آل حسین کی نظر میں ان کے قاتل کون؟
از قلم ساجد ولی
جرائم اور اثبات جرائم میں چھوٹی چھوٹی تفصیلات حق وباطل کی بنیاد بن جاتی ہیں, ہمیں ذرا سے واقعے کی حقیقت تک پہونچنے میں بڑی بڑی دقتیں پیش آتی ہیں, شہادت حسین کا واقعہ تو اتنا عظیم ہے, کہ اس میں نقطہ نظر کا اختلاف عین ممکن نہیں, بلکہ یقینی ہے, اس میں ہر متہم کے مجرم ہونے کا امکان بھی ہے, اور بری ہونے کا احتمال بھی, حقیقت تو یہ ہے کہ اس باب میں ہمیں نہ حب آل بیت کا دعوى کرنے والے کوفیوں کی واہی تباہی پر دھیان دھرنا چاہئے, اور نہ ہی کسی او رفریق سے شواہد لے کر کسی پر فرد جرم عائد کرنی چاہئے, ہمیں خود آل بیت سے دریافت کرنا چاہئے, کہ آپ کی نظر میں کون مجرم ہیں, اور کن لوگوں نے آل بیت نبی پر ظلم کیا؟ اور کن لوگوں نے ان کے ساتھ مکروفریب کاری سے کام لیا, چنانچہ آل بیت رسول کے ان اقوال پر غور کریں, اور خود فیصلہ کریں, کہ ان شواہد کی روشنی میں کون مجرم ہے, اور کس نے ہنگاہوں کے بازار میں خود کو سرخرو کرنے کی کوشش کی ہے.
-اعیان الشیعہ نامی کتاب ۱/۳۴ پر سید محسن الامین لکھتے ہیں: ( حسین کے ہاتھ پر بیس ہزار اہل عراق نے بیعت کی, پھر انہوں نے آپ کے ساتھ دھوکہ کیا, آپ پر خروج کیا, اپنی گردنوں سے آپ کی بیعت اتار ڈالی, اور بالآخر آپ کو قتل کرڈالا).
-مفید کی الارشاد ۲۳۴, اور اعلام الوری باعلام الہدی ۲۴۲ پر حر بن یزید کا یہ خطاب نقل ہے: ( تم نے اس نیک بندے کو بلایا, یہاں تک جب وہ تمہارے پاس آگئے, تو تم نے اسے حوالے کردیا, پھر اس پر ظلم کیا, تاکہ تم اسے قتل کرسکو, اس کے بعد وہ تمہارے ہاتھوں میں قیدیوں کے مانند ہوگئے, پیاس کے دن تمہیں پانی نہ ملے).
-کتاب الاحتجاج ۲/۲۹ پر زینب بنت امیر المؤمنین رضی اللہ عنہا کا یہ قول مذکور ہے, آپ فرماتی ہیں: ( أما بعد! یا أہل الکوفۃ, یا أہل الختل, والغدر, والخذل... ہل فیکم إلا الصلف, والعجب, والشنف, والکذب اما بعد! اے کوفہ والو! یا غدر, خیانت, رسوائی, اور عقل سے پےدلو! تمہارے اندر صرف تکبر, اتراہٹ, کذب ودھوکہ دہی کے علاوہ کچھ بھی نہیں.
-ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ( یا أہل الکوفۃ سوؤۃ لکم ما لکم خذلتم حسینا, وقتلتموہ واتہبتم أموالہ وورثتموہ, وسبیتم نساءہ, ونکبتموہ, فتبا لکم وسحقا لکم اے کوفہ والو! برا ہو تمہارا, کیا ہوا ہے تمہیں تم نے حسین کو رسوا کیا, اور اسے قتل کرڈالا, اس کے مال لوٹ لئے, اس کے مال کے وارث بن بیٹھے, اس کے خاندان کی عورتوں کو قید کرلیا, اسے مصیبت میں ڈال دیا, ہلاکت ہو تمہارے لئے, دوری ہو تمہارے لئے...).
ایک اور روایت میں سیدہ زینب اہل کوفہ سے مخاطب کریوں کہتی ہیں: ( صہ یا أہل الکوفۃ تقتلنا رجالکموتبکینا نساؤکم, فالحاکم بیننا وبینکم اللہ یوم فصل القضاء . اہل کوفہ تمہارے مرد ہمیں قتل کرتے ہیں, اور تمہاری عورتیں ہم پر روتی ہیں, ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلے کے دن اللہ ہی فیصل ہوگا) .[نفس المہموم ۳۶۵ لعباس القمی, تظلم الزہراء ۲۶۴ للشیخ رضی بن نبی القزوینی].
-ابن الحنیف نام سے معروف محمد بن علی بن ابی طالب اپنے بھائی حسین رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ( یا أخی إن أہل الکوفۃ قد عرفت غدرھم بأبیک وأخیک وقد خفت أن یکون حالک کحال من مضی بھئی ! آپ اپنے والد, اور بھائی کے ساتھ اہل کوفہ کے غدر سے بخوبی واقف ہو, مجھے ڈر ہے کہ آپ کا حال بھی کہیں آپ کے پیش رووں کے مانند نہ ہو جائے ). [اللہوف لابن طاووس ۳۹, عاشوراء للإحسائی ۱۱۵, المجالس الفاخرۃ لعبد الحسین ۷۵ ومنتہی الآمال ۱/۴۵۴, على خطی الحسین ۹۶].
-خود حضرت حسین نے شیعوں پر لعنت کرتے ہوئے کہا تھا ( اللہم إن متعتھم إلی حین ففرقھم فرقا...فإنھم دعونا لینصرونا, ثم عدوا علینا فقتلونا یعنی اے اللہ اگر تو انہیں مزید زندگی عطا فرماتا ہے, تو انہیں مختلف فرقوں میں منتشر کردینا, انہوں نےہماری مدد کے لئے ہمیں بلایا تھا, پھر انہوں نے ہم پر ظلم کیا, اور ہمیں قتل کرڈالا). [الإرشاد للمفید ۲۴۱, واعلام الورى للطبرسی ۹۴۹ وکشف الغمہ ۲/۱۸, ۳۸].
-شیعی مؤرخ یعقوبی اپنی تاریخ میں لکھتا ہے: ( جب علی بن الحسین کوفہ میں داخل ہوئے, اور وہاں کی عورتوں کو روتے چلاتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا :" یہ ہم پر رو رہی ہیں, پھر ہمیں قتل کس نے کیا ہے"؟؟؟!!!.). [کتاب الاحتجاج ۲/ ۲۹].
-امام زین العابدین کوفہ کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں: ( ہل تعلمون أنکم کتبتم إلی أبی ثم قاتلتموہ وخدعتموہ, وأعطیتموہ من أنفسکم العہد والمیثاق ثم قاتلتموہ وخذلتموہ؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ تم نے میرے والد کی طرف رقعے لکھے, اور تم نے انہیں دھوکہ دیا, تم نے انہیں اپنا عہد وپیمان دیا, اور پھر تم نے ان سے جنگ کی, اور انہیں رسوا کیا). [تاریخ الیعقوبی ۱/۲۳۵].
-کتاب الاحتجاج ۲/۱۰ میں حسن بن علی اپنے شیعوں کے متعلق کہتے ہیں: ( یا اہل الکوفۃ! ذھلت نفسی عنکم لثلاث : مقتلکم لأبی, وسلبکم ثقلی, وطعنکم فی بطنی, وإنی قد بایعت معاویۃ فأسمعوا وأطیعوا, فطعنہ رجل من بنی أسد فی فخذہ فشقہ حتی بلغ العظم اے کوفہ کے لوگو! تمہاری تین باتوں پر میرا نفس بڑا تعجب میں ہے, وہ یہ ہیں میرے والد کو قتل کرنا, میرے ثقل کو مسلوب کرنا, اور میرے پیٹ پر تمہارے وار کرنا, میں نے معاویہ سے بیعت کرلی ہے, اس لئے سمع وطاعت سے کام لو, اس کے بعدبنو اسد کے ایک شخص نے آپ کی ران میں خنجر مارا, اور اسے ہڈی تک چیر ڈالا). [کشف الغمۃ ۵۴۰, الإرشاد للمفید ۱۹۰, الفصول المہمۃ ۱۶۲, مروج الذہب للمسعودی ۱/۴۳۱].
-ایک اور روایت میں حضرت حسن فرماتے ہیں: ( أری واللہ أن معاویۃ خیر لی من ھؤلاء یزعمون أنھم لی شیعۃ ...واللہ لئن آخذ من معاویۃ عھدا أحقن بہ دمی وأومن بہ فی أہلی خیر من أن یقتلونی فتشیع أہل بیتی, وأھلی یعنی میرے خیال میں معاویہ میرے لئے ان لوگوں سے زیادہ بہتر ہے, جو اپنے آپ کو ہمارا شیعہ کہتے ہیں, اللہ کی قسم میں معاویہ سےکوئی ایسا عہد وپیمان لے لوں, جس سے میں اپنا خون بچا سکوں, اور اپنے اہل کو مامون کرسکوں, میرے لئے زیادہ بہتر ہے کہ یہ لوگ مجھے قتل کردیں, اور میرے بال بچے, اور میرے اہل وعیال ضائع وبرباد ہوجائیں). [الاحتجاج ۲/۱۰].
گویا آل بیت خود اپنے شیعوں کو اپنا قاتل مانتے ہیں, اور حقیقت بھی یہی ہے, انہوں نے ہی حالات یہاں تک پہونچائے کہ حضرت حسین کی شہادت کا واقعہ پیش آیا, جس طرح سے یہود انبیا ء کے قاتل ہیں, اسی طرح سے بقول آل بیت خود ان کے شیعہ آل بیت کے قاتل ہیں, اللہ امت مسلمہ کو شر پسندوں کے شر سے محفوظ فرمائے. آمین.
آپ کا ردعمل کیا ہے؟