وہ صحابی جس نے اپنی عقل مندی سے سارے مشرکین مکہ کو حیران کر دیا
از قلم ساجد ولی
کیا آپ عبد اللہ بن انیس نامی صحابی کو جانتے ہیں, یہ وہ صحابی ہیں جیسا کہ بخاری شریف میں ذکر ہے جن کو معلوم ہوا کہ ایک مکہ کا خالد الہذلی نامی شخص نے اپنے قبیلہ کے کچھ افراد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے جمع کیا ہے, اس مجموعے کی تعداد بعض روایتوں میں سو, بعض میں ایک ہزار ذکر کی گئی ہے, , ایک شخص نے آپ کو بتلایا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس کا نام خالد الہزلی ہے, اس نے آپ کو قتل کرنے کے لئے ایک ہزار لوگوں کی ٹیم تیار کی ہے, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی سنجیدگی سے فرمایا: وہ مجھے کیا قتل کرے گا, میں اسے قتل کرونگا, ان شاء اللہ,یہاں صحابہ کرام بھی بیٹھے ہوئے تھے, اللہ کے رسول نے یہاں پر اعلان کیا, جو بھی دشمن اسلام خالد کا سر لے کر آئے گا, اسے جنت ملے گی, سارے صحابہ ایک ساتھ کھڑے ہوگئے, ان میں سے ایک صحابی آگے بڑھ کر اللہ کے رسول سے کہتے ہیں, آپ اسے کیا دینگے, جواسے قتل کرے گا, اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو جنت ملے گی, عبد اللہ بن انیس یہ سن کر کہتے ہیں, میں اس کا سر آپ کے قدموں میں لا کر رکھوں گا, اللہ کے رسول نے اسے اجازت دے دی, کہ تم اپنے مشن پر روانہ ہوسکتے ہو, آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی صفت پوچھتے ہیں, آپ اسے نہیں جانتے, نہ پہچانتے تھے, آپ نے فرمایا: وہ اپنی قوم کا سردار ہے, زبان کا فصیح ہے,جب گفتگو کرتا ہے, تو سامنے والے کو خاموش کردیتا ہے, بہترین شاعربھی ہے,گفتگو کرتا ہے, تو شاعری زبان پر جاری ہوجاتی ہے, عبد اللہ بن انیس نے کہا: میں اسے قتل کرآپ کےپاس اس کا سر حاضر کردونگا, آپ کابیان ہے, کہ میں نکلا, اللہ کی قسم, نہ میں اسے پہچانتا تھا, نہ مینے کبھی اسے دیکھا تھا, میں مدینہ سےمکہ کے راستے دس دن تک چلتا رہا, دن میں سوتا, رات میں چلتا, کیونکہ گرمی بہت زیادہ تھی, جب میں مکہ پہونچا, تو میں نےایک حیلہ اختیار کیا, اور اعلان کیا: میرے اونٹ کو کسی نے دیکھا ہے؟ لوگوں نے آپ سے پوچھا: کیسا اونٹ تھا تمہارا؟ وہ لوگ جب جمع ہوگئے, تو میرے کان تو ان کی طرف متوجہ تھے, البتہ میری نگاہیں, چاروں طرف دشمن رسول کو تلاش رہیں تھیں,میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہم سے ذرا دوری پر جمع ہیں, میں نے پوچھا: یہ لوگ کیوں جمع ہیں؟ ایک شخص نے کہا: یہ خالد الہذلی ہیں, ہمارے قبیلے کے سردار, اپنے قبیلہ کے ساتھ میٹنگ کررہے ہیں, پوچھا: کس بات کی میٹنگ؟ آپ کو بتلایا گیا, یہ ایک محمد بن عبد اللہ نامی شخص کو قتل کرنے کی میٹنگ کررہے ہیں, جو سمجھتا ہے, کہ وہ اللہ کے رسول ہیں,آپ نے چوچھا: ان میں خالد کون سے ہیں؟ اس شخص نے بتلایا, وہ رہے, آپ فرماتے ہیں: میں نے اب خالد کو پہچان لیا, میں نے اچھی طرح سے اسے نظر میں بٹھا لیا, کہتے ہیں کہ میں اس کے پاس گیا , اور اسے سلام کیا, اس نے آپ سے پوچھا: کون ہو؟ آپ نے فرمایا: ایک عربی النسل شخص, جس کا اونٹ گم ہوچکاہے,اسے تلاشنے نکلا ہے, اسی دوران اسے خبر لگی, کہ تم ایک محمد نامی شخص کو قتل کرنے کی پلاننگ میں مشغول ہو,جو سمجھتا ہے, کہ وہ رسول اللہ ہے,اب میں بھی چاہتا ہوں, کہ اس کے قتل میں تمہارا ساتھ دوں, آپ فرماتے ہیں کہ یہ سن کر اس نے مجھے قریب کر لیا, میں نے اس موقع کو غنیمت جانا, اور اسی کوشش میں رہا, کہ میں اس سے قریب ہی رہوں, یہاں تک کہ میں نے اس پر نظر ڈالی, جب سورج غروب ہونے لگا, تو اس نے کہا: اے لوگو! آج کی رات آرام کرو, صبح اپنے مشن پر نکلیں گے, عبد اللہ بن انیس اس سے پوچھتے ہیں, اگر اجازت ہو, تو میں بھی تمہارے ساتھ خیمہ میں آرام کروں,اس نے پوچھا: تم کون ہو, کہ میرے ساتھ خیمے میں رات گزاروگے, فرمانے لگے: میں شاعر ہوں, میں رات میں آپ کے ساتھ کچھ شاعرانہ پل بتانا چاہتا ہوں, اس نے پوچھا: تم اشعار کے حافظ ہو, یا خود شاعری کرتے ہو؟آپ نے جواب دیا, مجھے یاد بھی ہیں, اور شاعربھی ہوں, خالد نے کہا: سناؤ تو ذرا, کہتے ہیں کہ میں نے اسے کچھ اشعار سنائے, تو اس نے بہت پسند کئے, پھر میرے اور اس کے درمیان بیت بازی ہونے لگی,اب وہ کہنے لگا کہ تم اس رات میرے ساتھ آرام کروگے, ابن کثیر رحمہ اللہ تعلیقا لکھتے ہیں کہ یہ تاریخ کی بہترین ترین بیت بازی تھی, آپ اس کے ساتھ خیمے میں داخل ہوگئے, بیت بازی شروع ہوگئی, قصیدہ پر قصیدے چلنے لگے, یہاں تک کہ وہ تھک گیا, اب آپ نے اس سے سونے کی اجازت مانگی, اس نے آپ کو سونے کی اجازت دے دی, کہتے ہیں کہ میں نے سونے کا ڈھونگ کیا, یہاں تک کہ مجھے اس کےخراٹے سنائی دینے لگے, فورامیں نے تلوار نکالی, اور اس کے سر کو قلم کیا, اور اسے تھیلی میں رکھا, اور دس دن لگاتار مدینہ پہونچنے میں لگے, جب آپ رسول اللہ کی مجلس میں اس کا سر لئے داخل ہوئے, اور اس کے سر کو آپ کے سامنے رکھا, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو دیکھتے ہی فرمایا: تمہارا چہرہ کامیابی سے ہمکنار ہو,آپ نے فرمایا: آپ کا چہرہ انور اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امانت میرے پاس ہے, حضرت عبد اللہ بن انیس کو اس سر سے کوئی سروکار نہیں تھا, آپ پوچھتے ہیں: جنت اے اللہ کے رسول؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھر ادھر دیکھا, تو وہاں پر آپ کو ایک لاٹھی پڑی دکھی, آپ نے اسے اٹھایا, اور فرمایا: اے ابن انیس یہ لو,جنت میں اسی پر ٹیک لگانا, اور جنت میں لاٹھیوں پر ٹیک لگانے والے بہت کم لوگ ہونگے, آپ فرماتے ہیں, میں اس لاٹھی سے بہت خوش ہوا, میں نے اسے لیا, اس کو ساتھ ساتھ لئے پھرتا, اسی کو لے کے سوتا, اسی کو لئے لئے نماز پڑھتا, اس کے ساتھ جہاد کرتا, یہاں تک کہ بوقت موت آپ نے وصیت فرمائی, کہ جب میں مروں, تو اس لاٹھی کو بھی میرے ساتھ غسل دینا, اس کی تکفین وتدفین کرنا,سیرت نگاروں کا بیان ہےکہ جب آپ کی وفات ہوئی, تو اس لاٹھی کو بھی آپ کے ساتھ دفن کیا گیا, اور مجھے یہ کامل یقین ہے کہ یہ لاٹھی قیامت کے روز عبد اللہ بن انیس کے ساتھ ہوگی, آپ جنت میں اس پر ٹیک لگائے ہوئے ہونگے, جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بشارت دی تھی.یا ذاکر الاصحاب کن متادبا+واعرف عظیم منازل الاصحاب (اے صحابہ کاتذکرہ کرنے والے, ادب سےکام لے, صحابہ کے عظیم مقام کو پہچان,ہم صفوۃ رفعوا بصحبۃ احمد+ وبذاک قد خصوا من الوہاب (وہ ایسی چنیندہ شخصیات تھیں, جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے لئے الہ وہاب کی طرف سے اختیارکی گئیں, اور بلندکی گئیں) وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم.
آپ کا ردعمل کیا ہے؟