آپ نے سنا ہے کہ اوس وخزرج ایسے شخص کیا قیادت میں باہم متحد ہوچکے ہیں, جس کا دعوی ہے کہ وہ نبی ہیں, اس کا نام محمد ہے, کہتے ہیں کہ مجھے اس خبر نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا, میں نے اس سے پوچھاکیا بات کر رہے تھے, دوبارہ دہرائیے, اس نے میرے گال پر ایک تھپڑ رسید کیا, اور حکم دیا, اپنا راستہ ناپو, جاؤ, میں وہاں سے الگ ہوگیا,اور کچھ دن کے بعد یہ یہودی گھر سے غائب ہوا, تو آپنے کچھ صدقہ کے کھجور لئے, اور مدینہ آگئے, وہاں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرما ہیں, میں آپ کی مجلس میں داخل ہوا, اور آپ کو وہ کھجور پیش کئے, آپ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: یہ صدقہ ہے, آپ نے اسے لیا, اور اپنے صحابہ میں تقسیم کردیا, خود اس میں سے کچھ نہیں کھایا, میں نے اپنے دل میں کہا کہ پہلی صفت تو مل گئی, دوسرے دن میں آیا, اور بطور ہدیہ کچھ کھجور آپ کی خدمت میں پیش کئے, تو آپ نے انہیں کھایا, میں نے دل ہی دل میں کہا, یہ دوسری علامت بھی مل گئی, پھر چھ دن کے بعد میں آپ کے پاس آیا, آپ بقیع میں کسی میت کی تدفین میں مشغول تھے, میں آپ کے ارد گرد گھومنے لگا, تاکہ خاتم نبوت کو دیکھ پاؤں,جب نبی پاک نے میری حرکت دیکھی, آپ سمجھ گئے, آپ نے اپنے کاندھے سے کپڑا ہٹایا,  کہ لو دیکھ لو, میں نے جب اس خاتم نبوت کو دیکھا تو آپ پر ٹوٹ پڑا, اور آپ کے ہاتھوں کوبڑی گرم جوشی سے بوسہ دینے لگا, نبی پاک نے پوچھا ایسا کیوں کر رہے ہو؟ میں نے اپنا پورا قصہ سنایا, نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے, اور صحابہ کو بلاکر اس ہدایت کی طویل داستان کو دوبارہ دہرانےکا حکم صادر فرمایا, آپ گویا صحابہ کو یہ بتلانا چاہ رہے تھے, کہ تم نے تو مکہ ہی چھوڑا ہے, اسے تو دیکھوہدایت کی تلاش میں فارس کو خیرباد کہہ آئیں ہیں.

محترم ناظرین: تلاش حق کا جنون, اور قبول حق کی جرأت, اور اپنی عادات وتقالید کی بندشوں کو توڑ حق کو قبول کرنے کا حوصلہ اگر کوئی سیکھنا چاہتا ہے, تو صحابہ کرام سے سیکھے, سلمان الخیر سے سیکھے, اس عظیم صحابی کے اس عظیم سفر ہدایت سے سیکھے, جس نے آپ کی جستجو کو مجوسیت , نصرانیت, رہبانیت کے موجوں سےٹکراتے ہوئے اسلام کی آغوش میں پہونچا دیا, حق کے متلاشی کو حق مل ہی جاتا ہے, بس شرط یہ ہے کہ اخلاص وارادہ سچا ہو, اللہ تبارک وتعالی ہمیں صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطافرمائے. آمین.

یا ذاکر الاصحاب کن متادبا+واعرف عظیم منازل الاصحاب

آپ کا ردعمل کیا ہے؟

like

dislike

love

funny

angry

sad

wow