ابو سفیان رضی اللہ عنہ کےایمان کا قصہ

از قلم ساجد ولی

اگست 24, 2024 - 17:19
اگست 25, 2024 - 23:29
 0  590
ابو سفیان رضی اللہ عنہ کےایمان کا قصہ

فتح مکہ کے موقع پر جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہونے آئے, تو ابو سفیان دونوں ہاتھوں میں تلوار لئے مکہ کے راستے پر کھڑے ہوگئے, کہ اگر محمد داخل ہوئے, تو ان تلواروں سے اسے چیر دونگا, اس وقت آپ قریش کے سردار تھے,رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی جنگی ارادہ نہیں تھا,  کیونکہ مکہ حرم ہے,جب نبی پاک  داخل ہونے لگے, تو آپ نے انہیں دیکھا,  یہاں آپ کی حکمت اوفراست سمجھ میں آتی ہے, آپ نے یہاں اعلان فرمایا( جو مسجد حرام میں داخل ہوگیا, اسے امان ہے, جو اپنے گھر میں چلا جائے, وہ بھی مامون ہوگا,  اور جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجاتا ہے,وہوبھی مامون ہوگا), ابو سفیان باعزت تھے, اور عزت وتکریم پسند بھی تھے, ابو سفیان نے آپ کی یہ آواز سنی, تو اپنی تلواروں کو گرا لیا,  مارے حیا کے پانی پانی ہولئے, عباس رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے, سنا  تمہارے چچیرے بھائی کیا کہہ رہے ہیں؟  آپ نے جواب دیا: بلکل سنا,  کہنے لگے : ابو سفیان سے کسے مراد لے رہے ہیں؟ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا قریش میں تمہارے علاوہ کوئی اور بھی ابو سفیان ہیں؟ کہنے لگے: وہ میرا ہی نام لے رہے ہیں؟ فرمایا: جی ہاں بلکل, پوچھا: کیا محمد کے دین میں ایسا بھی ہوتا ہے؟ کیا اس کے دین میں لوگوں کے منازل ومراتب  کا خیال بھی رکھا جاتا ہے, آپ فرمانے لگے: بلکل , محمد لوگوں کو ان کا مقام عطا کرتا ہے, آپ اب اپنی تلواریں نیچے کر لیتے ہیں, محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوجاتے ہیں, یہ آپ کو کچھ نہیں کہتے, نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہوجاتے ہیں, بعض روایات میں ذکر ہے, کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے بتوں کو توڑا نہیں, بلکہ ان کی طرف صرف اشارہ کیا, اور وہ یک بعد دیگرے ٹوٹ ٹوٹ کر گرتے رہے, آپ بوقت اشارہ فرماتے: ( وقل جاء الحق وزہق الباطل, إن الباطل کان زہوقا, بل نقذف بالحق علی الباطل) اس طرح سے سارے صنم چور چور ہوگئے.

یہاں پر ابو سفیان نے ایک عجیب منظر دیکھا, جس سے آپ بہت متاثر ہوئے, یہ منظر بلال رضی اللہ عنہ سے متعلق تھا, جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہونے کے لئے اوپر چڑھے, آپ نے آواز لگائی, بلال کہاں ہیں؟ بلال پر یہاں بہت ظلم ہوا تھا, یہاں دس ہزار صحابہ ہیں, جن میں بڑے جلیل القدر صحابہ بھی ہیں , ابو بکر, عمر, علی وغیرہم سب ہیں, آپ آواز لگاتے ہیں, بلال کہاں ہیں؟  بلال رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم, آپ نے انہیں بلایا, ادھر آؤ, ادھر آؤ, آپ آئے, آپ نے فرمایا: چلو اندر خانہ کعبہ کے اندر میرے ساتھ صرف تم نماز پڑھوگے, اسے کہتے ہیں انسان کی تعظیم وتکریم, یہ ہیں انسانی حقوق کی پاسداری, گویا آپ ان سے فرمارہے تھے,آؤ, تم حبشی غلام ہو, تمہیں انہوں نے مارا, بے گھر کیا, بے عزت کیا, مارنے کی دھمکی دی, تم پھر بھی کہتے رہے ( احد, احد...), آؤ, میرے ساتھ نماز پڑھو, جب بیت اللہ میں نماز ادا فرما چکے,  تو آپ نے سمجھا کہ اب تکریم وعزت افزائی تمام ہوی, لیکن ایسا نہیں تھا, بلکہ نکلتے ہوئے بھی آپ نے بلال کو آواز دی, اور فرمایا: بلال کہاں ہو, آؤ, کعبہ کی چھت پر چڑھو, ابھی ایک اور منظر باقی ہے, اوپر چڑھو, جب آپ چڑھنے لگے, چھت لمبی تھی, دیواریں بھی بلند تھیں,صحابہ کرام  آپ کے قریب آگئے, سب سے قریب تر یہاں ابو بکر وعمر تھے, حضرت بلال نے اپنے دائیں پیر کو ابوبکر کے دائیں کاندھے پر, اور دوسرے پیر کو عمر رضی اللہ عنہ کے کاندھے پر رکھا, آپ دونوں نے انہیں اٹھایا, یہاں تک کہ آپ خانہ کعبہ پر چڑھ گئے, جب آپ کعبہ پر چڑھ گئے, تو آپ بلال کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اے بلال, اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں , یہ کعبہ اللہ کے نزدیک نہایت عظیم ہے,اور اللہ کی قسم آج کے دن تم اللہ کے نزدیک اس گھر سے بھی زیادہ عزیز ہو, اذان دو, بلال نے اذان دی, توحید کی صدا بلند ہوئی, لوگوں کی آنکھیں اس آواز کو سن کر اشکبار ہوگئیں, ابوسفیان یہاں بہت متاثر ہوئے,  جو دین, جو اسلام اس غلام کو یہ تکریم ووتوقیر عطا کرتا ہے, بلا شبہ وہ ایک عظیم دین ہے,  پھر آپ عباس بن عبد المطلب کی طرف متوجہ ہوئے, کہا: اے عباس, تم سمجھتے ہو, کہ اگر میں  تمہارے چچا زاد بھائی کے پاس جاؤں, تو مجھے قبول کر لیں گے,اگر میں اسلام میں داخل ہونا چاہوں, کیا میرے اسلام کو قبول کریں گے, آپ نے فرمایا: بلکل قبول کرلیں گے, کہنے لگے: کیسے قبول کر لیں گے؟ جب کہ میں نے اسے بے گھر کیا, ہجرت پر مجبورکیا, اس کے ساتھیوں کو میں نے بے گھر کیا, اس کے ساتھیوں کو قتل کیا, اس کو جادو گر کہا, شاعر کہا, کاہن کہا, دیوانہ او پاگل کہا, آپ نے کہا: ان کے پاس جاؤ, یعنی عباس رضی اللہ عنہ نے کہا, یہاں یہ بھی سمجھ لیں, کہ عباس بھی فتح مکہ ہی کے دن ایمان لائے, آپ نے ان سے کہا: ان کے پاس جاؤ,جب اس کے پاس پہونچ جاؤ, تو وہی کہنا جو یوسف کے بھائیوں نے یوسف سے کہا تھا, انہوں نے پوچھا: انہوں نے یوسف سے کیا کہا تھا؟ آپنے  بتلایا: کہ یوسف سے انہوں نے کہا تھا: (تاللہ لقد آثرک اللہ علینا, وإن کنا لخاطئین), پوچھنے اگر ایسا کہوں گا, تو مجھے قبول کرلیں گے؟ فرمایا: بلکل قبول کرلیں گے.

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس  پہونچ کے آپ کہنے لگے, اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم , میں اسلام میں داخل ہونا چاہتا ہوں, آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ ایک طرف کر دیا, کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تکلیف جھیلی تھی,  آپ عباس کی طرف متوجہ ہوئے, آپ نے انہیں مشورہ دیا, کہ دوبارہ کوشش کرو,اہل سیر کہتے ہیں کہ آپ پھر دوبارہ دوسرے سائڈ سے آئے, اور کہنے لگے: اے محمد میں آپ کے دین کو قبول کرنا چاہتا ہوں, آپ نے پھر رخ انور پھیر لیا,  آپ پھر عباس کی طرف متوجہ ہوئے, آپ پہاڑ پر تھے, آپ نے انہیں اشارہ کیا, کہ کوشش کرتے رہو, مایوس نہیں ہو, کہتے ہیں, کہ میں پھر آپ کے سامنے سے آپ کے پاس آیا, جب آپ سے نظریں ملیں, تو میں نے کہا: اے محمد (تاللہ لقد آثرک اللہ علینا, وإن کنا لخاطئین) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنے چہرے کو گرا لیا,  پھر آپ نے عباس کی طرف دیکھا: انہوں نے پھر یہی جملے دہرانے کااشارہ کیا, پھر انہوں نے دوبارہ کہا: (تاللہ لقد آثرک اللہ علینا, وإن کنا لخاطئین) تین مرتبہ آپ نے یہی جملہ دہرایا, پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو اٹھایا,  تو دیکھا کہ آپ کے انسو آپ کے رخسار مبارک سے بہہ رہے ہیں, اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو سفیان :( لا تثریب علیکم الیوم, یغفر اللہ لکم, وہو ارحم الراحمین) پھر ابن الزبیر کھڑے ہوئے, اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آج تو خونریز جنگ کا دن ہے, یعنی آپ ہم اپنے سارے بدلے چکائیں گے, آپ نے فرمایا, نہیں آپ کا دن  رحمت کا دن ہے, جاؤ, تم سب آزا د ہو, میں ساری کائنات کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں, پھر آپ نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی (وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین), یہاں پر ابو سفیان نے کلمہ پڑھا: (اشہد ان لا الہ الا اللہ, اشہد أنک رسول اللہ) اس کے بعد جوق در جوق لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے, اور مکہ اسلام می آغوش میں آگیا.

آپ کا ردعمل کیا ہے؟

like

dislike

love

funny

angry

sad

wow