ماہ محرم کا روزہ
از قلم ساجد ولی
ماہ محرم کی ۱۰ تاریخ کو عاشوراء بھی کہتے ہیں, اور علی خلاف القیاس اس مہینے کی ۹ تاریخ کو تاسوعاء کہتے ہیں, عجیب وغریب اتفاق کی بات ہے, کہ اس دن ایک واقعہ ظلم وتشدد سے نجات سے تعلق رکھتا ہے, اور دوسرا واقعہ مبنی بر ظلم شہادت سے متعلق ہے, پہلا واقعہ قبل از اسلام کا ہے, اور دوسرا واقعہ بعد از اسلام نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد پیش آتا ہے, چونکہ یہود اس دن اس لئے روزہ رکھا کرتے تھے, کیونکہ اس دن اللہ تعالى نے حضرت موسی علیہ السلام کو فرعون سے نجات بخشی, اور ایک ظالم کو کیفر کردار تک پہونچایا, اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھ کر اپنی امت کو بھی صیام شکر کی تلقین فرمائی, صحابہ کرام ہوں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم یا پھر آل بیت اطہار اس روز روزہ رکھا کرتے, اور اسے اللہ کی عبادت میں گزارا کرتے, نفل روزوں میں یوم عرفہ کے روزے کے بعد یہ سب سے افضل روزہ ہوتا ہے, آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے یوں فرمایا ( صیام یوم عرفۃ أحتسب على اللہ أن یکفر السنۃ التی قبلہ, والسنۃ التی بعدہ, وصیام یوم عاشوراء أحتسب على اللہ أن یکفر السنۃالتی قبلہ) [رواہ مسلم ۱۱۶۲] یعنی یوم عرفہ کا روزہ ایک سال اگلے, اور ایک سال پچھلے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے, اور عاشوراء کا روزہ ایک سال پچھلے گناہوں کو مٹا دیتا ہے.
اسی لئے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم بھی عاشوراء کے روزہ کا اہتمام فرمایا کرتے, چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سےروایت ہے , آپ بیان کرتے ہیں( ما رأیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یتحری صیام یوم فضلہ على غیرہ إلا ھذا الیوم یوم عاشوراء وھذا الشھر یعنی شھر رمضان) [رواہ البخاری ۱۸۶۷] یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنوں میں عاشوراء کے روزے کا اہتمام فرماتے, اور مہینوں میں رمضان کا اہتمام کرتے.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو یہود کواس دن کے روزے کا اہتمام کرتے ہوئے پایا, آپ نے دریافت کیا, تو انہوں نے اس دن کو یوم صالح قرار دیتے ہوئے, بنو اسرائیل کی فرعون سے نجات کا ذکر کیا, اور بتلایا کہ موسی علیہ السلام نے اس دن اللہ کے لئے روزہ رکھا, تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بھائی موسی کی سنت کوجاری فرمایا, او رخود کو اس کا زیادہ حق دار سمجھا کہ آپ اور آپ کی امت بھی اس روزے کا اہتمام کریں, چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے, کہتے ہیں ( قدم النبی صلی اللہ علیہ وسلم المدینۃ فرأی الیہود تصوم یوم عاشوراء, فقال ما ھذا؟ قالوا: ھذا یوم صالح, ھذا یوم نجی اللہ بنی إسرائیل من عدوھم فصامہ موسی, قال: فأنا أحق بموسی منکم , فصامہ وأمر بصیامہ). بخاری کی ایک اور روایت میں ہے کہ انہوں نے آپ کو بتلایا ( ونحن نصومہ تعظیما لہ), اور دوسری روایت میں یہ ہے کہ آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا ( أنتم أحق بموسی منھم, فصوموا) یعنی ان یہود کے بالمقابل موسی علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے کے تم زیادہ حق دار ہو, اس لئے تم اس دن کا روزہ رکھو.
سنت نبویہ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انسان کو ۹ اور ۱۰ محرم کا روزہ رکھنا چاہئے, یا پھر صرف ۱۰ محرم کا روزہ رکھنا چاہئے, البتہ ۱۰ اور ۱۱ محرم کو روزہ رکھنے کا قول ضعیف ہے, کیونکہ جس روایت میں ایک دن پہلے, یا ایک دن بعد کا امر ہے, وہ کمزور ہے, بلکہ اس کے مقابلے میں وہ روایت زیادہ اصح ترین ہے, کہ آپ نے فرمایا( لئن بقیت إلی قابل لأصومن التاسع یعنی اگر میں اگلے سال تک زندہ رہا, تو میں ۹ محرم کا روزہ ضرور رکھوں گا) رواہ مسلم ۱۱۳۴, گویا آپ اور آپ کے صحابہ کرام ۱۰ محرم کا روزہ رکھتے رہے, اور ۹محرم کے روزے کی آپ نے خواہش فرمائی, لیکن زندگی نے مہلت نہ دی, اور آپ دنیا سے رحلت فرما گئے.
اب یہاں پر ایک اہم تنبیہ نہایت ضروری ہے, وہ یہ کہ ہم اس روزے کو کیا اس لئے رکھتے ہیں, کیونکہ حضرت موسی اور اس کی قوم اسے رکھا کرتے تھے, اور یا پھر ایک ظلم سے نجات کی خوشی میں ہم اسے رکھتے ہیں, یا پھر اس لئے رکھتے ہیں , کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھنے کی تلقین فرمائی؟ تو یقینا ہم اس روزے کا اہتمام اس لئے کرتے ہیں, کیونکہ اس کی تلقین ہمارے نبی نے فرمائی تھی, اور آپ نے اپنی امت کے لئے اسے مسنون قرار دیا, وگرنہ حضرت موسی علیہ السلام کی سنتیں , یا قوم یہود کے طور طریقے ہمارے لئے شریعت کی حیثیت ہرگز نہیں رکھتے, بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود موسی علیہ السلام کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ اگر وہ زندہ ہوتے, تو انہیں بھی میری اطاعت کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہوتا( لو کان موسی حیا لما وسعہ إلا اتباعی).
چنانچہ نہ کسی واقعے کی وجہ سے کسی کو شریعت بنانے, اور کسی سنت کے اجراء کا حق ہے, اور نہ ہی کسی سابقہ شریعت وروایت کی چلی آرہی پابندی مستند ومستدل ہوسکتی ہے, ہمارے لئے اس عمل کی اتباع لازم ہوگی, قانون وشریعت قرار پائے گی, جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر ہو, اور جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے جاری کیا ہو, شریعتیں تو متعدد ہیں, لیکن ہمارے لئے شارع کی حیثیت یا تو اللہ کی ہے, یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی, یہیں سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے, کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جاری کردہ کوئی بھی عمل شریعت قرار نہیں پاسکتا, اور نہ ہی اسے قابل اتباع قرار دیا جاسکتا ہے, اللہ تعالى ہمیں اس روزے کی توفیق دے, اور ہمارے نفل روزوں کو قبول فرمائے. آمین.
آپ کا ردعمل کیا ہے؟