شرکیہ عقائد اور روافض

از قلم ساجد ولی

Sep 7, 2024 - 22:57
Sep 7, 2024 - 23:04
 0  161
شرکیہ عقائد اور روافض

شرکیہ عقائد اور روافض

یہاں پر ہم شیعہ روافض کے ان بنیادی عقائد کو ذکر کرتے ہیں، جو ان کی اکثر کتابوں میں بڑی کثرت کے ساتھ مذکور ہیں، اور وہ قرآن وحدیث کی  روح اور اسلام کی بنیادی تعلیمات سے ذائریکٹ متعارض ہیں.

الله كے ساتھ شرك جلي كا ارتكاب:

محمد بن يعقوب الكليني اصول الكافي ميں (باب أن الأرض کلہا للہ) کےتحت لکھتے ہیں: ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت ہے،  وہ فرماتے ہیں کہ یقینا دنیا وآخرت سب امام کے لئے ہیں-  جہاں چاہے وہ انہیں رکھے،  اور جسے چاہے عطا فرماۓ -، اللہ کی طرف سے ان کے لئے ان دونوں میں تصرف روا ہے. (اصول الکافی 259 ).

اس عبارت سے ایک انصاف پسند مسلم کیا سمجھ سکتا ہے،  جبکہ اللہ تعالی اپنے کلام کی محکم آیات میں فرماتا ہے کہ ساری زمین اللہ کی ملکیت ہے،  اور جسے چاہے اس کی وراثت اسے عطا فرماتا ہے: ( ان الارض للہ یورثھا من یشاء) الاعراف (للہ ملک السماوات والارض)  البقرہ، (فللہ الآخرة والأولى) النجم (لہ ملك السماوات والارض)  الحديد (تبارك الذي بيده الملك وهو على كل شيء قدير)  الملك.

علی ہی اول اور آخر ظاہر اور باطن ہیں:

رجال الكشي میں ہے کہ علی نے فرمایا ( انا الاول وانا الآخر،  وانا الظاہر وانا الباطن، وانا وارث الارض) رجال الکشی 138.

یہ عقیدہ بھی سابقہ عقیدے کے مانند باطل اور شرکیہ عقیدہ ہے، علی رضی اللہ عنہ اس بہتان سے بری ہیں، آپ کبھی اس طرح کی بات نہیں کر سکتے تھے.

اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے ( ہو الاول والآخر والظاہر والباطن)  الحدید (وللہ ملک السماوات والارض) الحدید.

امام زمین کے مالک اور رب ہیں:

 مشہور شیعی عالم مقبول احمد نے سورہ زمر کی اس آیت (وأشرقت الارض بنور ربھا) کی تفسیر کچھ یوں کی ہے : "جعفر الصادق فرماتے ہیں: زمین کے رب امام ہیں، جب وہ خروج کریں گے،  تو ان کا نور ہی لوگوں کے لئے کافی ہوگا، انہیں سورج اور چاند کی روشنی کی ضرورت نہیں رہیگی". ترجمہ مقبول احمد 339.

آپ غور کریں کہ یہاں پر کس طرح سے امام کو رب قرار دیا گیا ہے،  جیسا کہ (بنور ربھا)  کی تفسیر امام کے زمین کے مالک اور رب ہونے سے کی گئی ہے.

شرک کا مطلب ولایت علی میں کسی کو شریک کرنا:

اسی طرح یہ شیعی مفسر آیت زمر (لئن أشرکت لیحبطن عملک،  ولتکونن من الخاسرین،  بل اللہ فاعبد وکن من الشاکرین)  کی تفسیر کے ضمن میں لکھتا ہے:" الکافی میں امام جعفر الصادق سے مروی ہے کہ اس کا مطلب ہے:" اگر تم ولایت علی میں کسی اور کو شریک کروگے،  تو اس کا نتیجہ تمہارے اعمال کی بربادی پر منتج ہوگا".

پھر قرآنی آیت ( بل اللہ فاعبد وکن من الشاکرین) کی تفسیر میں لکھتا ہے: ( یعنی: "اللہ کی اطاعت کےذریعے اسکی  عبادت کرو،اور اسکا شکر بجا لاؤ کیونکہ ہم نے تمہارے  بھائی،چچا کے لڑکے کو تمہارے بازوؤں کی طاقت بنا دیا"). ترجمہ مقبول احمد 932.

یہاں پر غور کرنے کی بات یہ ہے انہوں نے کس طرح سے اس آیت کی تفسیر میں امام جعفر الصادق پر بہتان تراشی کی ہے، جبکہ یہ ساری آیتیں توحید باری تعالی کے سیاق میں ہیں،  اور اس بات کی تعلیم کے لئے ہیں کہ اللہ ہی ہر شیئے کا خالق ہے،  اور وہی ساری عبادتوں کا لائق ہے،کس طرح ان آسان سی آیتوں کو شرک جلی تک کی دلیل بنا دیا گیا ہے،  اللہ انہیں اس کا مناسب بدلہ دے.

انس وجن کی تخلیق کا مقصد ائمہ کی معرفت:

اسی طرح اس شیعی مفسر نے قرآن کی مشہور آیت (وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون) کی تفسیر کے ضمن میں لکھا ہے کہ امام جعفر الصادق نے حسین رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالی نے جن وانس کو اس لئے پیدا کیا تاکہ وہ اسے پہچان لیں،  کیونکہ اگر وہ اسے پہچان لیں گے، تو اس کی عبادت کریں گے، اسی دوران ان سے کسی نے پوچھا کہ یہ معرفت باری تعالی کیا ہے؟ تو ان کا جواب تھا :" معرفت یہ ہے کہ لوگ اپنے زمانے کے امام کو جان لیں". ترجمہ مقبول احمد 1043.

ائمہ اہل بیت ہی اللہ کا وجہ اور عین ہیں:

کلینی نے اصول الکافی میں ذکر کیا ہے: "امام محمد باقر فرماتے ہیں: ہم ہی اللہ کا وجہ اور اس کی مخلوقات کے درمیان اس کی آنکھ، اور اس کے بندوں پر اس کا دست رحمت ہیں". اصول الکافی 83

اسی طرح کہتے ہیں: " ہم اللہ کی زبان ہیں،  ہم اللہ کا وجہ (چہرہ) اور اس کی مخلوقات کے درمیان ہم ہی اس کی آنکھ ہیں". اصول الکافی 84.

جنت وجہنم, اور علم غیب  علی کے تصرف میں ہیں:

ابو عبد اللہ جعفر الصادق سے ایک اور روایت نقل کی جاتی ہے کہ امیر المؤمنین صلاۃ اللہ علیہ یہ کہا کرتے تھے:" میں جنت و جہنم کے باب میں اللہ کا شریک ہوں....مجھے ایسی خصلتیں عطا ہوئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں ہوئیں، میں نے ساری اموات،ساری مصیبتوں،نسب ناموں اورفصل الخطاب سب چیزوں کو جان لیا ہے، مجھ سے پہلے لوگ میرے علم سے اوجھل نہیں، اور نہ ہی وہ میری نظروں سے غائب ہو سکتے ہیں ".

یہاں پر کس طرح سے صفات باری تعالی کو علی رضی اللہ عنہ کے لئے ثابت کیا گیا ہے. 

سارے ائمہ علم ما کان وما یکون رکھتے ہیں، اور جو ہوتا ہے انہیں کی مشیت سے ہوتا ہے:

اسی طرح شیعی مفسر مقبول احمد سورہ قصص کی آیت (کل شیء ھالک الا وجہہ)  کی تفسیر کرتے ہوۓ لکھتا ہے کہ جعفر الصادق اس آیت کی تفسیر کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ ہم ہی وجہ اللہ ہیں.  غور کرنے کی بات ہے کہ اس نے کس طرح امام کو لافانی الہ میں تبدیل کر دیا.

کلینی نے ( ان الائمہ یعلمون علم ما کان وما یکون وانہ لا یخفی علیہم شیء)  باب کے ضمن میں لکھا ہے: " ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں: میں زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے سب جانتا ہوں، جنت وجہنم میں جو کچھ ہے وہ بھی میں جانتا ہوں، جو ہوچکا وہ، اور جو ہونے والا ہے ان سب کا مجھے علم ہے". اصول الکافی 160.اسی طرح سے اصول الکافی میں لکھا ہے کہ وہ جس چیز کو چاہیں حرام کر دیں، اور جسے چاہیں حلال قرار دے دیں، اور وہ کبھی بھی وہی چاہتے ہیں جو اللہ چاہتا ہے. اصول الکافی 178.

ائمہ اپنی موت کے بارے میں جانتے ہیں، اور ان کی موت خود ان کے اختیار میں ہوتی ہے:

کلینی نے (الأئمہ یعلمون متی یموتون وانہم لا یموتون الا باختیارہم) باب کے ضمن میں لکہا ہے :" ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں: کوئی بھی ایسا امام اللہ کی مخلوقات پر اللہ کی حجت نہیں ہو سکتا جو یہ نہیں جانتا ہو کہ اسے کیا تکلیف لاحق ہونے والی ہے".الکافی 158.

جب کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: (قل لا یعلم من فی السماوات والارض الغیب الا اللہ)،  مزید فرمایا :(وعندہ مفاتح الغیب لا یعلمہا الا ھو) یہاں پر غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ان روافض نے اپنے اماموں کو علم غیب کے باب میں کس طرح سے اللہ کا شریک بنا دیا.

ائمہ کو ہر شخص کی زندگی کی ساری تفصیلات معلوم ہوتیں ہیں:

اسی طرح کلینی اسی کتاب میں ایک اور جگہ ( باب ان الائمہ لو ستر علیہم لاخبروا کل امرئ بما لہ وما علیہ)  کے ضمن میں لکھتا ہے:" ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ہین:" اگر تمہاری زبانوں کی لگامیں ہوتیں تو میں تم میں کے ہر شخص کو اس کے متعلق ساری تفصیلات بتلا دیتا".

ائمہ  فرشتوں انبیاء اور رسولوں کو دۓگئے سارے علوم کی معرفت رکھتے ہیں:

کلینی نے اصول کافی-جو کہ شیعوں کے یہاں سب سے معتبر مرجع کی کتاب مانی جاتی ہے-میں ( باب ان الائمہ یعلمون جمیع العلوم التی خرجت الی الملائکۃ والانبیاء والرسل علیہم السلام ) کے ضمن میں لکھا ہے:" سماعہ کے واسطے ابوعبد اللہ علیہ السلام سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالی کے دو علوم ہیں، ایک وہ جسے اپنے فرشتوں،  انبیاء، اور رسولوں پر ظاہر کیا، اب جو اس نے اپنے فرشتوں، انبیاء ورسل پر ظاہر  کیا ہے ہم نے وہ سب جان لیاہے, دوسرا  اللہ کا علم وہ ہے جسے اس نے اپنے لئے خاص کر رکھا ہے،،اس میں سے کوئی چیز اللہ کی طرف سے کسی مخلوق میں ظاہر ہوتی ہے،تو اسے ہمیں اور ہم سے پہلے کے ائمہ کو وہ بتلا دیتا ہے".

آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں کہ اس نے کیسے اپنے ائمہ کو فرشتوں,  انبیاء,  اور رسولوں سے بڑا عالم قرار دیا ہے، اور انہیں اللہ کے علم کا شریک بنا دیا ہے.

چاہے اصول کافی ہو یا اس کی طرح دوسری شیعوں کی مؤلفات ومراجع اس طرح کی قبیح باتوں سے بھری پڑی ہیں ،ہم نے یہاں پر بڑی معمولی تفصیلات ذکر کیں ہی، شیعوں کے مختلف زبانوں میں ایسے اشعار ہیں جو شرک  باللہ، ائمہ کی شان میں غلو سے لبریز ہیں، ان میں بعض کے اندر تو یہ یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ سارے انبیاء نے مشکلات میں علی ہی سے مدد مانگی تھی، اور اس نے ان سب کی مددبھی کی، چنانچہ نوح نے بوقت غرق آپ سے مدد مانگی،ابراہیم،.لوط،  ہود، شیث علیہم السلام نے آپ سے مدد مانگی ہوئی ہے، اور آپ نے ان کی مدد بھی کی ہے، اور یہ کہ علی کے معجزات بڑے عجیب وغریب ہیں،  اور یہ کہ علی ہر شیئے پر قادر ہیں. نعوذ باللہ.

یہاں پر چند مثالیں ذکر کی گئیں ہیں،  ان کی کتابیں اس طرح کے شرکیہ عقائد سے بھری پڑی ہیں، کیا ایسے عقائد اسلام کہلانے کے حق دار ہیں.

ان عقائد کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان آیات کے معانی پر ذرا تدبر کریں،  اور پھر اپنے خلاصہ تدبر کے میزان میں ان عقائد پر کوئی حکم لگاکر دیکھیں، شاید آپ بہت سارے ایسے نتائج تک پہونج جائیں،  جنہیں اس تحریر میں صراحت کے ساتھ نہیں لکھاگیا ہے:(اللہ لا الہ الا ہو الحی القیوم لا تاخذہ سنۃ ولا نوم لہ ما فی السماوات وما فی الارض). (اللہ خالق کل شیء وہو علی کل شیء وکیل)  (ولا یشرک فی حکمہ احد)  (ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخاسرین)  (ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء)  (انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ. الجنۃ وماواہ النار)  (ان اللہ لا یخفی علیہ شیء فی الارض ولا فی السماء).

یہ ساری الہی صفات اور خالق کائنات کی خصوصیات ہیں,  جن کو مخلوق کےلئے ثابت کرنا شرک اکبر ہے, روافض کی کتابوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ شاید کوئی ایسی الہی صفت یا خصوصيت نہ بچی ہوگی جو انہوں نے اپنے ائمہ کے لئے نہ ثابت کی ہو. اللہ ہمیں شرک سے محفوظ رکھے،  اور توحید پر قائم ودائم رکھے آمین.

آپ کا ردعمل کیا ہے؟

like

dislike

love

funny

angry

sad

wow