آپ کا مزاق اڑانے والوں کا برا انجام
توہین رسالت کا انجام بد تاریخی شواہد کی روشنی میں
از قلم ساجد ولی.
بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس زمانے میں جب کہ انسانیت مختلف مشکلات ومصائب میں گرفتار ہے, اس کی نیا ڈوبنے کے کگار پر ہے, ظلم وستم کی چوطرفہ یلغار ہے, ہم انسانیت کے قائد ورہبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا مشاہدہ کررہے ہیں, یوں تو تاریخ میں انبیاء کے ساتھ ایسا سلوک بہت اچمبھے کی بات نہیں ہے, لیکن حالیہ ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف یہ زہر افشانی اہل ایمان کے لئے بڑی صبر آزما بھی ہے, اور تکلیف دہ بھی, ہمیں ایسے حالات میں اپنی کوتاہیوں پر نظر ثانی کرنی چاہئے, اور یہ یقین رکھنا چاہئے کہ ہر حادثے میں کوئی نہ کوئی منفعت اور حکمت الہی کارفرما ہوتی ہے, کتنے ہی سادہ لوح لوگ اس طرح کے حادثات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دریافت کی طرف مائل ہوتے ہیں, اور کتنے ہی لوگوں کو اس طرح کے واقعات ہدایت سے سرفراز کر دیتے ہیں, اور کتنے ہی غافل اپنی غفلت سے توبہ کرلیتے ہیں, اللہ تعالى نے قرآن میں ہمیں اس بات سے خبردار کیا ہے, کہ کوئی بھی شخص اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاق اڑاتا ہے, رسالت کی توہین کرتا ہے, یا آپ کو برا بھلا کہتا ہے, اس کا انجام دنیا وآخرت میں اچھا نہیں ہوتا, فرمان باری تعالى ہے { ولقد استہزی برسل من قبلک فأملیت للذین کفروا ثم اخذتھم فکیف کان عقاب}[ الرعد ۳۲],یعنی ایسے لوگوں کو پہلے ڈھیل دی جاتی ہے, پھر ان کی گرفت ہوتی ہے, اور پھر انہیں سخت سزا میں مبتلا کیا جاتا ہے, اس سیاق میں مندرجہ ذیل تفصیلات کا ملاحظہ کریں!
۱-عیسائی ہلاکو کی عیسائی بیوی کی وجہ سے پورے مغل قبیلوں کو نصرانیت میں داخل کرنے کے مقصد سے خوب دعوت وتبلیغ کرتے, ایک مرتبہ مغلوں کے کسی امیر کے نصرانیت میں داخل ہونے کی بنا پر بڑے بڑے پاردیوں کی جماعت مغلوں کی ایک کسی بڑی تقریب میں حاضر ہوئے, اس دوران نصرانی داعی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینا شروع کردیا, وہیں پر ایک شکاری کتا موجود تھا, جو کہ بندھا ہوا تھا, جیسے ہی اس نصرانی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوگالی دینے کی شروعات کی, یہ کتا غراتے ہوئے اس پر جھپٹا, اور اسے زخمی کرڈالا, بڑی مشکل سے اسے لوگوں نے اس کے چنگل سے بچایا, وہاں بیٹھے بعض لوگوں نے اس سے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوبرا بھلا کہنے کی وجہ سے ہوا ہے.
اس نصرانی نے یہ سن کر کہا: ایسا نہیں ہے,اس کتے کو ایسا لگا کہ میں انگلی سے اسے مارنے کا اشارہ کررہا ہوں, اس لئے اس نےمجھ پر حملہ کیا ہے, پھر دوبارہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوبرا بھلا کہنا شروع کردیا, تو دوبارہ اس کتے نے اپنی رسی توڑ کر اس عیسائی کی گردن پروار کیا, اور اس کی شہ رگ کو کاٹ ڈالا, اس کے اثر سے وہ ظالم وہیں پر ہلاک ہوگیا, اور اس منظر کو دیکھ تقریبا چالیس ہزار مغل اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے. [۱].
۲-کسری وقیصر کا واقعہ بھی اش ضمن میں غو رورفکر کے قابل ہے, آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی طرف دعوتی خطوط لکھے, دونوں نے اسلام میں داخل ہونے سے انکار کردیا, البتہ قیصر نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کی عزت کی, آپ کے سفیر کی تکریم کی, اللہ تعالى نے اس کی سلطنت کو باقی رکھا, اور کسری نے آپ کے خط کی توہین کی, اسے پھاڑ ڈالا, نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاق اڑایا, تو اللہ تعالى نےکچھ ہی دنوں میں اسے ہلاک کرڈالا, اس کی سلطنت کو پاش پاش کرڈالا, اور کسری کی حکومت کاخاتمہ ہوگیا. [۳].
۳-ابن اسحاق نے عروہ بن زبیر کے واسطے سے نقل کیا ہے, کہ جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے, آپ بیت اللہ کا طواف کررہے تھے, آپ کھڑے ہوئے, اور رسول اللہ بھی اس کے بغل میں کھڑے ہوگئے, آپ کے پاس سے اسود بن عبد المطلب کا گزر ہوا, حضرت جبریل علیہ السلام نے اس کے چہرے کی طرف ایک ہرا ورقہ پھینکا, تو اس کی بینائی جاتی رہی.
اسودہ بن یغوث کا گزر آپ سے ہوا, آپ نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا, وہ جان بحق ہوگیا.
ولید بن المغیرۃ کا گزر آپ سے ہوا, آپ نے اس کے ٹخنے میں موجود زخم کی طرف اشارہ کیا, تو وہ اس زخم کی تاب نہ لا سکا, او رجان بحق ہوگیا. [۶].
۴-ابو لہب ہی کو دیکھیں, جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا, اور آپ کی تکذیب وتوہین میں پیش پیش رہتا تھا, اسی نے آپ کو مخاطب کریہ کہا تھا ( تبا لک , الھذا جمعتنا؟), اس کی عورت بھی آپ کوسخت اذیت دیتی تھی, جس دن بدر میں مشرکوں کو شکست فاش ہوئی, اس دن اللہ تعالى نے اسے نہایت تکلیف دہ مرض میں مبتلا کیا, جسے مرض العدسہ کہتے تھے, جس سے لوگ بڑی گھن کرتے تھے, اسی مرض میں اس کی موت ہوگئی, یہاں تک کہ اس کے بچوں نے اسے ایک بڑے گڑھے میں لکڑی کے ذریعے دھکیلا, اور دفن کردیا, اور دور سے پتھر پھینک پھینک کر اس کی قبر کو ڈھک دیا.[۷].
۵-ابو لہب کا بیٹا عتبہ ایک مرتبہ اللہ کے نبی کو تکلیف دینے آپ کے پاس آتا ہے, او رآپ کومخاطب کرکہتا ہے, اے محمد, میں اس کا انکار کرتا ہوں, جو قریب ہوا, یہاں تک نیچے آیا, اور دو کمان یا اس سے بھی زیادہ قریب ہوگیا, یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بددعا کی,کہ اے اللہ تو اپنے درندوں میں سے کسی درندے کو اس پر مسلط کردے.
شام کی طرف سفر کے دوران اس کا گزر ایک جنگل سے ہوا, جو شیروں کا بسیرا تھا, ابو لہب اور قافلے کے لوگ ایک گرجہ گھر کے پاس ٹھہرے, ابو لہب کی ہدایت کے مطابق ان لوگوں نے گرجہ گھر پر عتبہ بن ابی لہب کے لئے بچھونہ بچھایا, اور اس کے ارد گرد اپنے لئے بچھونے بچھائے, راوی کا بیان ہے کہ رات میں اس جنگل سے ایک شیر نمودار ہوا, سب سے چہروں کوسونگتا ہوا, چھلانگ لگاکر وہاں چڑھا جہاں پر عتبہ بن ابی لہب کا بچھونا تھا, اس کا چہرہ سونگا, اور اسے دبوچ لیا, یہ دیکھ ابولہب کہنے لگا, مجھے معلوم تھا کہ یہ محمد کی بددعا سے بچ نہیں سکتا. [۸].
۶-انس بن مالک سے روایت ہے کہ ایک نصرانی اسلام کے دائرے میں داخل ہوا, سورۃ البقرۃ اور آل عمران کی تعلیم بھی حاصل کی, نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بوقت ضرورت تحریریں لکھنے لگا, لیکن پھر مرتد ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاق اڑانے لگا, او رکہنے لگا کہ محمد وہی کہتا ہے, جو میں اس کے لئے لکھتا ہوں, اللہ تعالى نے اسے جان بحق کیا, لوگوں نے اسے قبر میں دفن کر دیا, تو صبح لوگوں نے دیکھا کہ زمین نے اسے اگل دیا ہے, اور وہ باہر پڑا ہے, تین مرتبہ لوگوں نے اسے دفن کرنے کی کوشش کی , لیکن صبح ہوتی ہی لوگ اسے زمین سے باہر پڑا ہوا پاتے, جب اس کے ساتھیوں نے دیکھا تو لوگوں کے یہ بات سمجھ میں آئی کہ یہ محمد کے ساتھیوں کا کام نہیں ہے, اور پھر اسے اسی طرح زمین پر پڑا ہوا چھوڑ دیا.
۷-قاضی عیاض رحمہ اللہ نے نبی پاک کا مزاق اڑانے والے ایک شخص کا عجیب وغریب قصہ ذکر کیا ہے, آپ کہتے ہیں کہ ابراہیم الفزاری نام کا ایک شاعر مختلف علوم وفنون میں ماہر تھا, اللہ اوراس کے انبیاء کا خوب مزاق اڑاتا تھا, قاضی یحی بن عمر نے اس کے قتل , اور سولی دینے کا حکم صادر فرمایا, اسے چھری بھونک کر قتل کردیا گیا, اور سولی دے دی گئی, [۱۲], بعض مؤرخین نے ذکر کیا ہے کہ جب سولی والی لکڑی کو اٹھایا گیا, تو بلا واسطہ وہ لکڑی قبلہ کی طرف سے گھوم گئی, اور ایک کتا آیا, اور زمین پر اس کے بہتے ہوئے خون کو چاٹنے لگا, یہ دیکھ کر لوگ تکبیرات پڑھنے لگے, اور تعجب کرنے لگے.
۸-علامہ احمد محمد شاکر نے ایک خطیب کے متعلق لکھا ہے, کہ ایک مرتبہ وہ اپنے خطبے میں کسی بڑے حکومتی اہل کار کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے ( جاءہ الأعمی, فما عبس وما تولی), جس جملے میں نبی پاک کی توہین تھی, آپ لکھتے ہیں کہ میں نے اس شخص کو کچھ ہی سالوں کے بعد بڑی قابل رحم حالت میں قاہرہ کی مسجد لوگوں کی جوتیاں سیدھی کرتے ہوئے دیکھا.
۹-بعض اہل علم نے ذکر کیا ہے, کہ ایک طالب علم کسی مغربی یونیورسٹی میں تعلیم جاصل کرنے گیا, اس کی تھیسس نبی پاک سے متعلق تھی, اس کے تھیسس کے مشرف نبی پاک سے بغض رکھنے والے حاسد قسم کے غیر مسلم تھے, اس نے یہ شرط لگائی کہ وہ اسی صورت میں اس کی تھیسس کو پاس کرے گا, جب وہ اس میں نبی کی شان میں گستاخی کرے گا, اس نے اس کی بات مان لی, جب وہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد گھر لوٹا, تو اس کے سارے بچے, اور اہل خانہ اچانک خطرناک اکسیڈنٹ میں جان بحق ہوگئے.
۱۰-اس ضمن میں ایک عجیب وغریب واقعہ شیخ الإسلام ابن تیمیہ نے الصارم المسلول میں ذکر کیا ہے, کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ جو جن اللہ کے نبی پر ایمان لائے تھے, یہ ان کافر جنوں کو قتل کردیا کرتے, جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برابھلا کہتے, آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اس عمل کو سراہتے. [۱۴]. اسی ضمن میں اصحاب مغازی سے منقول ہے کہ جبل ابی قبیس پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مشتمل کچھ اشعار سنائی دئے, اس آواز پر تین دن بھی نہیں گزرے تھے, کہ اس پہاڑ سے ایک اور آواز آئی, جو اس طرح سے تھی:
نحن قتلنا فی ثلاث مسعرا*إذ سفہ الحق وسن المنکرا
قنعتہ سیفا حساما مبترا*بشتمہ نبینا المطہرا
یعنی ہم نے تین دن کے اندر مسعر جن کو اس وقت قتل کرڈالا, جب اس نے حق کو بے ہودگی سے تعبیر کیا, اور منکر کی شروعات کی, میں نے ہمارے نبی پاک کو گالی دینے کے جرم میں اس پر تیز دھار تلوار سے وار کیا.
۱۱-روایت کی جاتی ہے کہ غورث بن الحرث نے اپنے دوستوں کے ساتھ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے ارادے کا اظہار کیا, تو انہوں اس سے دریافت کیا, تم انہیں کیسے قتل کروگے, اس نے اپنا طریقہ بتلایا, میں ان سے کہوں گا مجھے اپنی تلوار دکھلاؤ, جب وہ مجھے اپنی تلوار دے دیں گے, تو میں انہیں قتل کرڈالوں گا, وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے, اور اپنے پلان کے مطابق آپ سے آپ کی تلوار مانگتا ہے, آپ اپنی تلوار اسے دے دیتے ہیں, تو اس کے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں, اورتلوار ہاتھ سے گر جاتی ہے, آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی یہ حالت دیکھ کر کہتے ہیں" تمہارے اور تمہارے ارادے کے درمیان اللہ تعالى حائل ہوگیا". [۱۵].
۱۲-اسی طرح کی روایت ابو جہل کے متعلق تفسیر ابن کثیر میں اس طرح سے ملتی ہے کہ وہ ایک دفعہ اپنی قوم سے وعدہ کرتے ہوئے کہتا ہے, لات وعزى کی قسم میں نے اگر محمد کو نماز ادا کرتے ہوئے پایا, تو میں اس کی گردن پر چڑھ جاؤنگا, اور اس کے چہرے کو مٹی میں ملا دوں گا, آپ نماز کی حالت میں ہوتے ہیں, وہ آتا ہے, تاکہ آپ کی گردن پر چڑھ جائے, لیکن اچانک وہ پیچھے ہٹتے ہوئے نظر آتا ہے, اور اپنے ہاتھ سے کسی چیز کو اپنے سے دور کرتا ہوا دکھتا ہے, اس سے لوگ پوچھتے ہیں کیا ہوگیا؟ تو وہ بتلاتا ہے, میرے اور ان کے درمیان ایک آگ کی حندق حائل ہوگئی...رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اگر وہ مجھ سے قریب ہوتا, تو فرشتے اس کے ایک ایک عضو کو اکھاڑ ڈالتے.[۱۶].
۱۳-ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ قریش کے لوگ حجر اسماعیل میں جمع ہوئے, اور باہم ایک دوسرے سے لات وعزی کی قسم کھا کر عہدوپیمان کہ اگر انہیں محمد نظر آگئے, تو وہ سب ایک شخص کے مانند آپ پر وار کریں گے, اور آپ کو قتل کرکے ہی لوٹیں گے, یہ سن کر آپ کی دلاری بیٹی فاطمہ آپ کے پائی دوڑی دوڑی آئی, اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو خبردار کیا, کہ آپ کی قوم کے یہ بڑے لوگ آپ کے قتل پر متفق ہوچکے ہیں, جیسے ہی آپ کودیکھیں گے, ایک وار میں آپ کو جان بحق کردیں گے, آپ نے بڑے تحمل کے ساتھ فاطمہ سے کہا: بیٹی پانی لے کر آؤ, آپ نے وضو فرمایا, پھر مسجد میں اس کے پاس خود چل کر گئے,جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو کہنے لگے, یہ وہ رہے,جس کا تم انتظار کررہےتھے, جب انہوں نے آپ کو دیکھا, تو نظر ملانے کی بھی طاقت نہ رہی, چہرے جھک گئے, ٹھوڈیاں سینے کے لگ گئیں, ایک شخص میں بھی یہ جرأت نہ ہوئی, آپ کی طرف ہاتھ تک بڑھائے, آپ ان کے پاس گئے, اور کھڑے ہوکر مٹی لی, اور ( شاہت الوجوہ) کہتے ہوئے پر اسے پھینک دیا, یہ مٹی جن کو بھی پہونچی, وہ سارے کے سارے جنگ بدر میں مقتولین کی فہرست میں شامل تھے. [۱۷].
۱۴-نبی پاک کی آبرو کی حفاظت کا ایک الہی طریقہ یہ ہے کہ آپ کے دشمنوں کو اللہ آپ کے دوستوں میں تبدیل کردیتا ہے, جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ مشہو رہے, اس بات میں حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا واقعہ بڑا دل چسپ ہے, جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی , اور بچپن کے دوست بھی تھے, جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا ہوئی, تو یہ آپ کے شدید دشمن بن گئے, آپ کى صحابہ کوبرا بھلا کہتے رہے, آپ کو خوب برا بھلا کہا, اللہ تعالى نے انہیں ہلاک نہیں فرمایا, انہیں ہدایت دے کر آپ کا جگری دوست بنا دیا, ابوسفیان رضی اللہ عنہ اپنے متعلق کہتے ہیں, جب میرے دل میں اللہ نے اسلام کی محبت ڈالی, تو میں میری بیوی, اور میرا بچہ آپ کے در پر حاضری کے لئے چل پڑے, ابواء میں اتر کر اپنا حلیہ تبدیل کیا, یہاں تک کہ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آگیا, جب آپ نے مجھے نظر بھر کردیکھا, تو مجھ سے نظریں پھیر لیں, اور دوسری طرف گھوم گئے, میں بھی دوسری طرف گھوم گیا, لگاتار میں آپ کا تعاقب کرتا رہا, آپ کے آگے پیچھے چلتا رہا, آپ مجھے سے اعراض کرتے رہے, بات ہی نہیں کرتے تھے, یہاں تک کہ میں نے قسم کھائی کہ یا تو رسو ل اللہ میرے لئے اجازت دے دیں, یا پھر میں اپنے بچے کا ہاتھ تھام کہیں نکل جاؤنگا, او ربلا کھائے پیئے بھوکا پیاسا کہیں مر جاؤنگا, جب آپ نے یہ بات سنی, تو آپ کا دل موم ہوگیا, اور میرے لئے اجازت مرحمت فرمادی.[۲۰].
قارئین کرام! ایسا ہوتا چلا آیا ہے,اور ہوتا رہے گا, ہمیں ایسے موقع پر اپنے نبی کا تعارف دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے, اور اس کے اخلاق وکردار کی روشنی میں اپنے اخلاق وکردار کوسنوارنا ہےو اور یہ یقین رکھنا ہے, کہ آپ کا مزاق اڑانے والے نہ تو دنیا میں چین سے رہ سکتے ہیں, اور نہ آخرت میں مرنے کے بعد انہیں سکون نصیب ہوگا, اللہ ہمیں اپنے نبی کا سچا شیدائی بنائے, اور اس کا حق اتباع ادا کرنے کی توفیق دے.
آپ کا ردعمل کیا ہے؟