جنگ احد کا عجیب وغریب قصہ
از قلم ساجد ولی
جنگ احد میں ایک نہایت دردناک قصہ پیش آیا, ایک کافر نے ایک گڑھا کھودا,کہا جاتا ہے کہ اس نے یہاں آٹھ دن انتظار کیا, ہمیں معلوم ہے کہ پورا مدینہ پہاڑوں, اور چٹانوں سے گھرا ہے,یہ اس امید میں یہاں گھڑا کھودتا ہے کہ ہوسکتا ہے محمد کا یہاں سے گزر ہو,تو وہ اس میں گر جائیں گے,جب جنگ احد ہوئی, دوران جنگ اللہ کے رسول اس گڑھے کو نہیں دیکھ پائے, اور اس میں گر گئے, اور آپ کا چہرہ مبارک ایک پتھر سے ٹکرا گیا,خون بہنے لگا, نبی پاک نے جنگی خود پہن رکھی تھی, جب آپ اس گڑھے میں گرے, تو آپ کی پیٹ اور سر کو تکلیف پہونچی, اور آپ کے اگلے چاروں دانت ٹوٹ گئے, آپ نے کھڑے ہونے کا ارادہ کیا, توایک کافر نے آپ کو دیکھ لیا, کہ آپ کھڑے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں, اس نے اللہ کے رسول کے سر پر تلوار ماری, تو آپ کی خود کا لوہا آپ کے چہرے میں گڑ گیا, اور مزید تیزی سے خون سے بہنے لگا, صحابہ کرام رونے لگے, یہیں سے یہ افواہ عام ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے ہیں, سب سے پہلے ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی طرف بڑھے, اور آپ کو اٹھاکر کہنے لگے, میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے خون بہہ رہا تھا, یہاں تک کہ بعض صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم خون کی کثرت سے آپ کی آنکھیں نہیں دیکھ پا رہے تھے, ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس خود کو آپ کے چہرے سے نکالنے کی کوشش کی , لیکن میں نہیں نکال سکا, آپ کے بعد ابو عبید بن الجراح رضی اللہ عنہ آگے بڑھے, اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہا, کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے لئے چھوڑ دو, آپ آگے بڑھے, اور آپ کو اٹھاکر زمین پر لٹا دیا, آپ نے بھی اس خود کو نکالنے کی بھرپور کوشش کی, البتہ نہیں نکال پائے, پھر اپنے دانتوں میں اسے دبا کرنکالنے لگے, آپ جوں جوں اسے نکالنے کی کوشش کرتے, آپ کے دانت کے بعض ٹکڑے ٹوٹ کر گرجاتے, آپ اسے تھوک دیتے, اور پھر کوشش کرتے, آپ ہر حال میں اس خود کو آپ کے چہرہ مبارک سے نکالنا چاہتے تھے, آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ کے چہرے سے بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا, آپ صلی اللہ علیہ وسلم خون کومنہ سے کلی کر کے پھینک دیتے, پھر خون آجاتا, لگاتار آپ اسی طرح کلی کرتے رہے, اور لگاتار اسی طرح سے خون نکلتا رہا, صحابہ کا بیان ہے کہ جب ہم نے دیکھا کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے دانت گر رہے ہیں, تو ایسا لگا کہ آپ سابقہ حالت سے مزید خوبصورت ہوگئے ہیں, اللہ تعالی نے آپ کو مزید حسن عطا فرمایا, کیونکہ یہی وہ صحابہ ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور سے خود کو نکالا, کہتے ہیں کہ خود کو نکال لیا گیا, آپ کا پورا چہرہ لہو لہان ہے, آپ کے دونوں گالوں پر اس کے نشان پڑ گئے, آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ پوچھنے لگے, صحابہ کرام آپ کے ارد گرد جمع تھے, آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرتے ہیں, ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں آپ اپنی امت کے لئے بد دعا تو نہیں کریں گے, ہم سب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوگئے, ہم نے سنا کہ آپ اپنی امت کے لئے دعا فرماتے ہوئے کہہ رہے ہیں: (اللہم اہد قومی فانہم لا یعلمون) اے اللہ میری قوم کو سیدھی راہ دکھلا, وہ نادان ہیں, اے اللہ میری قوم کو سیدھی راہ دکھلا, وہ نادان ہیں....
آپ کا ردعمل کیا ہے؟